طاقتور ترین ٹیلی اسکوپ، طاغوتی اصطلاح کے تعارف کنندہ ساحل عدیم کی باتیں
دنیا میں اگر لمبی لمبی چھوڑنے کے مقابلے کا انعقاد کیا جائے تو یقین مانیں ہم دنیا میں ٹاپ پوزیشن پر ہوں گے، اس حوالے سے یہاں خاصا ٹیلنٹ موجود ہے۔ گزشتہ دنوں ایک پوڈ کاسٹ میں طاغوتی اصطلاح کو متعارف کروانے والے ساحل عدیم نے ایک بہت بڑا دعویٰ کیا ہے، اب اس طرح کے تجربات وطن عزیز کے کون سے حصے میں ہو رہے ہیں کوئی نہیں جانتا۔ ساحل عدیم کے دعویٰ جات ملاحظہ فرمائیں اور بیشک بیشک کا ورد کرتے جائیں۔
1۔ ہم دنیا کی سب سے پاور فل ٹیلی اسکوپ بنانے کی طرف گامزن ہو چکے ہیں۔
2۔ ایلگوردم تشکیل پا گیا ہے اور ہم بخوبی جان چکے ہیں کہ اس پروجیکٹ میں کتنی پلیٹس درکار ہیں۔
3۔ یہ سارے انتظامات پاکستان میں ہی کریں گے کیونکہ امپورٹ کرنے میں بہت سے اخراجات ہوں گے۔
4۔ یہ سارے فارمولے میتھمیٹکس سے نکلیں گے۔
5۔ ہماری ٹیلی اسکوپ ہبل ٹیلی اسکوپ سے دو اعشاریہ پانچ گنا مضبوط ہوگی۔
6۔ یہ 12 سے 15 سال کی عمر کے اسٹوڈنٹس ہیں جو اس پرجیکٹ پر کام کر رہے ہیں۔
7۔ اس پروجیکٹ کا نام قرآنک میتھمیٹکس ہو گا۔
موصوف اس سے پہلے بھی کئی ایک دعوے کر چکے ہیں، ایسا لگتا ہے شاید ”زید حامد“ کا نیو ورژن ہیں، وہ بھی دعووں کا پنڈورا باکس ہیں عین ممکن ہے کہ یہ بیچارہ زید حامد اپنے دعووں کی تکمیل کا خواب اپنی آ نکھوں میں سجائے زمین کا رزق بن جائے کون جانے بھائی؟
مذہب کو آج کی دنیا میں متعلقہ یا وائبرینٹ رکھنے کے لیے اپنے اپنے وقت میں علم الکلام کے بڑے بڑے اذہان جن میں مولانا وحید الدین خان، احمد دیدات، سید قطب، حسن البنا، مولانا مودودی، مولانا امین اصلاحی اور مولانا اسحاق شامل ہیں اپنے تئیں مخلصانہ کوششیں فرماتے رہے ہیں۔ ان شخصیات کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ انہوں نے مذہبی تشریحات کرنے میں سائنسی توجیہات کا زیادہ سہارا نہیں لیا بلکہ زیادہ تر مذہبی روایات کے پیرائے میں گفتگو کرتے تھے۔
لیکن آج کا مذہبی منظر نامہ خاصا بدل چکا ہے، مذہب کو اس کی اصل ڈومین سے نکال کر فلاسیفائز یا سائنٹیفک بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ جس سے سائنس کو تو کوئی فرق نہیں پڑے گا ہاں مذہب کا تقدس ضرور پامال ہو گا۔
جب آپ عقیدہ جس کا تعلق الوہیت سے ہوتا ہے کو خالص دنیاوی علم کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کریں گے تو اس کی اوریجنل حد ٹوٹ جائے گی۔ جب حد ٹوٹے گی تو ایک طرح سے آپ مذہب کو سوال کے کٹہرے میں کھڑا کر دیں گے، اب سوال یہ کھڑا ہو گا کیا عقیدہ میں سوال کی گنجائش ہوتی ہے؟ ظاہر ہے کہ عقیدہ پر سوال کیسا؟ جبکہ سائنس کی تو بنیادیں ہی سوال پر کھڑی ہوتی ہیں۔
ڈاکٹر ذاکر نائیک، جاوید احمد غامدی، احمد جاوید ان کے علاوہ اس فہرست میں کچھ ماڈرن طرز کے کلین شیو روحانی بزرگ بھی شامل ہیں، جو مذہب کو سائنسی پیرائے میں پیش کرتے ہیں اور اس کے اوپر فلسفہ و جدت کی اصطلاحات کا چھڑکاؤ کرتے ہیں اور اسے دیدہ زیب بنا کر بظاہر پڑھے لکھے طبقے کے سامنے پیش کر دیتے ہیں۔ یہ کچھ اس طرح کا تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ جو سائنسی انکشافات سامنے آ رہے ہیں یا جو سائنسی اذہان لیبارٹریز میں تجربات کی صورت میں ذہنی ریاضت کرتے ہیں اور کھوج لگا کر اپنی تحقیق سے دنیا کو حیرت میں ڈال دیتے ہیں وہ سب تو ہماری مقدس کتاب میں پہلے سے درج ہے۔
تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم صرف مذہب کی وربل سروس کی خاطر زمین پر اتارے گئے ہیں اور فطرتی حقائق کی کھوج کے لیے قادر مطلق نے کفار کو چن لیا ہے تو پھر اس سارے منظر نامے میں عظیم اور مہان کون ہوئے؟ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے تو بس کتاب مقدس میں چھپے ان خزانوں کو دریافت کیا ہے۔ حالانکہ ان میں سے بہت سے سائنسدانوں نے تو کتاب مقدس کا دیدار تک نہیں کیا ہوتا، بہت سے تو لامذہب ہیں اور جو کوئی مذہبی سوچ رکھتے بھی ہیں تو وہ تجرباتی لیبارٹری میں داخل ہونے سے پہلے مذہب کو باہر رکھ دیتے ہیں۔ چونکہ مذہب خالص عقیدہ ہوتا ہے جس میں یقین کی تو خاصی گنجائش ہوتی ہے لیکن تشکیک و تجربہ کو قابل گرفت جرم سمجھا جاتا ہے، جبکہ سائنس تو تشکیک و تجربہ، قبول اور رد کے سائے میں پروان چڑھتی ہے۔
کچھ چیزیں ”انٹرچینج ایبل“ ہوتی ہیں مطلب ایک دوسرے کی جگہ پر استعمال کرنے سے ان کی بنیادی بنت پر کوئی اثر نہیں پڑتا، لیکن مذہب کے ساتھ ایسا کچھ نہیں ہے، سائنس اور مذہب کے دائرہ کار بالکل ہی جدا جدا ہیں اور ان کے ایک ہو جانے کا زیرو پرسنٹ بھی امکان نہیں ہے۔
قدیم و جدید روایتی فکر ایک سی ہے بس ”کور“ کا فرق ہے، لمحہ موجود کی روایتی فکر پر جدیدیت کا اسٹیکر چسپاں ہے۔ بلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ ساحل عدیم، قیصر احمد راجہ اور کچھ موٹیویشنل اسپیکرز نے مذہب کی سائنسی تشریح میں غلو سے کام لیتے ہوئے مضحکہ خیزی میں اضافہ کیا ہے۔ یہ اس قسم کے ماڈرن لوگ ہیں جو خود کو جدیدیت کا نمائندہ تسلیم کروانے کے چکروں میں مذہب کی اصل روح ہی بگاڑنے میں لگے ہوئے ہیں۔
ساحل عدیم کی گفتگو بہت سارے مسائل کھڑے کر رہی ہے، مطلب یہ قرآنک میتھمیٹکس کیا ہوتی ہے اور یہ فارمولا ساحل جی نے کہاں سے اخذ کیا ہے؟ اس کے علاوہ ان کی اور بہت ساری مضحکہ خیز یاں ہیں جن کی کوئی گراؤنڈ نہیں ہوتی۔
ہماری نظر میں یہ کوئی مذہب کی خدمت نہیں ہے بلکہ آپ دوسروں کو خود پر ہنسنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔


