منیر مومن: بلوچی شاعری کا ایک چراغ


بلوچی ادب میں منیر مومن ایک الگ مقام رکھتے ہیں اور ایک نمایاں نام ہے۔ موجودہ عہد میں بلوچی زبان کے باقی شعرا جو شاعری کر رہے ہیں یا منیر سے انسیت رکھتے ہیں وہ خود کو بہت خوش نصیب سمجھتے ہیں کہ ہم عہدِ منیری میں زندہ ہیں اور فخر سے کہتے ہیں کہ ہم منیر کے عہدِ میں شاعری کر رہے ہیں۔ بلوچ شاعروں کی محبت دیکھیں تو منیر کی شاعری کا اندازہ ہو جائے گا۔

جس دن میں نے تمہیں دیکھا
مجھے گمان ہوا
کہ شہر میری آنکھوں میں سمٹ آیا ہے ( نظم، آسمان)

اگر میں کہوں کہ محبت کو اپنی انتہا سے دیکھنے والے شاعر کا اصل موضوع محبت، عشق اور حسن ہے تو بے جا نہ ہو گا۔ چونکہ ان کی غزلیات اور نظموں میں عاشق و معشوق کے دلوں کی واردات، حسن و عشق اور محبت کی باتیں ملتی ہیں۔ دیکھیں نظم ”تُو حسین تر ہے“ سے چند سطریں، تُو حسین تر ہے /ہر عدم دستیاب مسرت سے /ہر سنگین غم سے /تُو حسین تر ہے۔ یا اس نظم کو دیکھیں کہ محبت کی قیمت شاعر کس طرح چُکا رہا ہے، تیرے لیے /میں صرف پاگل نہیں ہونا چاہتا/کہ یہ تیرے حسن کی قیمت نہیں ہے / تو میرے لیے ایسا دلکش ہے /کہ مجھے ہر طرح /تیرے لیے ہوش مند رہنا ہے /پاگل رہنا ہے / اور زندہ رہنا ہے۔ ان کے ہاں تغزل کا بھر پور انداز ملتا ہے۔

منیر مومن صاحب کی سخنوری کا انداز آپ ان کے الگ اسلوب سے لگا سکتے ہیں، اس کا اصل فائدہ یہ ہوا کہ باقی شعرا مومن کو نقل کرنے کی سعی کریں تو ہر قارئین انہیں آسانی سے شناخت کرتے ہیں کہ فلاں شاعر نے منیر کو نقل کیا ہے، نوجوان شعرا نے منیر کو اپنے سانچے میں ڈالنے کی بہت کوشش کی ہے لیکن اس ناکام کوشش کی وجہ سے وہ شاعر اکثر اپنے اصل اسلوب کو دریافت نہ کرسکے۔ بلکہ بدنام بھی ہوئے۔ بدنام اس لیے کہ ہر عام و خاص انہیں سرقہ والا شاعر کہنے لگے۔

مومن کی زبان میں سادگی اور بیان میں حسن موجود ہے ان کے زبان و بیان میں زیبائیت و دلکشی ہے اور وہ اپنی انہی صلاحیتیوں کی بنا پر سادہ سے سادہ الفاظ میں بھی ایک دنیا آباد کر جاتے ہیں۔ اس جملے کو اگر اس ڈھنگ سے بیان کریں تو معنویت عیاں ہوتی ہے، منیر سادہ سے سادہ الفاظ میں ایک بڑی بات کر جاتے ہیں اور ان کا اثر ہر ذہن کو اپنی گرفت میں رکھ کر خود آزاد پنچھی کی طرح کائنات کے سفر پر نکل جاتا ہے۔ اور قارئین کو اپنی سادگی سے قید کر کے خود روپوش ہوجاتا ہے۔ یہاں یہ بات نمایاں ہو جاتی ہے کہ ہر قاری کو اپنی گرفت میں رکھنا کمال فنکاری ہوتی ہے اور ہر شاعر اس فن سے نابلد ہے۔ یہ بس مومن کا اسلوب ہے جو قاری کو عشق حسن، محبت اور کائنات کی زیبایت سے آشنا کراتا جاتا ہے۔

مومن کی شاعری میں تشبیہوں اور استعارات کا بہترین استعمال ملتا ہے۔ انہوں نے اپنی شاعری میں عشق کے جذبات اور محبت کی شدت کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔ ان کے کلام کی نمایاں خصوصیات حسن و عشق کا بیان ہے ان کی شاعری میں حسن و عشق کی دنیا آباد ہے۔ انہوں نے مختلف اصناف میں لکھا اور ہر رنگ میں اپنا مخصوص رنگ پیدا کیا ہے۔ موجودہ دور میں اس رنگ میں وہ جس بلندی پر پہنچے ہوئے ہیں وہاں ان کا کوئی مدمقابل نظر نہیں آتا۔ حسن و عشق کے خد و خال میں انھوں نے تخیل کے جو رنگ بھرے وہ ان کی اپنی اپج ہے یہی وہ طرہ امتیاز ہے جو ان کو دوسرے شعرا سے ممتاز کرتا ہے۔

حیدر علی آتش نے کہا تھا کہ ”غزل کہتے نہیں ہم ایک گھر آباد کرتے ہیں“ میں کہتا ہوں کہ منیر ایک گھر نہیں بلکہ پوری کائنات کو آباد کرنے کی سعی کر رہے ہیں۔ چونکہ منیر کو جو بھی پڑھتا ہے وہ مومن کی گرفت سے آسانی سے نکل نہیں سکتا۔ ان کی شاعری کی سحر انتہائی وسیع ہے کہ اپنے اندر قاری کو قید کر کے رکھ دیتے ہیں۔

جو بات پرندوں کے ساتھ سفر نہیں کر سکتی
شعر نہیں ہوتی
جو آنکھ زمین کو جگہ نہیں دے سکتی
خواب اس سے ناراض ہو جاتے ہیں
بند دریچوں کے خلاؤں میں سانس لیتی ندامتیں
رات کا گناہ ہیں
میں ایک ایسے پرندے کو جانتا ہوں
جو ہمیشہ نرم سفید بادلوں سے رومال چرا کر
تحفہ دیتا ہے اپنے دوستوں کو
رومال زندہ رہنے کے لیے آنسو چاہتا ہے
پرندہ دانہ چگنے زمین پر اترتا ہے
اور بکھیر دیتا ہے اپنی منقار سے محبت کے مرجان
پھر یہ مرجان ہر آنکھ میں پھیل کر
رومالوں کی زندگی شاداب کر دیتے ہیں

Facebook Comments HS

ملک جان کے ڈی

ملک جان کے ڈی بلوچستان کے ساحلِ سمندر گوادر کے گیٹ وے پسنی مکران سے تعلق رکھتے ہیں۔ ادب کا مطالعہ، ادبی مباحث اور ادب کی تخلیق ملک جان کے ڈی کا اوڑھنا بچھونا ہیں، جامعہ کراچی میں اردو ادب کے طالب علم اور سوشل ایکٹیوسٹ ہیں

malik-jan-k-d has 19 posts and counting.See all posts by malik-jan-k-d