ڈرامن میں سپائرل سرنگ اور جنگل میں منگل
صبح سو کر اٹھے تو ڈاکٹر ذرا جلدی میں تھا۔ اس نے بتایا کہ ہم نے گیارہ بجے سے پہلے نیچے جاکر اپنی گاڑی کو اس جگہ سے ہٹانا ہے ورنہ چالان ہو جائے گا۔ بہرحال گیارہ بجنے میں کافی وقت تھا۔ تسلی سے نہا دھو کر ناشتہ کر کے بازار میں آ گئے جہاں گاڑی کھڑی کی ہوئی تھی۔
آج ہمارا پروگرام یہاں سے پینتیس چالیس کلومیٹر دور ایک شہر ڈرامن (Drammen) جانے کا تھا۔ گاڑی میں سوار ہو کر ڈرامن کو چل دیے۔ شہر میں جگہ جگہ سمندر گھسا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ کہیں اس کی چوڑائی زیادہ ہے اور کہیں کم لیکن چھوٹی بڑی ہمہ قسم کی سینکڑوں کے حساب سے کشتیاں یہاں پر پارک کی ہوئی ہیں۔ ڈاکٹر بتا رہا تھا کہ یہ ساری کی ساری کشتیاں طبقہ امراء کی ملکیت ہیں۔ کیوں کہ ان کی پارکنگ فیس ہی اس قدر زیادہ بن جاتی ہے کہ ایک اوسط آمدن کا حامل شخص اس کی ادائیگی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
اسی طرح ہلکی پھلکی گپ شپ کرتے ہوئے ہم چلے جا رہے تھے۔ اطراف میں دکھائی دینے والے درختوں پر خزاں کے اثرات نمایاں دکھائی دے رہے تھے۔ درختوں کے نیچے گرے ہوئے زرد پتے وافر مقدار میں موجود تھے۔ کہیں کہیں یہ پتے جامنی اور سرخ رنگ کے بھی تھے اور کچھ درخت ایسے بھی تھے جن کے پتے پوری طرح سرسبز و شاداب نظر آرہے تھے۔ یوں محسوس ہو رہا تھا کہ یہ درخت خزاں کی دست برد سے بچے ہوئے ہیں۔ یہ درخت اپنی ساخت میں مور پنکھ اور سرو کے درمیان درمیان دکھائی دے رہے تھے۔ ان کے پتے مور پنکھ جیسے قد و قامت سرو سے نکلتا ہوا اور پھیلاؤ میں ان دونوں سے ہی زیادہ تھے۔ ہم اردگرد کے مناظر سے لطف اندوز ہوتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔ پچیس تیس منٹ بعد ہم ڈرامن کے قریبی پہاڑ کے اندر بنی ہوئی سرنگ کے ذریعے پہاڑ کی چوٹی کی طرف رواں دواں تھے۔ یہ سرنگ ایک سپرنگ کی شکل میں اوپر کی طرف بڑھ رہی تھی۔
اس سرنگ کے بارے میں بتایا گیا کہ دوسری جنگِ عظیم کے دوران یہاں پر جرمن افواج کا قبضہ تھا اور انہوں نے دفاعی نقطہ نظر سے پہاڑ کی چوٹی پر پہنچنے کے لیے یہ سرنگ بنائی تھی اور پہاڑ کی چوٹی سے وہ دور تک اس علاقے پر کنٹرول کرتے تھے لیکن بعد میں پتہ چلا کہ 1953 ء میں اس شہر میں دو سٹریٹس بنانے کے لیے پتھر کی ضرورت پڑی تو پتھر کی فراہمی کے لیے اس سپائرل سرنگ کی کھدائی شروع کی گئی جو 1961 ء میں مکمل ہو گئی۔ اس طرح پہاڑ پر پہنچنے کے لیے مختصر راستہ بھی بنایا گیا اور مطلوبہ مقدار میں پتھر بھی دستیاب ہو گیا۔ یہ سرنگ 1650 میٹر لمبی ہے اور سطح سمندر سے 212 میٹر کی اونچائی پر پہنچتی ہے۔ تھوڑی ہی دیر کے بعد ہم پہاڑ کی چوٹی پر موجود تھے۔ چوٹی سے چاروں اطراف کے مناظر بڑے نمایاں نظر آرہے تھے۔ ایک طرف دور نیچے ایک دریا نظر آ رہا تھا۔ جو نہایت سست روی سے بہتا ہوا سمندر میں گر رہا تھا۔
اس دریا کے دونوں طرف ہی آبادی تھی۔ ہم پہاڑ کی چوٹی پر ایک لکڑی کے بنے ہوئے بنچ کے اوپر بیٹھے تمام مناظر دیکھ رہے تھے۔ سامنے بہتے ہوئے دریا کے ایک کنارے کے بالکل اوپر مکان تعمیر کیے ہوئے تھے۔ بلکہ دریا کا پانی ان مکانات کی دیواروں کو چھو کر گزر رہا تھا اور میں سوچ رہا تھا کہ یہاں کے دریا بھی کتنے بے ضرر ہیں۔ ہمارے ہاں تو سیلاب کے دنوں میں دریا اپنے کناروں سے باہر نکل کر دور دور تک تباہی مچا دیتے ہیں۔ بلکہ بعض اوقات تو یہ اپنی گزر گاہ ہی تبدیل کر لیتے ہیں۔ جب کہ یہاں پر دریا بڑے سکون اور اطمینان سے آبادی کے درمیان سے بہے رہا تھا۔ میں نے اس کا ذکر ڈاکٹر سے کیا تو وہ ہنس پڑا۔ درجہ حرارت تو سات آٹھ ڈگری سینٹی گریڈ تھا لیکن دُھوپ نکلی ہوئی تھی اور موسم بہت خوش گوار لگ رہا تھا۔ یہاں پر سیاحوں کا بڑا رش تھا۔ ہماری طرح اور لوگ بھی بیٹھے ہوئے تھے کچھ گھوم پھر رہے تھے۔ سلفیاں بن رہی تھیں، تصویریں بنائی جا رہی تھیں۔ تصویریں بنانے کی اس دوڑ میں ہم دونوں اپنے اناڑی پن کے باوجود پوری طرح شامل تھے۔
پہاڑی کے عین اوپر چوٹی پر ایک ریستوران بنا ہوا تھا۔ کافی دیر گھومنے پھرنے کے بعد ہم اس ریستوران میں جا کر بیٹھ گئے۔ یہاں پر چائے شاید ہی کہیں پر ملتی ہو۔ عام طور پر بغیر دودھ کے کالے رنگ کی قہوہ نما کافی ہی ہر جگہ دستیاب ہوتی ہے۔ یہ کافی بھی نیم گرم اور نیم ٹھنڈی سی ہوتی ہے۔ یورپ میں کھانے کا بھی بڑا مسئلہ ہے۔ ہم ہر جگہ سے کھا پی بھی نہیں سکتے۔ اس کے لیے ہمیں حلال چیزیں مہیا کرنے والا ریستوران ڈھونڈنا پڑتا ہے۔ ہم یہاں بیٹھے کافی پی رہے تھے۔ مجھے اس کے پچھلی جانب وسیع علاقے پر پھیلا ہوا ایک گھنا جنگل دکھائی دیا جس کے اندر ایک پگڈنڈی سی داخل ہوتی ہوئی دکھائی دے رہی تھی۔ میں نے ڈاکٹر سے کہا کہ کافی پینے کے بعد جنگل میں چلتے ہیں۔ جنگل ریستوران کی نسبت تھوڑا نشیب میں تھا۔
ہم چار پانچ فٹ کی ایک پگڈنڈی پر چلتے ہوئے جنگل کے اندر داخل ہو گئے۔ اس پگڈنڈی کے علاوہ چاروں طرف بہت گھنے اور فلک بوس درخت اُگے ہوئے تھے۔ پگڈنڈی کے ایک طرف بہت گہرا نشیب تھا اور یہ نشیب بھی درختوں سے اٹا پڑا تھا۔ بہرحال ہم گپ شپ لگاتے ہوئے جنگل میں کافی دور تک آ گئے تھے۔ اتنی دیر میں ہم نے دیکھا کہ ایک پچیس تیس سالہ خاتون سفید جوگرز اور سفید شارٹس میں ملبوس جاگنگ کرتی ہوئی ہمیں کراس کر کے آگے چلی گئی۔ میں حیران تھا کہ یہ اکیلی خاتون اس قدر گھنے جنگل میں بے خوف و خطر دوڑتی پھر رہی تھی۔ کیا ہم لوگ اپنے اسلام کے قلعے پاکستان میں ایک خاتون کو یہ تحفظ اور یہ اعتماد دے سکتے ہیں۔ مجھے یہاں قدم قدم پر احساس ہوتا تھا کہ بیشتر اسلامی تعلیمات پر یہ لوگ عمل پیرا ہیں۔ گھروں میں بھی یہ لوگ ایک دوسرے کے ساتھ اس قدر مدھم لہجے میں بات کرتے ہیں کہ کسی تیسرے فرد کے لیے اسے سن لینا ممکن نہیں ہوتا۔
ہم لوگ تھوڑا سا آگے بڑھے تو یہاں پر لکڑی کے بنے ہوئے چھوٹے چھوٹے ہٹ موجود تھے اور یہ ہٹ جگہ جگہ نظر آرہے تھے۔ گرمیوں کے موسم میں لوگ یہاں آ کر قیام کرتے ہیں۔ تھوڑے تھوڑے فاصلے پر نقشے بنے ہوئے تھے جو آگے جانے اور واپسی کے راستے کی نشان دہی کرتے تھے۔ ہم تھوڑی دور اور آگے جاکر نقشے سے مدد لے کر واپسی کے راستے پر چل پڑے۔ یہ وہ راستہ نہیں تھا جس سے ہم ہو کر یہاں پہنچے تھے بلکہ یہ اور راستہ تھا۔ اس راستے کے ساتھ ساتھ بھی نئے اور پرانے ہٹ نظر آتے رہے بلکہ ایک جگہ پر تو پندرہ بیس ہٹوں پر مشتمل ایک چھوٹی سی بستی بنی ہوئی تھی۔
ہم آگے بڑھے تو ہم نے دیکھا کہ بیس تیس چھوٹے چھوٹے بچے کرسیوں پر بیٹھے کچھ کھا پی رہے ہیں۔ یہاں پر ایک مرد اور ایک خاتون ان بچوں کی دیکھ بھال کر رہے تھے۔ دریافت کرنے پر پتہ چلا کہ یہ ایک چائلڈ کیئر سنٹر ہے۔ یہ اُن لوگوں کے بچے ہیں جو میاں بیوی دونوں ہی سروس کرتے ہیں سکول میں چھٹی کے بعد یہ چائلڈ کیئر سنٹر والے لوگ ان بچوں کو یہاں لے آتے ہیں۔ ان کو کھلاتے پلاتے ہیں ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جونہی وہ لوگ اپنی نوکری سے فارغ ہوتے ہیں تو وہ اپنے بچوں کو سکول سے لینے کی بجائے یہاں سے لے کر اپنے گھروں کو چلے جاتے ہیں۔ یہ سنٹر بھی جنگل کے اندر ہی تھا لیکن یہاں تک گاڑی کے پہنچنے کے لیے کچی سڑک بنائی گئی تھی۔
ان لوگوں نے کیا خوب جنگل میں منگل کیا ہوا تھا۔ یہاں پر سڑک آگے سے بند کی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔ تھوڑی دیر تک تو ہم نے خود ہی آگے جانے کے لیے راستہ تلاش کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام ہونے پر ڈاکٹر نے وہاں پر موجود خاتون سے اس بارے میں دریافت کیا تو اس نے مسکراتے ہوئے ہماری راہنمائی کی بلکہ آگے سے دور راستے نکل رہے تھے اور ہم لوگ اسی تذبذب میں تھے کہ کون سا راستہ اختیار کیا جائے۔ تو اس خاتون نے وضاحت کی کہ آپ جو بھی راستہ اختیار کر لیں گے آگے جا کر یہ دونوں راستے آپس میں مل جاتے ہیں۔ اس لیے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کون سا راستہ اختیار کرتے ہیں۔
اس دوران وہ خاتون مسلسل مسکراتی رہی دوسروں سے مخاطب ہونے پر بلکہ حتیٰ کہ دیکھنے پر بھی مسکرانا غالباً ان کی ثقافت کا حصہ ہے۔ خصوصاً چھوٹے بچوں کو یہاں پر خصوصی اہمیت دی جاتی ہے۔ چھوٹے بچوں کو دیکھ کر مسکرانا، ہاتھ ہلانا یا انہیں مخاطب کرنا ایک عمومی وتیرہ ہے۔ آپ کسی دکان سے کچھ خریدتے ہیں چھوٹا بچہ آپ کے ساتھ ہے۔ دکان دار اُسے کوئی ٹافی، لولی پاپ، یا چھوٹی موٹی چیز گفٹ کے طور پر ضرور پیش کرے گا۔ یہ بھی وہاں کی ثقافت ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد ہم جنگل سے باہر آ گئے اور واپسی کی راہ لی۔
شام ہو چکی تھی سیدھے ڈیرے پر پہنچے جو اظہر کے ریستوران کے ایک طرف بنے ہوئے ایک کمرے کی شکل میں موجود ہے۔ اس ریستوران میں اظہر کے ساتھ ایک اور فرد ملک صاحب بھی شراکت دار ہیں۔ ایک مسلمان اور ایک ہندو دو باورچی ہیں اور ایک لبنانی ڈیلیوری بوائے بھی ہے۔ جو ڈیلیوری بوائے کم اور پہلوان زیادہ دکھتا ہے۔ اس کے علاوہ ڈیرے پر باقاعدگی سے آنے والے چار پانچ لوگ بھی اپنے آپ کو ریستوران کے سٹاف کا حصہ ہی سمجھتے ہیں۔ ضرورت پڑنے پر کبھی کوئی ڈیلیوری بوائے کا کام کر رہا ہے۔ کبھی کوئی سلاد کاٹ رہا ہے۔ برتن دھو رہا ہے یا کھانا پکانے میں مدد فراہم کر رہا ہے۔ نہ کام لینے والا کوئی تکلف کرتا ہے اور نہ ہی کام کرنے والا بلکہ ان سب لوگوں کو مصروف دیکھ کر میں نے بھی اظہر کو آفر کی کہ میرے ذمہ بھی کوئی کام لگایا جائے لیکن غالباً وہ میری صلاحیتوں کو بھانپ چکا تھا۔ اس لیے اس نے احتراز کرنا ہی مناسب سمجھا۔ دس گیارہ بجے تک یہاں گپ شپ چلتی رہی اس کے بعد ساری ٹیم نے کھانا کھایا اور اپنے اپنے گھروں کی راہ لی۔


