چکاڈر کو جتنا اُلٹا لٹکاؤ، مور نہیں بنتا

ہمارے معاشرے میں یہ مشہور کہاوت ”چکاڈر کو جتنا اُلٹا لٹکاؤ، مور نہیں بنتا“ تلخ حقیقتوں کا آئینہ دار ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر کسی چیز میں اس کی اصل خصوصیات ہی موجود نہیں ہیں، تو اس کو تبدیل کرنے کی لاکھ کوشش کی جائے، اس کی اصل خصلت نہیں بدلی جا سکتی۔ یہی حال ہمارے ملک کے اہم شعبوں کا ہے جن کی نا اہلی، بے حسی اور غیر ذمہ داری دن بدن بڑھتی جا رہی ہے، اور یہ سلسلہ ہمارے سماجی ڈھانچے اور عام شہریوں کے لیے مایوس کن ہے۔
صحت کا شعبہ کسی بھی ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، مگر افسوس کہ ہمارے ہاں یہ شعبہ بھی بدترین حالت میں ہے۔ اسپتالوں کی حالت زار، ڈاکٹرز اور عملے کی غیر موجودگی، اور مہنگی ادویات نے عام آدمی کو زندہ درگور کر رکھا ہے۔ صحت کے مراکز میں لاکھوں روپے خرچ کرنے کے باوجود عوام کو وہ سہولیات دستیاب نہیں ہیں جن کے وہ حق دار ہیں۔ ٹیکس کے پیسوں سے تنخواہ لینے والے اہلکار اکثر مریضوں کے ساتھ ناروا سلوک کرتے ہیں، اور عوام کو صرف ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسی صورتحال میں صحت کے شعبے میں اصلاحات اور ایماندارانہ انتظامات کی اشد ضرورت ہے، مگر کیا اس خراب نظام کو بہتر بنا کر ”مور“ بنایا جا سکتا ہے؟ شاید نہیں، جب تک کہ اس میں ایمان داری اور خدمت کے جذبے کو فروغ نہ دیا جائے۔
تعلیم کا شعبہ بھی اسی زوال کا شکار ہے۔ تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی اور شعور کو بیدار کرنے کے لیے ضروری ہے، مگر ہمارے تعلیمی ادارے اور سسٹم بوسیدہ اور خستہ حال ہیں۔ نہ تو معیاری تعلیم دی جا رہی ہے اور نہ ہی طلبہ کو بہتر تربیت دی جا رہی ہے۔ سرکاری سکولوں میں اساتذہ کی غیر ذمہ داری اور تعلیم کے نام پر طلبہ سے لاپرواہی دیکھ کر دل دکھتا ہے۔ تعلیمی اداروں کا مقصد تعلیم دینا نہیں بلکہ محض حاضری لگانا اور حکومت کی جانب سے تنخواہیں وصول کرنا رہ گیا ہے۔ یہ لوگ عوام کے پیسے پر پلتے ہیں، مگر اپنی ذمہ داریوں کا احساس تک نہیں کرتے۔ اگر یہ اپنی بنیادی ذمہ داری نبھانے میں ناکام رہیں گے تو پھر ہمارے معاشرے کے تعلیم یافتہ افراد سے کسی انقلابی تبدیلی کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟
سرکاری دفاتر میں جو رویہ عوام کے ساتھ اپنایا جاتا ہے وہ انتہائی شرمناک اور توہین آمیز ہے۔ ان دفاتر میں کام کرنے والے اہلکار عوام کو انسانیت کی نظر سے دیکھنے کے بجائے انہیں ذلیل و رسوا کرتے ہیں۔ عوام جو کہ ان اہلکاروں کی تنخواہوں کے ذمہ دار ہیں، انہیں ہر ممکن طریقے سے اذیت دی جاتی ہے۔ معمولی مسائل کے حل کے لیے بھی انہیں کئی کئی چکر لگانے پڑتے ہیں، سفارش اور رشوت کے بغیر کام کروانا تقریباً ناممکن بن چکا ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ یہ اہلکار اپنے فرائض کی انجام دہی کو بھاری بوجھ سمجھتے ہیں اور عوام کو کمتر سمجھ کر بدسلوکی کرتے ہیں۔ یہ حالت دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ چکاڈر کو جتنا مرضی اُلٹا لٹکائیں، جب تک سرکاری اہلکاروں میں انسانیت، ایمانداری اور خدمت کا جذبہ بیدار نہیں ہو گا، یہ دفاتر کبھی بھی ”مور“ نہیں بن سکیں گے۔
ہمارے ملک کے ان اہم شعبوں کو بہتر بنانے کے لیے زبانی وعدے اور وقتی اصلاحات کافی نہیں ہیں۔ جب تک ان اداروں میں کام کرنے والوں میں اصل خدمت کا جذبہ پیدا نہیں ہوتا اور ان میں ذمہ داری کا احساس بیدار نہیں ہوتا، تب تک یہ نظام محض چکاڈر ہی رہے گا، مور نہیں بن سکتا۔ عوام کے ٹیکس کے پیسے سے تنخواہیں لینے والے یہ سرکاری ملازمین اگر اپنی ذمہ داریاں ایمانداری سے نبھائیں تو ہی تبدیلی ممکن ہے۔ مگر افسوس کہ ہمارے ہاں اس حقیقت کو سمجھے بغیر ہی نام نہاد اصلاحات کی باتیں کی جاتی ہیں۔ جب تک اداروں کے اندرونی نظام میں بنیادی تبدیلیاں نہیں آئیں گی، اس خراب ڈھانچے کو ”مور“ بنانا محض ایک خواب ہی رہے گا۔

