پاکستان ٹیم نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا
پاکستان نے 22 سال بعد آسڑیلیا میں سیریز اپنے نام کرلی۔ نئے کپتان محمد رضوان اور نوجوان کھلاڑیوں کے ساتھ کرکٹ شائقین کو پاکستان کرکٹ ٹیم سے کچھ زیادہ امیدیں وابستہ نہیں تھیں۔ لیکن محمد رضوان پرعزم تھے کہ پاکستان آسٹریلیا کو آسڑیلیا میں شکست دے سکتا ہے۔ اور پاکستان نے یہ کر دیا۔ سیریز کا پہلا میچ آسڑیلیا کے نام رہا جب سنسنی خیز مقابلے کے بعد آسڑیلیا نے دو وکٹوں سے فتح اپنے نام کی۔ اس کے بعد جمعہ کے روز ایڈیلیڈ اوول میں دن پاکستان کے نام رہا۔ جہاں پر پاکستان نے آسٹریلیا کو 163 رنز پر ڈھیر کر دیا۔ حارث رؤف نے پانچ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ جواب میں پاکستانی اوپنرز عبداللہ شفیق اور صائم ایوب کی ذمہ دارانہ بیٹنگ کی بدولت 9 وکٹوں سے فتح اپنے نام کی۔ اور سیریز 1۔ 1 سے برابر ہو گئی۔ یہاں پر صائم ایوب کی 82 رنز کی شاندار اننگز کا ذکر ضروری ہے جس نے فتح میں کلیدی کردار ادا کیا۔
اتوار کو سیریز کا فیصلہ کن میچ کھیلا گیا۔ جس کی کہانی بھی کچھ مختلف ثابت نا ہوئی۔ آسٹریلیا کے بلے باز پاکستانی بالرز کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئے پوری ٹیم محض 140 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ شاہین شاہ اور نسیم شاہ نے تین تین اور حارث رؤف نے 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ صائم ایوب اور عبداللہ شفیق نے ایک بار پھر مستحکم آغاز فراہم کیا لیکن 85 رنز پر دونوں اوپنرز پویلین لوٹ گئے۔ اس کے بعد اسٹار بلے باز بابر اعظم اور کپتان محمد رضوان نے مزید کسی نقصان کے 140 رنز کا ہدف حاصل کر لیا اور سیریز اپنے نام کی۔
اگر نمایاں کارکردگی دیکھی جائے تو یہ سیریز باؤلرز کے نام رہی۔ حارث رؤف نے تین میچز میں 10، شاہین شاہ آفریدی نے 8، اور نسیم شاہ نے 5 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ بیٹنگ میں صائم ایوب 3 اننگز میں 125 اور عبداللہ شفیق 113 رنز کے ساتھ نمایاں رہے۔
حارث رؤف کو بہترین بالنگ پر سیریز کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔ اور یوں پاکستان 22 سال بعد آسڑیلیا میں تاریخ رقم کرنے میں کامیاب ہوسکا۔ جو ایک طویل عرصے تک یاد رکھی جائے گی۔ یہاں پر محمد رضوان کی بطور کپتان بات کرتا چلوں رضوان نے پی ایس ایل اور ڈومیسٹک کرکٹ میں اپنی صلاحیتوں کو منوانے کے بعد قومی ٹیم کی قیادت سنبھالی اور یہاں پر بھی خود کو ثابت کیا اور جارحانہ انداز میں کپتانی کی بالرز کا استعمال نپے تلے انداز میں کیا۔ فیلڈ پلیسنگ بہت کمال کی رکھی اور بالرز نے کپتان کا مکمل ساتھ دیا۔ بلاشبہ یہ کہا جائے گا محمد رضوان اپنے پہلے مشکل امتحان میں با آسانی سرخرو ہو گئے ہیں۔
اور اگر یہ کہا جائے تو غلط نا ہو گا پاکستان کرکٹ ٹیم کا جو زوال کا سفر جاری تھا۔ وہ تھم سا گیا ہے۔ انگلینڈ کو ٹیسٹ سیریز میں 2۔ 1 سے شکست اور پھر آسڑیلیا کو آسڑیلیا میں شکست دینا۔ یہ دونوں فتوحات پاکستانی کرکٹ ٹیم اور فینز کے لیے نہایت ضروری تھیں۔ امید ہے پاکستانی کرکٹ ٹیم اس جیت کے تسلسل کو برقرار رکھے گی۔

