جرمنی میں حکومتی بحران
آٹھ دسمبر دو ہزار اکیس سے بنی ہوئی جرمنی کی سہ جماعتی مخلوط حکومت، اب صرف دو جماعتی مخلوط حکومت ہے۔ یہ کب تک رہے گی کسی کو نہیں معلوم۔ فری ڈیموکریٹک یعنی ایف۔ ڈی۔ پی۔ نامی لبرل جماعت نے سوشل ڈیموکریٹک اور گرین جماعت کا ساتھ چھوڑ دیا ہے۔ یوں تو کافی عرصے سے اس ”زبردستی“ الحاق میں مشکلات پیش آ رہی تھیں بالخصوص گرین اور لبرل کے نظریات میں واضح فرق تھا/ہے۔
روس۔ یوکرین کی جنگ میں جرمنی کا نیٹو کی وجہ سے یوکرین کی مدد کرنا اور اس کے نتیجے میں روسی گیس کی جرمنی سپلائی بند ہونا، جرمن حکومت کے لئے بہت بڑا چیلنج ہے۔ ایف۔ ڈی۔ پی کے چیئرمین اور وزیر خزانہ مسٹر لنڈنر، مختلف حکومتی اصلاحی پروگراموں کے لئے پیسے ریلیز نہیں کرتے تھے اور ہر وقت پھڈا رہتا ہے /تھا
چانسلر آفس میں ہونے والی آخری میٹنگ میں بھی، آپس میں سخت بحث و مباحثہ ہوا۔ اور تینوں جماعتیں اپنے اپنے موقف پر ڈٹی رہیں اور کوئی سمجھوتا نہ ہو پایا۔ مجھے پاکستان میں سابقہ وزیراعظم عمران خان کا سائفر پیپر لہرانے کا سین یاد آ رہا تھا جب مسٹر لنڈنر نے اپنی پریس کانفرنس کے دوران دو لٹریری مختلف کاغذ دکھائے۔ ایک میں چانسلر شولز کا بیانیہ تحریر تھا اور دوسرے میں ان کا اپنا موقف لکھا ہوا تھا۔
چانسلر شولز چاہتے تھے کہ موجودہ سیاسی حالات میں دیگر معاملات کے ساتھ ساتھ یوکرین کو دی جانے والی امداد کے لئے Schuldenbremse نامی ”قرض بریک“ کو معطل کیا جائے لیکن وزیر خزانہ اس کے خلاف تھے اور اس پر عمل کرنے پر مصر تھے۔ شلدن بریمزے ایک ایسا مالیاتی ٹول ہے جو نئے قرضوں کی مقدار کو محدود کرتا ہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنی آمدنی سے زیادہ خرچ نہ کریں۔ یہ جرمنی کے بنیادی آئین کا بھی حصہ ہے۔ اس اختلاف پر چانسلر شولز نے وزیر خزانہ کو اپنے عہدے سے ہٹا دیا۔ جس پر لنڈنر کی جماعت کے وزراء نے بھی چانسلر کو استعفے پیش کر دیے اور اس طرح ایف۔ ڈی۔ پی نے مخلوط حکومت کو خیر باد کہہ دیا ماسوائے ایک وزیر نے اپنی جماعتی پالیسی کے خلاف چانسلر شولز کے ساتھ کابینہ میں رہنے کا فیصلہ کیا اور ایف ڈی پی کو چھوڑنے کا اعلان کیا تاہم کسی دوسری جماعت میں شمولیت نہ کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔
افسوسناک بات یہ بھی ہے کہ اس دراڑ کے بعد چانسلر شولز اور لنڈرنر نے، اپنی اپنی پریس کانفرنسوں میں ایک دوسرے کو اس حکومتی بحران کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے سخت الفاظ بھی ادا کیے۔
ٹرمپ کے صدارتی انتخابات جیتنے کے بعد یورپین یونین کو اپنے تئیں بہت سی مشکلات کا سامنا ہے اور جنہیں حل کرنے کے لئے، یورپین یونین میں جرمنی ایسے ملک میں ایک مضبوط اور مستحکم حکومت کی ضرورت تھی نا کہ اس بحران کا سامنا کرنا تھا۔
جرمن حزب اختلاف کی جماعتیں ؛ سی۔ ڈی۔ یو اور اے۔ ایف۔ ڈی، چانسلر شولز سے فوراً، پارلیمان سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے پر زور دے رہی ہیں۔ چانسلر شولز اور سی۔ ڈی۔ یو چئیرمن، مسٹر فریڈرک میرس کے درمیان ایک ملاقات صرف پینتیس منٹ کے بعد ختم ہو گئی۔ چانسلر شولز اپنی سہ جماعتی مخلوط حکومت میں پلان کیے ہوئے قوانین کو پاس کروانا چاہتے ہیں جو الحاق سے فری ڈیموکریٹک جماعت کے نکلنے کے بعد مشکل نظر آ رہا ہے۔ دوسری طرف حکومت مخالف جماعتوں کے پاس بھی، شولز کے خلاف، عدم اعتماد کے لئے اکثریت نہیں ہوگی۔ مسٹر میرس نے یہ شرط رکھی ہے کہ آئندہ ہفتے کے شروع میں، چانسلر پارلیمان سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرے تو ان کی جماعت چانسلر شولز کا ساتھ دینے کو تیار ہے۔ وگرنہ نہیں۔ چانسلر شولز نے جنوری میں پارلیمان سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ لیکن ہر طرف نئے انتخابات کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے


