لاہور کی فضائی آلودگی: چیلنج


لاہور پاکستان کا دل اور ثقافتی ورثہ ہے، جسے باغوں کا شہر بھی کہا جاتا ہے۔ یہ شہر اپنے تاریخی مقامات، تعلیمی اداروں، اور کاروباری مواقع کے لیے جانا جاتا ہے۔ لاہور، پاکستان کا دوسرا سب سے بڑا شہر ہے، جہاں آبادی ایک کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ لاہور کی اہمیت صرف اس کے ثقافتی ورثے یا تاریخی عمارتوں تک محدود نہیں، بلکہ یہ شہر پاکستان کی معیشت کا اہم مرکز بھی ہے۔ لیکن افسوس کہ یہ شہر اب فضائی آلودگی اور سموگ کی بڑھتی ہوئی سطح سے ایک سنگین مسئلے کا سامنا کر رہا ہے۔

لاہور میں فضائی آلودگی ایک ایسا مسئلہ بن چکا ہے جس کا اثر نہ صرف عوامی صحت بلکہ شہر کی مجموعی فلاح و بہبود پر بھی پڑ رہا ہے۔ 2024 میں ائر کوالٹی انڈیکس (AQI) کا 800 تک پہنچنا ایک سنگین صورت حال کی نشاندہی کرتا ہے، جو صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ لاہور میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی کی وجہ سے لوگوں میں نزلہ، زکام، کھانسی اور بخار جیسے مسائل میں اضافہ ہوا ہے، اور یہ صرف اس لیے نہیں کہ لاہور کی فضا میں آلودگی کی سطح بہت زیادہ ہے، بلکہ اس کے ساتھ سانس کے امراض، دمہ اور دل کی بیماریوں میں مبتلا افراد کے لیے اس آلودگی کا سامنا کرنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔

سب سے بڑی تشویش کی بات یہ ہے کہ لاہور کی فضائی آلودگی اب صرف لاہور تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہ گوجرانوالہ، اسلام آباد، اور ملتان تک پھیل چکی ہے۔ اس کے نتیجے میں پورا پنجاب اور پاکستان کے دیگر علاقے بھی اس کی زد میں آ چکے ہیں۔

لاہور کی فضائی آلودگی اور سموگ کی مختلف وجوہات ہیں جن میں شہر کی بڑھتی ہوئی آبادی، صنعتی ترقی، اور نقل و حمل کے ذرائع شامل ہیں۔ ایک طرف تو شہر میں بڑھتی ہوئی گاڑیوں کی تعداد اور فیکٹریوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے آلودگی کو مزید بڑھایا ہے، دوسری طرف، لاہور میں درختوں اور سبزہ زاروں کی کمی نے اس مسئلے کو سنگین بنا دیا ہے۔ ماضی میں لاہور کے مختلف علاقوں جیسے ٹھوکر نیاز بیگ، قصور روڈ، اور رنگ روڈ کے اطراف میں درختوں کی بڑی تعداد تھی جو فضائی آلودگی کو جذب کرتے تھے۔ لیکن اب ان علاقوں میں درختوں کی کمی کی وجہ سے فضائی آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

اس کے علاوہ، لاہور کے مختلف صنعتی علاقوں اور فیکٹریوں سے نکلنے والے دھوئیں اور کیمیکلز بھی فضائی آلودگی میں اضافے کی بڑی وجہ ہیں۔ ان فیکٹریوں میں استعمال ہونے والے ایندھن اور مشینوں کے پرانے ماڈلز نے مزید آلودگی پیدا کی ہے۔ اس کے علاوہ، لاہور کے گردونواح میں واقع کھیتوں میں جلائے جانے والی فصلوں کی باقیات بھی سموگ کا ایک اور بڑا سبب ہیں، کیونکہ ان سے نکلنے والا دھواں لاہور کی فضاء میں مضر اثرات پیدا کرتا ہے۔

حکومتِ پاکستان اور حکومتِ پنجاب نے سموگ اور فضائی آلودگی کے خاتمے کے لیے مختلف منصوبے شروع کیے ہیں، لیکن ان منصوبوں پر عملی طور پر کم ہی عملدرآمد ہوا ہے۔ پنجاب حکومت نے 2030 تک ”سموگ فری پنجاب“ کا روڈ میپ پیش کیا ہے، جس کے تحت سموگ اور فضائی آلودگی کو کم کرنے کے اقدامات کیے جائیں گے، مگر یہ تمام اقدامات ابھی تک کاغذ تک محدود ہیں اور عملی طور پر ان کی کوئی واضح صورت نظر نہیں آ رہی۔ اس کے علاوہ، حکومت کی طرف سے عوامی آگاہی کی کمی، کمزور پالیسیوں، اور موثر نفاذ نہ ہونے کے باعث اس مسئلے پر قابو پانا مشکل ہو رہا ہے۔

سابق نگران وزیرِ اعلیٰ پنجاب، محسن نقوی کے دور میں لاہور میں سموگ کے مسئلے کے حل کے لیے کچھ اقدامات کیے گئے تھے۔ ان کے دور میں لاہور میں پہلی بار مصنوعی بارش کے ذریعے سموگ میں کمی لانے کی کوشش کی گئی تھی، جو کہ ایک انقلابی قدم تھا۔ اس کے علاوہ، ایک بار استعمال ہونے والے پلاسٹک بیگ پر پابندی اور متبادل اشیاء کی تشہیر کی گئی، لیکن ان اقدامات کو مستقل بنیادوں پر نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔

لاہور میں فضائی آلودگی اور سموگ کے مسائل پر قابو پانے کے لیے کچھ فوری اور طویل المدتی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ سب سے پہلے، شہر میں درختوں کی تعداد بڑھانا ضروری ہے۔ درخت نہ صرف آکسیجن کی فراہمی میں مدد کرتے ہیں بلکہ یہ فضائی آلودگی کو بھی کم کرتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ لاہور میں شجرکاری کی مہم کو تیز کرے اور شہریوں کو بھی اس میں شریک کرے۔

دوسری طرف، لاہور میں پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ اگر پبلک ٹرانسپورٹ کو بہتر بنایا جائے، تو لوگوں کو ذاتی گاڑیوں کے بجائے پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے کی ترغیب دی جا سکتی ہے، جو کہ فضائی آلودگی میں کمی کا باعث بنے گا۔ اس کے علاوہ، لاہور کی فیکٹریوں میں جدید ایڈوانس ایمیشن کنٹرول سسٹم نصب کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ان سے نکلنے والی آلودگی کو کم کیا جا سکے۔ اینٹوں کے بھٹوں کو بھی زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل کیا جائے، جو کم آلودگی پیدا کرتی ہے۔

لاہور کی فضائی آلودگی اور سموگ کے مسئلے کو فوری طور پر حل کرنے کے لیے حکومت نے کچھ ہنگامی اقدامات بھی کیے ہیں۔ جیسے کہ دفعہ 144 کا نفاذ، ماسک پہننا لازم بنانا، سکول اور کالجز میں چھٹیاں اور دفاتر کی حاضری کو 50 فیصد تک محدود کرنا تاکہ لوگوں کی نقل و حرکت کم ہو اور فضائی آلودگی میں کمی آ سکے۔ کمرشل سرگرمیوں کے اوقات کو رات 10 بجے تک محدود کرنا بھی ایک کارگر حل ہو سکتا ہے تاکہ سموگ کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔

اس کے علاوہ، حکومت کو عوامی سطح پر آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ عوام کو یہ سمجھانا ضروری ہے کہ فضائی آلودگی صرف حکومت کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے اقدامات کرے۔ لوگوں کو پلاسٹک کی بجائے قابلِ تجدید مواد کا استعمال کرنے، درختوں کو بچانے، اور پبلک ٹرانسپورٹ کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔

لاہور کی فضائی آلودگی اور سموگ کا مسئلہ سنگین ہوتا جا رہا ہے، اگر حکومت اور عوام مل کر کام کریں تو اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ شجرکاری، پبلک ٹرانسپورٹ کی بہتری، فیکٹریوں میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، اور فوری اقدامات جیسے کہ ماسک کا استعمال اور دفاتر کی حاضری میں کمی سے فضائی آلودگی میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے اور اس کے حل کے لیے فوری اور مستقل بنیادوں پر اقدامات کرے تاکہ لاہور کو ایک صاف، سبز، اور صحت مند شہر بنایا جا سکے۔

Facebook Comments HS