آج کی عورت مضبوط اور پڑھی لکھی ہے


ایک وقت تھا جب عورت کو پاؤں کی جوتی سمجھا جاتا تھا۔ گھروں میں بھی امتیازی سلوک ہوتا تھا۔ لڑکوں کو ہر معاملے میں برتری حاصل تھی حتیٰ کہ بوٹیاں اور اچھا کھانا ان کی پلیٹ میں ڈالا جاتا تھا۔ تعلیم کے معاملے میں بھی لڑکوں کو ہی اہمیت دی جاتی تھی جبکہ لڑکیوں کو صرف دینی تعلیم تک ہی محدود رکھا جاتا تھا اور چھوٹی عمر سے ہی گھر داری اور دیگر امور سکھائے جاتے تھے کہ اس نے صرف گھر سنبھالنا ہے بچے پیدا کرنے ہیں اور جی حضوری کرنی ہے۔

گھر میں بچوں کی تربیت اس طرز پر کی جاتی تھی کہ لڑکا چاہے وہ چھوٹی عمر کا ہے گھر کے کاموں کو ہاتھ نہیں لگائے گا۔ اس کو حاکم بنا دیا جاتا تھا کہ بس وہ بیٹھ کر حکم چلائے ہر چیز اس کے سامنے حاضر ہو جائے ہر کام اس کے ایک اشارے پر ہو جائے۔

پھر وقت نے کروٹ لی نئے دریچے کھلنے لگے۔ لوگوں کی سوچ بدلنے کے ساتھ ساتھ نئی منزلیں طے ہونے لگیں۔ بیٹیوں کو بھی تعلیم دلوائی جانے لگی۔ جب پڑھی لکھی لڑکیاں مائیں بنی تو انھوں نے گھر کے ماحول کو بدلا۔ بیٹے اور بیٹی کے فرق کو مٹانا شروع کیا۔ جہاں مردوں کو اعلیٰ و ارفع اور خلائی مخلوق سمجھا جاتا تھا وہاں برابری کے اصول مرتب ہوئے۔ شعور اجاگر ہوا۔

آج کے ترقی یافتہ دور میں لڑکیاں ہر میدان میں اپنا لوہا منوا رہی ہیں۔ گاڑی موٹرسائیکل چلانے سے لے کر ہوائی جہاز اڑانے تک کا سفر طے کر رہی ہیں۔ پھر شعبہ تعلیم کا ہو یا کوئی اور لڑکیاں اپنی قابلیت اور صلاحیتوں کے بل بوتے پر آگے آئیں اور اپنی جگہ خود بنائی۔ نوکری کے ساتھ ساتھ گھر اور بچوں کو بھی بخوبی سنبھالتی ہیں۔ اپنے خواب بھی پورے کرتی ہیں اور اپنی ذمہ داریوں کو بھی نبھاتی ہیں۔ آج کی تعلیم یافتہ عورت مضبوط ہے جو اپنے اچھے برے سے واقف ہے سمجھدار ہے اپنے فیصلے لے سکتی ہے اپنے پیروں پر کھڑی ہے برے حالات کا ’مشکلات کا ڈٹ کر مقابلہ کر سکتی ہے اکیلے یا تنہا ہونے سے ڈرتی نہیں ہے نہ ہی بے قدری اور بے عزتی برداشت کرتی ہے اور نہ ہی اپنی عزت پر حرف آنے دیتی ہے۔ کیونکہ آج کی عورت پڑھی لکھی ہے باشعور ہے ہنر مند ہے۔

قدرت نے عورت کو خاص صلاحیتوں سے نوازا ہے وہ ایک وقت میں کئی کام بخوبی کر لیتی ہے۔ بچوں کی تربیت کی ذمہ داری بھی عورت پر ہی آتی ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ اب یہی پڑھی لکھی خواتین اپنے بیٹوں کی تربیت پر خاصی توجہ دے رہی ہیں تاکہ وہ معاون و مددگار اور اچھے مہذب انسان بن سکیں۔ گھر کا کام کرنا صرف ایک عورت کی ذمہ داری نہیں ہے مرد کو بھی تھوڑا بہت ہاتھ بٹانا چاہیے۔ اگر وہ بچوں کی دیکھ بھال کر لیتا ہے اپنے برتن اٹھا کر کچن تک لے جاتا ہے تو اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ باہر کے ملکوں میں پاکستانی و مشرقی مرد جا کر گھر کی صفائی بھی کرتے ہیں کھانا بھی پکاتے ہیں اور بہ خوشی باقی امور بھی سرانجام دیتے ہیں۔ تو پھر اپنے وطن میں رہتے ہوئے ان کو کیا ہو جاتا ہے۔ یہاں رہتے ہوئے بھی وہ اپنی بیوی کو انسان سمجھ سکتے ہیں اس کی مدد کر سکتے ہیں۔ ایک عورت کا تنہا پورے سسرال کو سنبھالنا کہاں کا انصاف ہے۔

جب ہم ایک دوسرے کا احساس کرتے ہیں مدد کرتے ہیں احترام و محبت دیتے ہیں تو رشتے مضبوط ہوتے ہیں ان میں پیار بڑھتا ہے۔ جب کام مل بانٹ کر کیا جاتا ہے تو کچھ بھی مشکل نہیں لگتا۔ ہم دفتروں میں ٹیم ورک کو پروموٹ کرتے ہیں تو گھروں میں کیوں نہیں کر سکتے۔ اگر عورت کو جذبات سے عاری صرف کام کرنے کی مشین سمجھ لیا جائے اس کی تکلیف کا مذاق بنایا جائے ڈرامہ سمجھا جائے بہو اور بیٹیوں میں فرق کیا جائے تو رشتے اپنی قدر کھو دیتے ہیں۔ ذہنی و جسمانی اور اعصابی طور پر مضبوط ماں ہی بہترین معاشرہ تخلیق کر سکتی ہے۔

دیکھنے میں یہ آتا ہے کہ اکثر گھروں میں پڑھی لکھی لڑکیاں دن رات چولہا ہانڈی کرتی ہیں ’جوائینٹ فیملی‘ مہمان نوازی سب نبھاتی ہیں حتیٰ کہ ان کو بیماری میں بھی آرام نصیب نہیں ہوتا نہ وہ بتا سکتی ہیں کہ کس تکلیف سے گزر رہی ہیں کیونکہ سننے اور سمجھنے والا کوئی نہیں ہوتا لیکن ان سب قربانیوں کے باوجود ان کو گھر کے فیصلوں میں شامل نہیں کیا جاتا ان سے باتیں چھپائی جاتی ہیں۔ دلوں میں کدورتیں پالی جاتی ہیں۔ جہیز کے طعنے سننے کو ملتے ہیں۔ اگر لڑکا ماں باپ کے اوپر انحصار کرتا ہے یا اس کی تنخواہ کم ہے تو اس لڑکی بے چاری کی تو زندگی ہی تباہ ہو جاتی ہے کیونکہ پھر وہ نوکرانی ہی بن کر رہ جاتی ہے۔

ماں باپ کے گھر میں سکون کی نیند سونے والی والدین کی شہزادی بھائیوں کی آنکھ کا تارا سسرال میں چپ چاپ سب تکالیف سہنے پر مجبور ہو جاتی ہیں کیونکہ گھر تو بسانا ہے۔ بچوں کی خاطر ماں باپ کی عزت کی خاطر سب برداشت کر لیتی ہیں اور کسی کو بھنک بھی پڑنے نہیں دیتی کہ اس پر کیا بیت رہی ہے۔ وہی بیٹیاں جو بات بات پر نخرہ کرتی تھیں اب اپنی نہیں دوسروں کی پسند نا پسند پر چلتی ہیں ہنسنا بولنا بھول جاتی ہیں سجنا سنورنا چھوڑ دیتی ہیں ہر وقت گھر کے کاموں میں ماسی بن کر رہ جاتی ہیں۔ حتی کہ جینا ہی بھول جاتی ہیں۔ عمر ڈھلتی ہے تو کئی بیماریاں گھیر لیتی ہیں لیکن کام ختم نہیں ہوتے۔ مرد حضرات نوکری سے ریٹائر ہو جاتے ہیں لیکن عورت کبھی ریٹائر نہیں ہوتی اس کے کام آخری سانس تک چلتے رہتے ہیں۔

ہمیں اب اپنی سوچ کو بدلنا ہو گا۔ ایک دوسرے کی ذمہ داریوں کو سمجھنا ہو گا۔ مل جل کر کام کرنے سے کام بٹ جاتا ہے بوجھ نہیں بنتا۔ سب سے بڑھ کر دل میں احساس اور خلوص پیدا کرنا ہو گا تاکہ ان اختلافات اور تفریق کو ختم کیا جا سکے۔ آج کسی کی لائی بیٹی کے ساتھ اچھا سلوک کریں گے تو کل کو ہماری بیٹی بھی اپنے گھر میں خوش رہے گی۔ یہ نہ بھولیں کہ دنیا مکافاتِ عمل ہے۔ عورت چاہے جس روپ میں بھی ہو اس کو مضبوط بنائیں۔ معاشی لحاظ سے جب وہ مضبوط ہو گی تبھی اس کے پاؤں زمین پر جم سکیں گے اور اگر وہ مستحکم ہے تو اس کو توڑنے کی کوشش نہ کریں۔ آسانیاں پیدا کریں۔ اس کی ہمت اور کام کو سراہیں۔ سوچ بدلے گی تبھی حالات بدلیں گے اور پھر ہی گھر کا ماحول بھی بہتر ہو سکے گا۔ خوشحالی و سکون گھر کے در و دیوار سے جھلکے گا اور یہ سب تبھی ممکن ہے جب ہم اپنی تربیت کے انداز کو بدلیں گے۔ اپنے بیٹوں کو ذمہ دار بنائیں گے تاکہ آگے چل کر وہ مضبوط سہارا بن سکیں۔

مرد کو اپنا مقام نہیں بھولنا چاہیے۔ اسے محافظ بننا چاہیے۔ پھر عورت کا کوئی بھی روپ ہو ایک مرد کو اس کی ڈھال بننا چاہیے تاکہ عورت اس کی موجودگی میں خود کو محفوظ پرسکون و پرامن محسوس کر سکے۔ جب عورت مضبوط ہو گی تبھی ایک پرامن تعلیم یافتہ اور مہذب معاشرے کی بنیاد پڑے گی۔

Facebook Comments HS