اورویلین /Orwellian
جارج اورویل شدید کمیونسٹ مخالف تھے، ان کی یہ رائے سپین میں جاری خانہ جنگی اور روس میں موجود فاشسٹ کمیونسٹ حکمران جماعت کو پھلتے پھولتے دیکھ کر قائم ہوئی۔ ڈرامہ نگاری میں اگر برنارڈ شا کو پروپیگنڈا مواد لکھنے والا ڈرامہ نگار کہا جائے تو ناول نگاری میں طنز و تنقید کے نشتر برساتے جوناتھن سوئفٹ کے بعد ہمیں جارج اورویل نظر آتے ہیں۔
جارج اورویل نے اپنا ناول Animal Farm 1943 میں لکھنا شروع کیا، 1944 کی جنگ میں لندن میں بمباری کے دوران ان کا گھر تباہ ہوا، گھر کے تباہ حال ملبہ سے اورویل نے مسودہ تلاش کیا جو قابل اشاعت حالت میں تھا۔ 1945 میں ناول مکمل ہونے پر 4 مشہور پبلشر نے ناول کی اشاعت کرنے سے انکار کر دیا، ایک پبلشر نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اس نے وزارت اطلاعات سے رابطہ کیا ہے اور انہوں نے اسے شائع کرنے سے منع کیا ہے۔ اورویل اس بات کو لے کر نہایت نالاں دکھائی دیتے ہیں۔ اس کا اندازہ ہمیں Animal Farm کے آغاز میں لکھے جانے والے ابتدائیہ سے ہوتا ہے۔ اورویل بلاوجہ کی سینسرشپ سے ناراض تھے، ان کو اس چیز کا غصہ تھا کہ برطانیہ میں چرچل پر تو تنقید کی جا سکتی ہے مگر سٹالن اور لینن پر نہیں۔ یوکرین میں اگر غذائی قلت ہو تو پریس خاموش اور اگر بنگال میں قحط ہو تو خبر شائع کی جاتی ہے۔ روسی سیاسی رہنما ٹراٹسکی کی کتاب کا مسودہ جو گم ہوا اس پر کسی اخبار نے خبر نہیں دی، کیا برطانیہ صرف روس کو اپنا حلیف گردانتے ہوئے اس کے کاموں پر پردہ ڈالے ہوئے ہے؟ یہ سارے سوالات اس مضمون میں پڑھنے لائق ہیں اور ساتھ ساتھ اورویل برطانیہ کی نام نہاد اشرافیہ اور اہل علم کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہیں جو کبوتر کی مانند آنکھیں بند کیے ہوئے ہے۔
اورویل کی یہی کتاب Animal Farm کولڈ وار (نوخیز لفظ اورویل کا جاری کردہ) سی آئی اے کے مشن میں 1948 تا 1952 میں پروپیگنڈا کہ طور پر استعمال ہوتی رہی اور اڑن غباروں کے ذریعہ مشرقی جرمنی میں پھینکی جاتی رہی۔ اورویل کا یہ ناول غیر مثالی معاشرت فکشن /Dystopian fiction کا حصہ ہے جس میں اولڈ میجر کی نصیحت پر چلتے چلتے پورے فارم ہاؤس کا نظام درہم برہم کر دیا جاتا ہے۔
ناول میں استعمال ہونے والی ادبی تکنیک
روس میں جنگ عظیم اول کے دوران پنپنے والی ادبی اصولی تحریک Russian Formalism Movement نے دنیائے ادب کو نئی جدتوں سے روشناس کروایا۔ محقق اور تنقید نگار وکٹر سکاؤلاسکی؛ قابل ذکر ہیں۔ ان کے ماننے والے مواد سے زیادہ زبان، انداز گفتگو، طریقہ بیان، ادب کو منفرد کرنے کی حالت اور غیر شناسا طریقوں سے بات چیت کرنے کے عمل کو بڑھانے کے دعویدار تھے۔ ادبی تنقید اور تشریح میں کسی بھی بیرونی پہلو / Exophora جیسے مذہب، قومیت، وغیرہ جیسے عنصر کو قابل بحث بنانے کے حق میں نہیں تھے۔
آخر یہ غیر شناسا اثر Defamiliarization Effect ہے کیا؟
آپ نے اکثر جانی پہچانی چیزوں کو دیکھا ہو مگر کوئی ہنر مند شخص ان چیزوں کی حالت بدل کر آپ کو متعارف کروائے تو کیا لگے گا؟ مثال کے طور مٹی پتھر اور لکڑی سے بنائی گئے وہ تمام ادبی فن پارے جو ہمیں جان پہچان کے باوجود بھی عجیب و غریب لگیں اور دل سے خوف، حیرت یا خوشی جیسے جذبات ابھریں تو سمجھ جائیے کے آرٹسٹ غیر شناسا اثر (ادبی تکنیک) کا استعمال کرتے ہوئے آپ کو کچھ نیا متعارف کروا رہا ہے۔
اس کا استعمال Animal Farm میں بہت عمدگی سے ہوا ہے۔ یہ لکھاری کا کام نہیں ہے وہ توجیہات پیش کرتا پھرے کے اس نے ایسا کیوں لکھا بلکہ تنقید نگاروں کا کام ہے کہ وہ نت نئی تراکیب ڈھونڈیں جو ادبی دنیا میں چھپنے والے کلاسک میں موجود ہیں۔ اورویل چاہتے تو روایتی طریقہ سے کمیونزم کے زیر اثر چلنے والے نظام پر تنقید کر سکتے تھے اور براہ راست کرداروں کے سہارے بات کہتے۔ مگر انہوں نے مجازی قصہ گوئی اور تمثیل بیانی سے کام لیتے ہوئے ناول لکھا۔ اس کا مقصد پہلے سے موجود حالات کو بالکل نئے انداز میں پیش کرنا کہ پڑھنے والے خود دنگ رہ جائیں اور حیرت انگیز کیفیت میں مبتلا ہو کر سوال کریں۔ اشتراکیت کا لبادہ اوڑھے کس طرح کوئی ملک جمہوری نظام اور آزادی صحافت کے پیچھے پڑا ہے اور اس کا ممکنہ انجام کیا ہو گا، یہی وہ بتانا چاہتے تھے۔
امریکہ میں کمیونزم کو لے کو جو ہیجان برپا تھا اور میکارتھیزم کا عمل شروع ہواجس میں فنکار، ادیب اور لکھاریوں پر کمیونزم حامی ہونے کے الزامات لگتے رہے برطانیہ میں اس سے ملتا جلتا کام اورویل نے بھی کیا اور کچھ لوگوں کی فہرست بنا کر حکومت کو دی تاکہ ان کو اعلیٰ عہدوں پر تعینات کرنے سے روکا جا سکے، ان میں سے ایک نام مشہور زمانہ چارلی چپلن کا بھی تھا۔
آج کے دور میں بھی اگر کوئی ایسی حالت ملے جو آزادی صحافت اور کھل کر بات کرنے کے لئے باعث خطرہ اور تباہ کن ہو اسے Orwellian کہا جاتا ہے۔ امریکہ اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق یہ کسی بھی جدید لکھاری سے منسوب ہونے والا سب سے زیادہ استعمال ہونے والا اسم صفت ہے۔


