اقبال کے شاہین اور خوشحال خان خٹک کے باز کا تقابلی جائزہ


ڈاکٹر علامہ محمد اقبال 9 نومبر 1877 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ آپ بیک وقت ایک شاعر، مصنف، قانون دان، سیاست دان اور فلاسفر تھے۔ آپ نے دو زبانوں اردو اور فارسی میں شاعری کی۔ آپ کی شاعری کا بنیادی مضمون تصوف اور احیائے امت (قوم کی احیاء) تھا۔ آپ نے اپنی شاعری کے ذریعے نئی نسل کی روح کو جگانے کے لیے شاہین کا تصور پیش کیا۔ شاہین علامہ اقبال کا پسندیدہ پرندہ تھا۔ آپ شاہین کی صفات جیسے کہ خود داری اور غیرت سے متاثر تھے۔ شاہین کبھی گھر نہیں بناتا ہے۔ ہمیشہ محوِ پرواز رہتا ہے۔ اقبال کے نزدیک یہی صفات مسلمانوں کی ہیں۔ لہذا آپ نے اپنی شاعری میں شاہین کو ترجیح دی ہے۔ آپ شاعر مشرق کے لقب سے مشہور ہیں۔

دوسری طرف خوشحال خان خٹک 1613 میں اکوڑہ خٹک کے مقام پر پیدا ہوئے۔ آپ بیک وقت ایک شاعر، صوفی، مصنف، سیاست دان صاحب قلم اور فلاسفر تھے۔ آپ نے دو زبانوں پشتو اور فارسی میں شاعری کی۔ آپ کی شاعری کا بنیادی متن پشتون قوم کا احیاء اور سامراج کے خلاف آواز نمایاں ہے۔ آپ نے اپنی شاعری میں باز کو اظہار کا ذریعہ بنایا۔ باز یا شاہین کو پرندوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے۔ آپ کے نزدیک یہی صفات ہر انسان میں ہونی چاہئیں۔ آپ شاعر شمال کے لقب سے مشہور ہیں۔

ایک طرف اگر علامہ اقبال نے اپنی شاعری کے ذریعے مسلمان قوم میں فکری انقلاب پیدا کیا۔ اور ہندوستان کو انگریزوں سے آزادی دلانے کے لیے قوم میں تڑپ پیدا کی۔ تو دوسری طرف خوشحال خٹک نے اپنی شاعری کے ذریعے سے پشتون قوم کو مغلوں کے خلاف نئی حرارت بخشی۔ اقبال اپنے افکار کی بدولت پاکستان کے قومی شاعر قرار پائے تو خوشحال خٹک افغانستان کے قومی شاعر اور پشتو زبان کے عظیم شاعر ٹھہرے۔

علامہ اقبال نے یورپ میں قیام کے دوران خوشحال خٹک کی شاعری کا انگریزی ترجمہ پڑھا۔ لہذا آپ خوشحال بابا کے نظریات سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے۔

علامہ اقبال اور خوشحال خان خٹک میں بہت زیادہ ذہنی ہم آہنگی اور مماثلت پائی جاتی ہے۔ علامہ نے اپنی شاعری میں شاہین کا تصور جبکہ خوشحال خٹک نے باز کا تصور دیا۔ شاہین کو پشتو زبان میں باز کہا جاتا ہے۔ شاہین یا باز کو پرندوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے۔ شاہین کے علاوہ کوئی اور پرندہ ایسا نہیں، جو نوجوانوں کے لیے قابل تقلید نمونہ بن سکے۔ شاہین بلند پرواز ہے عام پرندوں کی طرح نیچی پرواز اس کے شایان شان نہیں نوجوانوں میں بلند پروازی کی صفت پیدا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے مقاصد بلند ہوں، ان کی سوچ میں پستی نہ ہو

خوشحال خان خٹک اپنی شاعری کے ذریعے سے جہد مسلسل کی تعلیم دیتا ہے۔ جس طرح باز یا شاہین مسلسل جدوجہد کرتا ہے۔ اسی طرح انسانوں کو مسلسل جدوجہد کرنی چاہیے۔ آپ باز کی زندگی کو درویشوں کی زندگی سے تشبیہ دیتے ہے۔ خوشحال خٹک فرماتے ہیں کہ میری نظر ہمیشہ باز کی طرح بڑے شکار پر ہوتی ہے۔ کیونکہ باز کیڑے مکوڑے اور گندی چیزوں سے پرہیز کرتا ہے۔

اقبال فرماتے ہیں۔
نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کی گنبد پر
تو شاہین ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر

خوشحال خان خٹک کہتے ہیں۔ کہ وہی باز بنو جن کا ٹھکانہ پہاڑوں پر ہو۔ نہ کہ وہ جو پیٹ کے غم میں ہراساں ہو۔

المختصر ہم کہہ سکتے ہیں کہ علامہ اقبال اور خوشحال خان خٹک میں کافی ذہنی ہم آہنگی اور مماثلت پائی جاتی ہے۔ نوجوان نسل کو علامہ اقبال کا شاہین اور خوشحال خان خٹک کا باز بن کر تمام برائیوں کا خاتمہ کر کے دنیا کو امن و سکون کا گہوارہ بنانا چاہیے

Facebook Comments HS