پرسکون زندگی کے 9 طریقے
ہر شخص پرسکون زندگی چاہتا ہے۔ ہر شخص کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اس کی زندگی سے غم کے سائے چھٹ جائیں اور خوشیوں کی دھوپ نکل آئے۔ اگر آپ بھی ایسا ہی چاہتے ہیں تو زندگی میں ان 9 اصولوں کو اپنا لیں۔ آپ کی زندگی سے بہت سی مشکلات اور پریشانیاں نکل جائیں گی۔
1۔ سادہ طرزِ زندگی اختیار کر لیں :
ہمارے بہت سے مسائل کی وجہ ہمارا دکھاوا اور رنگین طرزِ زندگی ہوتا ہے۔ جب آپ ان چیزوں کو ترک کر کے سادگی اختیار کرتے ہیں تو آپ کا ذہن سکون کی کیفیت میں جانے لگتا ہے۔ آپ نہ صرف غیر ضروری اخراجات سے بچ جاتے ہیں بلکہ دکھاوا کرنے کی عادت سے بھی جان چھوٹ جاتی ہے اور ویسے بھی سادگی میں ہی راحت ہے۔ پہننے اوڑھنے سے لے کر زندگی کے ہر معاملے تک جس قدر ہو سکے اسی قدر سادگی اختیار کر لیں۔ سکون کی دیوی واپس آپ کی طرف پلٹنا شروع ہو جائے گی۔
2۔ اپنے بڑھاپے کا خود خیال رکھیں :
ہمارے ہاں ایسا ہوتا ہے کہ عموماً لوگ اپنے بڑھاپے کا سہارا اپنی اولاد میں تلاش کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ لوگ بچے پیدا ہی اس لئے کرتے ہیں کہ وہ بڑے ہو کر ان کے بڑھاپے کا سہارا بنیں گے۔ یہ ایک غلطی ہے جسے تقریباً ہر شخص ہی دوہراتا ہے۔ اگر آپ کی قسمت اچھی ہوئی تو آپ کی اولاد نیک اور صالح بنے گی اور بڑھاپے میں آپ کو سنبھالے گی بھی۔ لیکن اس بات کو بھی تو رد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ بڑے ہو کر آپ کے احسانات کو بھول جائیں۔ آپ کو سنبھالیں ہی ناں۔ یا پھر اعلیٰ تعلیم کے لئے، یا شادی کر کے کسی دوسرے ملک چلے جائیں۔ تب آپ کا بڑھاپا کیسے گزرے گا۔ اس لئے اپنے بڑھاپے کو اپنی اولاد کے سہارے سے پلان کرنے کی غلطی نہ کریں بلکہ خود اپنی محنت سے کمائیں اور اس کا ایک حصہ اپنے بڑھاپے کے لئے سنبھال کر رکھیں۔ اسے مختلف جگہوں پر انویسٹ کریں تا کہ آنے والے وقت میں آپ پیسوں کے لئے کسی اور کے ہاتھ کو نہ دیکھیں۔
3۔ دکھاوا کرنا ترک کر دیں :
یقین کریں کہ کسی شخص کو اس بات کی قطعاً پرواہ نہیں ہے کہ آپ نے کیا پہنا ہوا ہے، آپ کیا کھاتے ہیں، آپ کون سی گاڑی میں سفر کرتے ہیں اور آپ رہتے کون سی جگہ میں ہے۔ اس لئے اس طرح کی کسی بھی چیز پر خرچہ کرنا چھوڑ دیں اور سادگی اختیار کریں۔ اس بات کو سوچنا ہی چھوڑ دیں کہ لوگ کیا کہیں گے تب ہی آپ کے لئے سادگی اختیار کرنا آسان ہو گا۔
4۔ 40 فیصد تک بچت کریں اور اس کی سرمایہ کاری کریں :
آپ جتنا بھی کماتے ہیں، اس کے کم از کم 40 فیصد تک بچت کرنا شروع کر دیں۔ یہ سمجھیں کہ یہ پیسے آپ کے ہیں ہی نہیں۔ آپ نے انھیں کمایا ہی نہیں۔ اگر آپ یک مشت 40 فیصد نہیں کر سکتے تو دس فیصد سے شروع کریں اور پھر اسے بڑھاتے جائیں۔ اس رقم کو آپ اپنے بڑھاپے کے لئے انویسٹ کریں۔ تاکہ یہ رقم وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی بھی رہے اور اس کا آپ کا فائدہ بھی ہو۔ پیسے کو کبھی بھی پیپر منی میں رکھنے کی غلطی نہ کریں۔ کیوں کہ یہ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ کم ہوتی جاتی ہے۔
5۔ سادگی سے شادی کریں :
اگر آپ غیر شادی شدہ ہیں تو اپنی شادی پر ہر طرح کا غیر ضروری خرچہ ختم کر دیں۔ اپنی شادی کو جس قدر آپ سادہ بنا سکتے ہیں اسی قدر بنائیں۔ عموماً لوگ دھوم دھام سے شادی کرنے کے لئے قرض لیتے ہیں اور پھر بعد میں کئی سال تک سر پکڑ کر پریشان بھی رہتے ہیں اور اس قرض کو ختم کرنے کے لئے مزید قرض لیتے ہیں یوں وہ ایک ایسی دلدل میں پھنس جاتے ہیں جس سے نکلنا آنے والے وقت میں مشکل ترین ہوجاتا ہے۔
6۔ دوسروں کی شادیوں پر بھی خرچہ نہ کریں ؛
ہمارے ہاں یہ ایک روایت سی بن گئی ہے کہ پرائی شادی میں عبداللہ دیوانہ کے مصداق، شادی چاہے کتنے ہی دور کے رشتے دار یا تعلق دار کی کیوں نہ ہو، ہم نے ضرور کھلم کھلا خرچہ کرنا ہے، نئے جوڑے لینے ہیں، دیگر چیزوں پر پیسہ ضائع کرنا ہے اور پھر بعد میں سر پکڑ کر بیٹھ جانا ہے۔ اگر آپ زندگی میں سکون اور کم آمدنی میں بھی خوش حالی چاہتے ہیں تو ایسا کرنا بالکل ترک کر دیں۔ شادی کسی اور کی ہے اور نیا سوٹ آپ نے پہنا ہوا ہے۔ ایسا کرنے کی بجائے آپ کے پاس جو پہلے سے اچھے کپڑے موجود ہیں انہیں ہی استعمال میں لائیں، یقین کریں کہ نا ہی نئے کپڑوں اور دیگر اشیا پر دکھاوا کرنے سے کوئی آپ کو انعام دے گا اور نہ ہی آپ کو سادگی اختیار کرنے پر ایونٹ سے کوئی باہر نکالے گا۔
7۔ کسی ایک ہنر میں خاص مہارت حاصل کریں :
لوگوں کے زیادہ پیسہ نہ کما سکنے کی ایک بڑی وجہ کسی ایک چیز میں زبردست مہارت نہ رکھنا ہے۔ اگر آپ زیادہ پیسہ کمانا چاہتے ہیں تو تحقیق کر کے، اپنی پسند کی کوئی ایک خاص اسکل پکڑیں اور اس میں اس قدر مہارت حاصل کر لیں کہ وہ کام آپ کی پہچان بن جائے۔ کم از کم آپ کے علاقے اور شہر میں اس کام کا آپ سے زیادہ ماہر اور کوئی نہ ہو۔ پیسہ تھوڑے تھوڑے بہت سے کام کرنے سے نہیں آتا۔ بلکہ کسی ایک کام کو بہت اچھا کرنے سے آتا ہے۔
8۔ کمانے سے قبل خرچنے کی غلطی نہ کریں :
عموماً لوگ ایسا ہی کرتے ہیں یعنی، پیسے ان کے اکاؤنٹ میں آئے نہیں ہوتے، صرف آنے کی امید ہوتی ہے۔ اور وہ اسی امید کی بنا کر ادھار لے لے کر خرچ کرتے رہتے ہیں، یوں ان کی آمدنی اور ان کے خرچوں میں تناسب بگڑ جاتا ہے۔ اور وہ ادھار میں پھنستے چلے جاتے ہیں۔ اس بات کو اچھی طرح سمجھیں کہ آپ کی آمدنی وہی ہے جو آپ نے خود کمائی ہے اور جو آپ کے اکاؤنٹ میں یا آپ کے بٹوے میں آ چکی ہے۔ آپ صرف اسی کو خرچ کرنے کے مجاز ہیں۔ جو رقم ابھی آپ کے پاس آئی ہی نہیں، اسے ایڈوانس میں خرچ کر کے آپ کیسے معاشی خوشحالی حاصل کر سکتے ہیں۔ پیسہ صرف اپنے حق کا ہی کھائیں۔
9۔ لوگوں کو انکار کرنا سیکھیں :
انکار کرنا کسی بھی شخص کے لئے آسان نہیں ہوتا، اور انکار کرنے کا یہ مطلب بھی نہیں ہوتا کہ آپ ہر بات پر ہی نا کرنے لگ پڑیں۔ جہاں آپ دوسروں کی مدد کر سکتے ہیں وہاں ضرور کریں کیوں کہ اگر آپ آج کسی کی مدد کریں گے تو ہی کل کو کوئی آپ کی طرف بھی ہاتھ بڑھائے گا۔ لیکن اس جگہ پر انکار کرنا ضرور سیکھیں جہاں بات یا صورت حال آپ کے مفاد میں نہیں ہے۔ بلکہ اس کام کو کرنے سے دوسرے کا تو فائدہ ہو رہا ہے لیکن آپ کا نقصان ہو رہا ہے یا ہو سکتا ہے۔ ایسا کرتے ہوئے کسی بھی شخص سے کبھی بھی تعلق ختم نہ کریں، بالکل نارمل رہیں، لیکن اس انداز سے بات کریں کہ وہ آپ کے انکار کی اہمیت کو اچھی طرح سمجھ جائے۔


