ایک ملت کی کامیابی کے پیچھے کیا راز ہے؟
میری باتوں سے مکمل اختلاف کا حق ہے۔ ہو سکتا ہے میں جس چیز کو کامیابی کا ضامن، کامیابی کا راز سمجھتا ہوں، اس سے دیگر احباب ناکامی کا سبب سمجھتے ہوں۔ لیکن ایک مسلمان کی نگاہ میں کامیابی وہی ہے جو قرآن و سنت کے عین مطابق ہو اور میں جس کامیابی کی بات کرنے جا رہا ہوں وہ آخر الذکر کامیابی ہے۔ اور دنیا میں سب سے بڑی کامیابی اللہ کی زمین پر اللہ کی حکمرانی قائم کرنا ہے۔ یعنی ”حکومت اسلامی“ اللہ کی زمین پر ”اللہ محور“ کی ترویج کرنا ہے۔ نہ کہ ”انسان محور“ ۔ حاکم مطلق و حاکم اعلیٰ اللہ تعالی کی ذات ہے۔ نہ کہ انسان کی ذات۔
ہم بطور مسلمان اک ملت و قوم کی حیثیت سے مسلمانوں کی اجتماعی و ملی ترقی، مسلمانوں کے اجتماعی مسائل کا حل ”حکومت اسلامی“ کے بغیر ممکن نہیں۔ اور یہ ایک واضح و روشن بات ہے۔ جو ہم تقسیم در تقسیم کی صورت میں ہر روز ملاحظہ کر رہے ہیں۔ میرا مقصد یہاں حکومت اسلامی کے قیام و ضرورت پر بحث کرنا نہیں۔ بلکہ اک اہل علم سے ملاقات کی داستان، اور اس ملاقات سے مجھ پر جو تاثر قائم ہوا وہ بیان کرنا ہے۔
مجھے پچھلے دو سالوں سے گرمیوں کی چھٹیوں میں ایران کے شہر مشھد میں فلسفیانہ مباحث پر مشتمل ورکشاپ میں شرکت کرنے موقع مل رہا ہے۔ امسال بھی خاکسار بطور خادم اس ورکشاپ میں شریک رہا۔ جو 43 دنوں پر مشتمل تھا۔ اُس ورکشاپ میں مختلف فلاسفرز، اہل علم و دانش کو و قتاً فوقتاً مختلف موضوعات پر لیکچر دینے کے لیے بلاتے تھے۔ اک دن اخلاق و تربیت ”کے حوالے سے لیکچر دینے کے لیے جناب ڈاکٹر مرتضیٰ تہرانی کو دعوت دی۔
ڈاکٹر مرتضیٰ تہرانی صاحب علوم قدیم و جدید کا حسین امتزاج رکھتے ہیں۔ علوم اسلامی کے لیے ایران کے شہر قم میں وقت کے مشہور و معروف دانشوروں کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا۔ جن میں آیت اللہ مظاہری اور وادی عرفان کے معروف سالک آیت اللہ بھجت اور معاصر اسلامی فلاسفرز میں نمایاں نام جناب آیت اللہ مصباح یزدی ہیں۔ ایران سے علوم اسلامی کی تکمیل کے بعد اپنے استاد ”مصباح یزدی“ کی ایما پر کینیڈا کا رُخ کیا۔ اور وہاں سے ”نفسیات“ میں ماسٹر کی ڈگری لی۔ پھر ذوق علم کی کشش نیویارک لے گئی۔
چلی ہے لے کے چمن کے نگار خانے سے
شراب علم کی لذت کشاں کشاں مُجھ کو
وہاں سے ”عرفان غیر نمادین از دید خواجہ نصیر الدین طوسی“ کے عنوان پر تھیسیس لکھ کر ”پی ایچ ڈی“ کی ڈگری حاصل کی۔ یوں اپنے استادوں کے خواب کو شرمندہ تعبیر فرما کر وطن واپس لوٹے۔ ایران واپسی کے بعد مختلف یونیورسٹیز، مدارس میں علمی مشاغل کے ساتھ کئی برسوں سے ”مجلس شورائی اسلامی“ ایران سے وابستہ ہیں۔ کئی جہات سے علمی و مذہبی نسبتوں کے امین ہونے کے ساتھ ساتھ مختلف اعلیٰ سرکاری عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔
اس ورکشاپ میں بطور خادم و انتظامی امور کے ذمہ دار ہونے کی حیثیت سے ان کے قیام و طعام دیگر ضروریات کا خیال رکھنا میری ذمہ داری تھی۔
بطور ایک پاکستانی شہری میرے ذہن میں یہ خیال ابھرتا رہا کہ ایرانی پارلیمنٹ کے نمائندے لیکچر دینے تشریف لا رہے ہیں۔ کئی گاڑیوں، بندوق بردار، اسلحوں سے لیس پروٹوکول کے سائے میں آتے ہوں گے۔ اتنے میں ڈاکٹر احمدی صاحب جو اس ورکشاپ کے ذمہ دار اعلیٰ تھے۔ کی کال موصول ہوئی۔ آقائی سراج ڈاکٹر تہرانی تشریف لائے ہیں۔ آپ نیچے گیٹ پر خوش آمدید کرنے جائیں۔ میں گیٹ پر منتظر رہا اتنے میں کسی نارمل ٹیکسی میں ایک خادم کے ساتھ وارد ہوئے۔ نہ گاڑیوں کا ہجوم نہ اسلحہ برداروں کا جمگھٹا، سفید داڑھی، سر پر عمامہ، عبا قبا میں اک وجیہہ شخص، سراپا متواضع و منکسر المزاج، پایا۔
کھانے کے ٹیبل سے لے کر لیکچر اور واپس جانے تک ساتھ رہنے کا موقع۔ ملا کہیں سے بھی احساس نہیں ہوا کہ کوئی ایرانی پارلیمنٹ کا رکن ہے۔ کئی اعلیٰ عہدوں پر فائز رہ چکا ہے۔ علمی و اخلاقی نسبتوں کا امین ہے۔ لیکن پاکستان میں ہر ایرے غیرے کے پیچھے لاؤ لشکر کا قافلہ، گاڑیوں کا کاروان ہوتا ہے۔
ایک ملت کی کامیابی کا راز یہی سادہ زیست اور نفاست پسند ہونا ہے۔ ہر وہ قوم کامیابی سے سرفراز ہے جس کے حکومتی اراکین و نظامی عہدہ داران سادہ زیست، عام زندگی گزارتے ہیں۔

