منڈی بہاؤالدین میں انڈو سکیتھیین ازیسز اول کے سکوں کی دریافت


قبیلہ اور پس منظر

ازیسز اول کا تعلق سکیتھیین یا ساکا قبیلے سے تھا، جو وسطی ایشیا کے خانہ بدوش اور جنگجو قبائل میں سے تھا۔ سکیتھیین قبائل وسطی ایشیا سے نکل کر ایران اور شمالی ہندوستان کی طرف پھیلے ہوئے تھے۔ یہ قبائل خاص طور پر تیر اندازی اور گھڑ سواری میں مشہور تھے۔ مختلف علاقوں میں خانہ بدوش قبائل کی سرگرمیوں اور وسطی ایشیا کے سیاسی حالات کے باعث، سکیتھیینوں نے جنوبی ایشیا کی طرف نقل مکانی کی اور یہاں آ کر اپنی حکمرانی قائم کی۔

حکومت کا آغاز اور علاقے

ازیسز اول نے 58 قبل مسیح کے قریب شمالی ہندوستان میں حکمرانی کا آغاز کیا۔ اس کا اقتدار موجودہ پاکستان کے پنجاب، خیبر پختونخوا، اور گندھارا (ٹیکسلا) کے علاقوں تک پھیلا ہوا تھا۔ ان کا ممکنہ دارالحکومت تخت بھائی یا سوات رہا ہے۔ اس کی سلطنت شمال مغربی ہندوستان اور افغانستان کے کچھ حصوں تک بھی پھیلی ہوئی تھی۔ انڈو سکیتھیین بادشاہوں نے یونانی۔ ہندوستانی حکمرانوں کو شکست دے کر اپنے اقتدار کو مستحکم کیا، اور ساتھ ہی مقامی زبان و ثقافت کو اپنا کر مقامی معاشرے میں اپنی جڑیں مضبوط کیں۔

طرز حکمرانی

ازیسز اول کا طرز حکمرانی مضبوط اور منظم تھا، جس میں اس نے یونانی اور مقامی روایات دونوں کو شامل کیا۔ سکیتھیین حکمرانوں نے مقامی زبان و رسم الخط اور مذہبی روایات کو اپنایا، جس سے ان کی حکومت کو مقامی لوگوں میں قبولیت ملی۔ اس نے اپنے اقتدار کو مستحکم کرنے کے لیے مضبوط انتظامی نظام بھی قائم کیا اور مختلف ثقافتوں کو اپنے اقتدار کا حصہ بنایا۔

سکے اور ان کی خصوصیات

ازیسز اول کے دور میں بنائے گئے سکے انڈو سکیتھیین تہذیب کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔ ان سکوں پر درج ذیل خصوصیات پائی جاتی ہیں :

مواد اور دھات: زیادہ تر سکے چاندی اور تانبے کے تھے، جو تجارت اور عام استعمال میں آتے تھے۔ سونے کے سکے بھی محدود تعداد میں ملتے ہیں۔

ساخت اور ڈیزائن: سکے کے ایک طرف بادشاہ کو گھوڑے پر یا کھڑے ہوئے دکھایا گیا ہے، جس کے ہاتھ میں تلوار یا نیزہ ہوتا ہے۔ دوسری جانب یونانی یا ہندی دیوتا، جیسے زیوس یا ہرقل کی تصاویر ہوتی ہیں، جو اس وقت کے مذہبی میل جول کی عکاسی کرتی ہیں۔

تحریریں اور زبان: ان سکوں پر دونوں طرف یونانی اور خروشٹی زبان میں تحریریں ملتی ہیں۔ یونانی تحریر میں بادشاہ کا لقب ”بادشاہوں کا بادشاہ“ لکھا ہوتا ہے، اور خروشٹی زبان کی تحریر مقامی لوگوں کے لیے ہوتی ہے۔

علامتی نشان: سکوں پر مختلف علامتی نشان جیسے ہلال، ستارہ، ہاتھی، شیر اور پہاڑوں کی تصاویر بھی ملتی ہیں، جو اس وقت کی قدرتی اور مذہبی علامتوں کو ظاہر کرتی ہیں۔

منڈی بہا الدین سے سکوں کی دریافت

ازیس اول کے تین سکے منڈی بہا الدین میں محمد ندیم اختر اور ان کے بیٹوں محمد ثوبان، معیز الاسلام، اور محمد ابراہیم نے دریافت کیے۔ اس دریافت نے اس علاقے کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کیا ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ ازیس اول کی حکمرانی یہاں تک پھیلی ہوئی تھی۔ منڈی بہا الدین میں ان سکوں کی موجودگی اس وقت کے تجارتی اور سیاسی روابط کو ظاہر کرتی ہے۔

پنجاب میں حکمرانی کا دورانیہ

ازیس اول اور اس کے بعد آنے والے سکیتھیین حکمرانوں نے پنجاب اور موجودہ خیبر پختونخوا میں تقریباً پہلی صدی قبل مسیح سے 30 عیسوی تک حکمرانی کی۔ اس دوران انڈو سکیتھیین حکمرانوں نے نہ صرف مقامی زبان، رسم الخط اور مذہبی روایات کو اپنایا بلکہ تجارتی تعلقات بھی قائم کیے۔

حکومت کا کل دورانیہ اور اختتام

انڈو سکیتھیین حکومت کا کل دورانیہ تقریباً 100 سے 120 سال رہا، مگر 30 عیسوی کے قریب کشانی حکمرانوں نے، خاص طور پر کجول کدفیزس نے، اس علاقے پر قبضہ کر کے سکیتھیین حکمرانی کا خاتمہ کیا۔

ازیسز اول کے سکے اور ان کی منڈی بہا الدین میں دریافت نہ صرف سکیتھیین دور کی حکمرانی کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے بلکہ یہ اس علاقے کی قدیم تاریخ اور ثقافت کا ایک زندہ ثبوت بھی ہیں۔ ان سکوں کی دریافت اور مطالعہ ہمارے قدیم معاشی، تجارتی، اور ثقافتی نظام کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

حوالہ جات

1. ”The Indo-Scythians: The History and Coinage of the Indo-Scythians“ by Dr. A. K. Narain
2. ”The Coins of the Indo-Scythians“ by M. D. P. S. Ghos
3. Research Articles on Indo-Scythian Coinage in Journals
4. ”The Scythian Influence on the History and Culture of North India“ by V. V. Mirashi

Facebook Comments HS