بے بسی سے سسکتا تاریخی شہر، لاہور


باغوں، پھولوں سے مہکتا دنیا کے خوبصورت شہروں میں سے ایک شہر لاہور آج کل بے بسی کی تصویر بنا ہوا ہے۔ زہر آلود سموگ کی چادر اس پر ایسی تنی کہ ہٹنے کا نام نہیں لے رہی۔ سموگ کے اسباب و تدارک کے مباحث نے چند سوالات کو جنم دیا ہے :

٭ حکمرانوں کے بقول کیا واقعی مشرقی پنجاب سے آنے والے دھوئیں کے بادل اس سموگ کا بڑا سبب ہیں اور بھارت اس میں سازش کے طور پر اضافہ کر رہا ہے؟
٭کیا تعلیمی ادارے بند کرنے سے سموگ میں کمی واقع ہوئی ہے؟
٭ اینٹوں کے بھٹے تو بند کیے جا سکتے ہیں، کیا ساہیوال کول پاور پلانٹ اور با اثر شخصیات کی فیکٹریوں کو بھی بند کیا جا سکتا ہے؟
٭ کیا بھاری اخراجات سے برسائی جانے والی مصنوعی بارش نقصانات کے بغیر سموگ کو ختم کر سکتی ہے؟
٭ ہر سال ہونے والی شجرکاری سموگ کو ختم کیوں نہیں کر سکی؟
٭ کیا اربوں روپے ضائع کرنے والے محکمہ ماحولیات کو بعد از احتساب بند نہیں کر دینا چاہیے؟

یہ جانتے ہوئے بھی کہ لاہور اور دہلی کے آلودہ ہونے میں کوئی خاص فرق نہیں، سیاسی پنڈتوں کا یہ ایک انتہائی بیہودہ جواز ہے کہ پاکستان بالخصوص لاہور میں پائی جانے والی سموگ مشرقی پنجاب میں فصلوں کی باقیات کو جلانے سے بننے والے بادلوں کے سبب ہے اور بھارت روایتی دشمنی کی تسکین کے لیے اس عمل کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس لایعنی الزام کا مقصد صرف اور صرف اپنی کوتاہیوں اور نا اہلیوں پر پردہ ڈالنا ہے۔

موسمیاتی تبدیلی اور زرعی موسمیات کے ماہرین کے مطابق پنجاب میں اکتوبر اور نومبر میں ہلکی اور معتدل ہوائیں چلتی ہیں۔ آلودگی کے ذرات اور دھوئیں کے ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لیے ہوا کی رفتار چھے کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ ہونی چاہیے، ہوا کی رفتار اس سے کم ہونے پر آلودگی پھیلانے والے ذرات کسی بھی سمت سفر نہیں کر سکتے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پنجاب میں موجود آلودگی کے ذرات نہ تو دہلی جا سکتے ہیں اور نہ ہی لاہور۔ اس سال اکتوبر سے مشرقی پنجاب میں ہلکی ہوائیں چلی رہی ہیں۔ صرف دو بار ہوا کی رفتار چار کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ تھی۔ پہلی بار ہوا کی رفتار 4.4 کلومیٹر فی گھنٹہ اور دوسری بار ہوا کی رفتار 4.1 کلومیٹر فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی۔ صاف ظاہر ہے کہ ہوا کی اس رفتار میں پنجاب میں فصلوں کی کٹائی کے بعد لگائی جانے والی آگ سے پیدا ہونے والی آلودگی والے ذرات کسی بھی سمت سفر نہیں کر سکتے تو اس الزام اور جواز کی کوئی وقعت نہیں رہ جاتی۔

حکومت کا فوری تعلیمی ادارے بند کرنے کا عمل محض سیاسی پوائنٹ سکورنگ ہے۔ حکومت ابھی تک یہ بتانے میں ناکام رہی ہے کہ سکول بند کرنے سے کیا طلبا کو سموگ سے بچانا مقصود ہے یا سکول پہنچانے والی گاڑیوں کی آمدورفت سے سموگ کم کرنے کی کوشش ہے۔ اگر تو بچوں کو سموگ سے بچانا مقصود ہے تو اس سوچ پر صرف ماتم کیا جا سکتا ہے کیونکہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا سکول سے چھٹیاں کر کے بچے کسی اور شہر منتقل ہو جاتے ہیں؟ صاف ظاہر ہے اسی شہر میں رہتے ہیں تو پھر چھٹیاں کرنے کا کیا فائدہ۔ بلکہ اس عمل سے ہونے والے تعلیمی نقصان کا اندازہ لگانا شاید حکومت کے بس کی بات نہیں، اگر حکومت سمجھتی ہے کہ ایک ایک گھنٹہ یعنی سکول شروع ہونے اور چھٹی کے وقت گاڑیوں کی آمدورفت سے سموگ میں کمی واقع ہو گی تو یہ بھی ایک مضحکہ خیز سوچ ہے کیونکہ موسمیاتی ماہرین کے مطابق اس وقت پائی جانے والی سموگ میں سڑکوں پر چلنے والی گاڑیوں کا حصہ 3.5 فیصد ہے۔ اس طرح دو گھنٹے کا رش کم ہونے سے سموگ میں 0.1 فیصد کمی ہو گی، جو نہ ہونے کے برابر ہے۔ مگر چھٹیوں کے باعث ہونے والا تعلیمی نقصان بچوں کے مستقبل کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔

حکومت کا سارا زور اینٹوں کے بھٹوں پر چلتا ہے، کبھی ان کو بند کیا جاتا ہے تو کبھی انھیں جرمانے کیے جاتے ہیں۔ جب کہ حکومت نے کبھی سرکاری سرپرستی یا با اثر لوگوں کی فیکٹریوں کی طرف کبھی توجہ نہیں کی، جیسے ساہیوال کول پاور پلانٹ۔ کوئی شک نہیں کہ اس سے بجلی کی خاطر خواہ مقدار پیدا ہوتی ہے۔ اسے لگاتے وقت یہ بحث عام تھی کہ اسے شہری آبادی کے نزدیک لگا نا مناسب نہیں اس سے نہ صرف یہ کہ فضا آلودہ ہو گی بلکہ زرعی پیداوار بھی متاثر ہو گی۔ اب ماہرین بتا رہے ہیں کہ اس سے دس بھٹوں کے برابر دھواں نکلتا ہے اور اس دھوئیں میں شامل زہریلے پارٹیکلز اینٹوں والے بھٹوں سے کہیں زیادہ مضر ہیں۔ ظاہر ہے اب اسے بند کرنا یا عارضی طور پر روکنا ممکن نہیں۔

سموگ کے خاتمے کے لیے مصنوعی بارش کا واویلا مچایا جاتا ہے، گزشتہ سال اس کا ناکام تجربہ کیا بھی جا چکا ہے۔ مصنوعی بارش کے طریق کار اور اس کے فوائد و نقصانات کے بارے میں بہت کم لوگ آگاہ ہیں۔ مصنوعی بارش برسانے کے لیے پہلے بادلوں کو کیمیکل کے ذریعے بھاری کیا جاتا ہے، اس کے لیے کلاؤڈ سیڈنگ تکنیک استعمال ہوتی ہے، خصوصی ہوائی جہاز کے ذریعے دو سے چار ہزار فٹ کی بلندی سے بادلوں کے اوپر سوڈیم کلورائیڈ، سلور آئیوڈائیڈ اور دیگر کیمیکل چھڑکے جاتے ہیں، ان کیمیکلز کی وجہ سے بادلوں میں برفیلے کرسٹلز بنتے ہیں اور بادل بھاری ہو جاتے ہیں اور بارش ہونے لگتی ہے۔

کلاؤڈ سیڈنگ کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ جہاز کے ذریعے بادلوں پر کیمیکل چھڑکنے کی بجائے زمین سے راکٹ فائر کر کے ان پر کیمیکل چھڑکا جاتا ہے لیکن یاد رہے کہ ہر بادل مصنوعی بارش کے لیے موزوں نہیں ہوتا اور نہ ہر موسم مصنوعی بارش کے لیے سازگار ہوتا ہے بلکہ اس کے لیے خاص ماحول درکار ہوتا ہے۔ ماحولیاتی ماہرین کے مطابق دس میں سے تین قسم کے بادلوں میں مصنوعی بارش کا تجربہ کیا جاسکتا ہے۔ ایسے بادلوں کو مصنوعی بارش کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے جن کی تہہ 7 سے 10 ہزار فٹ موٹی ہو۔ مصنوعی بارش کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ ہوا میں نمی 70 سے 75 فیصد ہو اور ہوا کی رفتار 30 سے 50 کلومیٹر فی گھنٹہ ہو۔

یہ بھی ملحوظ رہے کہ مصنوعی بارش جہاں فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے وہیں اس کے نقصانات بھی ہیں، پہلی بات یہ ہے کہ بادلوں کو برسایا تو جا سکتا ہے لیکن انھیں اپنی مرضی سے روکا نہیں جا سکتا۔ دوسری بات یہ کہ اس سے ماحول پر غیر فطری دباؤ اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ شدید حبس اور گرمی تکلیف دہ حد کو پہنچ سکتی ہے۔ چونکہ اس بارش کے پانی میں کیمیائی مادے شامل ہوتے ہیں اس لیے یہ پانی انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ مصنوعی بارش برسانے کے عمل میں بہت سے کیمیکلز کاربن ڈائی آکسائیڈ، کیلشیم کلورائیڈ، پوٹاشیم کلورائیڈ، سوڈیم ہائیڈرو آکسائیڈ، ایلومینیم آکسائیڈ اور زنک وغیرہ استعمال ہوتے ہیں مگر ان میں سب سے زیادہ مہلک سلور آیوڈائیڈ ہے۔ اس لیے مصنوعی بارش سے بہت سے بیماریاں جنم لے سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ مصنوعی بارش سے پانی میں حل نہ ہونے والا سلور آیوڈائیڈ ایک زہریلا مادہ بھی نقصان دہ ہے، جو پانی کو آلودہ کر دیتا ہے، یہ کیمیکل انسانوں، مچھلیوں اور دیگر جانداروں کے لیے زہر کا درجہ رکھتا ہے، یہ کیمیکل جلد، سانس اور منہ کے ذریعے جسم میں داخل ہوتا ہے۔ اس کی کم مقدار بھی نظام انہضام کی خرابی، گردوں اور پھیپھڑوں میں زخم کا سبب بنتی ہے۔

سموگ کو روکنے کا ایک بڑا ذریعہ شجر کاری ہے۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اب شجر کاری بھی محض ایک رسمی کارروائی کے سوا کچھ نہیں۔ لاہور کے ارد گرد ہم نے گھنے درختوں کے جھنڈ کاٹ کر ہاؤسنگ سوسائٹیاں بنائیں اور پھر سیمنٹ، سریے، بجری سے کنکریٹ کی دیواریں کھڑی کر دیں۔ شہر کے اندر بھی بہت سے تاریخی باغات اور ذخیرے ختم ہو گئے۔ اب سالانہ شجرکاری کے نام پر محض فوٹو سیشن ہوتے ہیں۔ کروڑوں روپیہ بغیر کسی منصوبہ بندی کے شجرکاری پر خرچ ہوتا ہے۔ کسی ایک تعلیمی ادارے کا ہی آڈٹ کر لیجیے، ہر سال سینکڑوں درخت لگانے کی کارروائی ہوتی ہے جب کہ حقیقت میں وہاں اتنے درخت لگانے کی گنجائش ہی نہیں ہوتی۔ سٹیٹس کو نے اس عمل کو بھی برباد کر کے رکھ دیا، کئی رشوت خوروں کے نام کے ساتھ لکھا ہوتا ہے کہ فلاں نے اپنے دست مبارک سے پودا لگایا۔ کبھی کسی نے پوچھا کہ گزشتہ برس لگائے جانے والے درختوں کا کیا بنا؟ ہزاروں بے کار لوگوں کو کھڑا کر کے قومی پرچم بنا کر نعرے لگانے والو! کیا کبھی اتنی تعداد میں درخت لگا کر زندگیوں کو محفوظ بنانے کی فکر کی؟

پاکستان کے ہر صوبے میں محکمہ ماحولیات کے نام سے ایک وزارت اور محکمہ قائم ہے۔ جس کی حیثیت ایک سفید ہاتھی کی سی ہے۔ اس کے بجٹ کا سالانہ تخمینہ اربوں میں ہے۔ کیا ان سے کوئی پوچھنے والا ہے کہ اس محکمے کی کارکردگی سوائے اعداد و شمار مرتب کرنے کے اور کیا ہے۔ کروڑوں روپے تنخواہیں لینے والے افسران کا احتساب تو لازم ہے۔ اور نہیں تو ان سے صرف یہی پوچھ لیا جائے کہ گزشتہ سال قیامت خیز سموگ کا موسم گزر جانے کے بعد آپ نے اس سال 2024 ء میں سموگ سے بچاؤ کے لیے کیا اقدامات کیے۔ اگر جواب صفر جمع صفر برابر صفر ہے تو اسے محکمہ مخولیات سمجھ کر بند کر دینا چاہیے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس وقت دنیا میں شہر لاہور آلودگی کے لحاظ سے سر فہرست ہے۔ اس کی جان لیوا فضا شہریوں کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ لوگ خطرناک بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں اور کچھ میں بیماریوں کے اثرات آہستہ آہستہ کچھ مہینوں بعد ظاہر ہونا شروع ہوں گے۔ ہمیں اس تشویش ناک صورت حال سے کیسے نمٹنا ہے۔ اب اگر درخت لگائے جائیں تو ان کے جوان ہونے میں دو تین سال درکار ہوں گے۔ مگر اس وقت ماحول کو صاف کرنے کے لیے ہنگامی پیمانوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کام کے لیے ایمرجنسی سموگ ٹاور ایک مفید چیز ہے، جس کا کامیاب تجربہ کچھ سال پہلے ابوظہبی میں کیا گیا۔ لاہور میں ایسے پندرہ سے بیس ٹاور فوری لگائے جائیں تو ماحول میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ ایک ٹاور بیس سے پچیس لاکھ روپے میں تیار ہو سکتا ہے۔ جب کہ مضر صحت مصنوعی بارش کا فی گھنٹہ خرچ بھی بیس سے پچیس لاکھ روپے ہے۔ مگر مقتدر حلقوں کو ایمرجنسی سموگ ٹاور میں اس لیے دلچسپی نہیں ہوگی کہ اس سے اگلے انتخابات کا خرچ نکالنا ممکن نہیں ہو گا جب کہ مصنوعی بارش کا عمل مال بنانے کے لحاظ سے آسان ہے اور محفوظ بھی۔

Facebook Comments HS