ڈیجیٹل کرنسی اور پاکستان: میری تجویز


آج کل پاکستان میں ڈیجیٹل کرنسی کے بارے میں مختلف آراء اور سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، خاص طور پر این ایف ٹی، سپر اے آئی، کرپٹو کرنسی، اور بٹ کوائن کے بارے میں۔ کچھ لوگ ڈیجیٹل کرنسی کی حمایت کر رہے ہیں اور اسے پاکستان کے معاشی استحکام کے لیے اہم سمجھتے ہیں، جبکہ کچھ قانونی حیثیت کے لیے عدالتوں سے رجوع کر رہے ہیں۔

سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے کرپٹو کرنسی پر پابندی کے خلاف انجینئر اور اینکر وقار ذکاء نے اس موضوع پر پاکستان تحریک انصاف کے آئی ٹی وزیر اور دیگر حکومتی عہدیداروں کو آگاہ کرنے کی کوشش کی۔ 2022 میں، انہوں نے اس پابندی کو چیلنج کرنے کے لیے عدالت سے بھی رجوع کیا اور متعدد بار عدالت میں پیش ہوئے۔ تاہم، حکومت کے موقف میں کوئی تبدیلی نہ آنے پر انہوں نے مایوس ہو کر پاکستان کو خیرباد کہہ دیا۔ بعد میں، کراچی کی ایک عدالت نے سماعتوں میں عدم حاضری کی بنا پر انہیں ’اشتہاری مجرم‘ قرار دے دیا، اور ان کے بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کا حکم دیا، جبکہ نادرا نے ان کی قومی شناختی دستاویزات ضبط کرنے کی ہدایت دی۔

اب ہم اپنے پڑوسی ملک بھارت اور پاکستان سے زیادہ مضبوط اسلامی ممالک پر نظر ڈالتے ہیں۔ بھارت میں ڈیجیٹل کرنسی (کرپٹو کرنسی) کو ابھی تک مکمل قانونی حیثیت نہیں دی گئی ہے، تاہم اس کے استعمال اور قانونی معاملات پر غور جاری ہے۔ 2018 میں، بھارتی ریزرو بینک نے بینکوں کو کرپٹو کرنسی سے لین دین کرنے سے روکا، لیکن 2020 میں بھارتی سپریم کورٹ نے اس پابندی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ختم کر دیا۔ اس کے بعد بھارت میں ڈیجیٹل کرپٹو کرنسی میں مزید اضافہ ہوا، مگر حکومت نے ابھی تک اسے مکمل قانونی حیثیت فراہم نہیں کی ہے۔

اگر ہم دنیا کے معاشی اعتبار سے مضبوط ممالک کا جائزہ لیں تو وہاں پر بھی مکمل قانونی حیثیت نہ ہونے کے باوجود کرپٹو کرنسی پر مکمل پابندی نہیں ہے۔ مثال کے طور پر، 2021 میں ترکی نے کرپٹو کرنسی کے لیے ایک نیا قانون متعارف کرایا، جس کے تحت کرپٹو کو قانونی طور پر تسلیم کیا گیا، تاہم اسے مرکزی بینک کی حمایت حاصل نہیں ہے، جس سے اس کا استعمال محدود ہو گیا ہے۔

متحدہ عرب امارات میں کرپٹو کرنسی کو مکمل قانونی حیثیت دی گئی ہے، اور دبئی میں کرپٹو کرنسی کی تجارت کے لیے ایک ریگولیٹری فریم ورک تیار کیا گیا ہے۔ اسی طرح، بحرین اور مالدیپ نے بھی ڈیجیٹل کرپٹو کرنسی کو قانونی حیثیت دی ہے اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔

ہم پاکستانی دنیا کے پیچھے بھاگتے ہوئے نظر آتے ہیں، جب کہ ترقی یافتہ ممالک مستقبل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ جب وقت کے ساتھ چلنے کا موقع ہوتا ہے، ہم اکثر ایک دوسرے پر تنقید کرتے ہیں۔ اگر دوسرے اسلامی ممالک ڈیجیٹل کرنسی کو قانونی حیثیت دینے کے لیے تیار ہیں تو ہمیں بھی اس معاملے میں آنکھیں بند نہیں کرنی چاہئیں۔ بعض مذہبی طبقے ڈیجیٹل کرنسی کو اس بنیاد پر ناجائز قرار دیتے ہیں کہ یہ ایک فرضی کرنسی ہے، جو عددی شکل میں موجود ہوتی ہے اور جس کا کوئی حقیقی خارجی وجود نہیں ہوتا، جبکہ مال یا کرنسی کے لیے کوئی حقیقی صورت ہونی ضروری ہے۔ اس بنیاد پر اسے ناجائز قرار دیا جاتا ہے۔

اگر ہم مان بھی لیں کہ ڈیجیٹل کرنسی کا کوئی حقیقی وجود نہیں تو جو کرنسی نوٹ ہم استعمال کرتے ہیں، وہ بھی کاغذ کا ایک ٹکڑا ہے اور سونے کی کوئی رسید نہیں۔ 2018 میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان میں موجود کرنسی نوٹوں کے مساوی ملک کے پاس سونا موجود نہیں ہے۔ اس کے باوجود کرنسی نوٹوں کے استعمال پر کوئی اعتراض نہیں کیا جاتا۔

مزید برآں، پورا ملک پاکستان سودی نظام پر چل رہا ہے۔ ہم براہ راست سود میں ملوث نہ بھی ہوں تو بھی سودی نظام کا حصہ بننے پر مجبور ہیں، کیونکہ جب پاکستان کسی ملک سے گندم وغیرہ خریدتا ہے، تو یہ سودی قرضوں کی بنیاد پر ہوتا ہے، اور ہم وہی سودی اشیاء استعمال کر رہے ہیں۔

میری رائے میں، اگر کچھ حدود میں رہتے ہوئے ڈیجیٹل کرنسی کو قانونی حیثیت دی جائے تو اس سے ملک کا معاشی معیار مضبوط ہو گا اور سودی قرضوں سے نجات حاصل کر کے اسلامی اصولوں پر بھی عمل کیا جا سکے گا۔ دنیا ماڈرن آن لائن مارکیٹنگ کی طرف بڑھ ہے یہاں تک کہ عنقریب 2050 تک 80 فیصد تک کاروبار آن لائن ہو جائیگا آن لائن مارکیٹ ہوں گے جس طرح آج علی بابا ،علی ایکس پریس ،ایمازون کی طرح آنے والے وقت میں ایسے 50 فیصد مارکیٹ کرنسی نوٹوں کی بجائے ڈیجیٹل کرنسی میں خریداری کریں گے تب یہ اس وقت کی مجبوری بھی بن سکتا ہے۔

پھر کیا کریں گے عنقریب ایک ڈیجیٹل مائننگ ایپ جس کا نام Pi رکھا گیا ہے یہ ایک ڈیجیٹل مارکیٹ ہے جس میں آپ خریداری Pi ڈیجیٹل کوائن کے ذریعے آپ کریں گے اب آگر آپ نے کچھ ضروری چیز خریدنا مجبوری ہوں تب آپ ہمارے حضور کیا فرمائیں گے؟ اس لئے ضروری ہے کہ ہم ماڈرن دور سے منہ پھیرنے کی بجائے معاشی لیول ماڈرن ڈیجیٹل سسٹم کے ذریعے مضبوط کریں تاکہ آنے والے مشکل حالات جیسے کووڈ 19 جیسے وائرس اور جنگوں کا ہم آسانی سے مقابلہ کریں

Facebook Comments HS