ادیبوں اور لکھاریوں کے نفسیاتی مسائل


ویسے تو اس بات کا اطلاق ہر تخلیق کار یا فنون لطیفہ کی ہر صنف سے وابستہ تمام افراد پر ہوتا ہے کہ یہ لوگ کسی نہ کسی نفسیاتی الجھن میں مبتلا ہوتے ہیں لیکن اس مضمون میں ہم خاص طور پر ادب کی اصناف سے متعلقہ لوگوں یعنی ادیبوں اور لکھاریوں کے بارے میں بات کریں گے۔

بابائے تحلیل نفسی کے نظریے کی روشنی میں پہلے تمام تخلیق کاروں کو بالعموم اور لکھاریوں اور ادیبوں کی نفسیات کو بالخصوص سمجھا جائے۔

سگمنڈ فرائڈ نے ہمیں انسانوں کی نفسیاتی کشمکش جو انسانی ذہن کی تین قوتوں یعنی اڈ، ایگو اور سپر ایگو کی جنگ پر مبنی ہے سے نبرد آزما ہونے کے لئے انسانوں کی دفاعی میکانیتوں کا تصور دیا ہے۔ ہر دفاعی حربے کو کسی نہ کسی طور ہر انسان اپنے تئیں اپنے عدم تحفظ اور نا آسودہ خواہشات کو تسکین دینے کے لئے استعمال کرتا ہے۔ لیکن زیادہ تر حربے فرد کو فوری طور پر بچا تو لیتے ہیں لیکن اس کی نفسیاتی الجھنوں اور بیماریوں کی عکاسی بھی کرتے ہیں کیونکہ یہ تمام نفسیاتی جنگی مشقیں کسی فرد کی اپنے دفاع میں ناکامی کی غماز ہیں۔ اسی لئے انہیں منفی ڈیفیس میکانزم کہنا بے جا نہ ہو گا۔

لیکن سگمنڈ فرائڈ کی بتائی ہوئی ایک دفاعی تیکنیک کسی بھی انسان کے عدم تحفظ اور نفسیاتی کشمکش میں تسکین اور دفاع کا باعث بنتی ہے۔

اسے ارتفاع یعنی (Sublimation) کی اصطلاح سے جانا جاتا ہے۔

ادیب اور لکھاری اگرچہ عام انسانوں کی طرح ہوتے ہیں اور اپنی اندرونی قوتوں کی کشمکش سے دوچار رہتے ہیں۔ بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ یہ وہ حساس افراد ہیں جو اپنی اس کشمکش کے باوجود ان معاملات پر بات کرنا چاہتے ہیں جن پر بات کرنا ان کے معاشرے میں ممنوع سمجھا جاتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو قدرت نے اعلی درجے کا شعور، حساس دل، منفرد سوچ اور اجمالی حس لطافت سے نوازا ہے۔ جنسی معاملات ہوں یا عورت مرد کے تعلقات، محبت، احترام انسانیت، یا اعلی انسانی اخلاقی اقدار ان کا معیار اور طرز ادراک معاشرے کے عام افراد سے مختلف اور حقیقت پر مبنی ہوتا ہے۔ یہ زود حس ہونے کے باعث ان واقعات کو بھی جلد محسوس کرلیتے ہیں جن پر دوسرے عام افراد کی نگاہ نہیں پڑتی یا وہ اس کے انکاری ہوتے ہیں یعنی ڈینائل سے اس واقعے کا دفاع کرتے ہیں۔ لیکن ادیب اور لکھاری اس حقیقت پر مبنی ادراک کو دبانے، چھپانے کی بجائے ان کی نشاندہی کرنا چاہتے ہیں اور کسی منفی دھارے پر ڈالنے اور اظہار کے منفی انداز اپنانے کے بجائے مثلاً ؛ غصہ، تشدد، حسد اور خوف، پریشانی، عدم روا داری، منافقت اور جنسی خواہشات وغیرہ۔ ان منفی رجحانات کو جسمانی عوارض میں تبدیل ہونے کے عمل کو روکنے کے لئے ”عمل ارتفاع“ کا سہارا لیتے ہیں۔ یوں یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ فرائڈ کے افکار کے مطابق ارتفاع کی دفاعی تیکنیک ہی ہے جو معاشرے کو تخلیق کار اور ادیب عطا کرتی ہے یا دوسرے لفظوں میں ادیب اور لکھاری وہ عقلمند اور شعور رکھنے والے انسان ہیں جو اپنی نفسیاتی قوتوں کی جنگ میں شکست نہیں کھاتے۔ اور ارتفاع کی مدد سے اپنے اور معاشرے کے کتھارسس کا سبب بنتے ہیں۔ اور کسی بھی معاشرے کی مثبت روش اس کے ارتقاء کے عمل کو سہل بناتی ہے۔ اور ادیب اور لکھاری ہی معاشرے کو صحتمند معاشرہ بنا سکتے ہیں۔ خواہ وہ تفریحی ادب تخلیق کر رہے ہوں، اصلاحی یا فکری تبدیلی کی کاوش ہو اور شعوری روشنی کا پیغام ہو یا خالص علمی ادب پارہ ہو۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تو پھر کیوں معاشرے کے یہ باشعور افراد جو اپنی اندرونی نفسیاتی جنگ کے لئے مثبت دفاعی میکانیتیں استعمال کرنے کے باوجود بھی ذہنی انتشار کا شکار رہتے ہیں اور معاشرے کے عام لوگ ان کو ذہنی خلل میں مبتلا گردانتے ہیں۔ کیا واقعی یہ باشعور لوگ بھی نفسیاتی عوارض کا شکار ہوتے ہیں اور کیوں؟

اس کا جواب ہے کہ یہ بات درست ہے کہ یہ باشعور لوگ حقیقت میں بہت سی نفسیاتی بیماریوں اور الجھنوں میں مبتلا ہوتے ہیں بلکہ بہت سی حالتوں میں یہ ان الجھنوں کی انتہاؤں کو پہنچ کر خودکشیوں کے بھی مرتکب بھی نظر آتے ہیں۔

ان تخلیق کاروں کی نفسیاتی الجھنیں کیسے شروع ہوتی ہیں اور کن مراحل سے گزر کر توازن کھو کر انتہائی اقدامات پر منتج ہوتی ہیں۔ اس مظہر کو یوں مراحل کو دیکھا جائے :

تمام تخلیقی صلاحیتیں قدرتی طور پر ودیعت ہوتی ہیں۔ یہ افراد پیدائشی طور پر ایسے دماغی کیمیاوی نظام کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں جس میں ان کے دماغ کا دایاں حصہ زیادہ متحرک اور فعال ہوتا ہے جس کا تعلق اعلی فکری صلاحیتوں، زبان دانی، تخلیق، شعور اور اعلی دماغی افعال جن میں بیدار ضمیر، اعلی اخلاقی اقدار، انسان دوستی اور ہمدردی، رحم، سچائی، حقیقت کا ادراک، زود حسی اور انصاف جیسے اوصاف سے ہے۔ اور یہ اوصاف وراثت میں بھی منتقل ہوتے ہیں۔

ان کے دماغ کی فطری ساخت انہیں ان کے ماحول میں پائی جانے والی تمام برائیوں اور اچھائیوں میں منطقی بنیادوں پر پرکھنے، ان کی نشاندہی اور اچھے برے میں امتیاز کرنے اور منظر عام پر لانے پر اکساتی رہتی ہے۔

اپنی بے چینی سے نجات کے لئے یہ جب ”ارتفاع“ کی طرف آتے ہیں تو معاملہ یہیں ختم نہیں ہوجاتا بلکہ ان کو اس کشمکش سے نمٹنے کے بعد بہت سی دیگر صورت احوال کا سامنا کرنا ہوتا ہے۔ جن میں سے بہت سی مشکلات ان کی اپنی ذات کے اندرون سے وابستہ ہیں اور بہت سے بیرونی عوامل ہیں۔

اندرونی عوامل:

1۔ پوسٹ پارٹم ڈپریشن یا ما بعد تخلیق اداسی؛ جس میں کوئی بھی ادیب یا لکھاری ایک تخلیق کے بعد یاسیت اور مایوسی کے اندھیروں میں گم ہو جاتا ہے جب تک کہ اس کو اس کی تخلیق پر پذیرائی نہ ملے یا پذیرائی ملنے کے بعد آئندہ تخلیق کا عمل سرزد نہ ہو۔ بہت سے چوکس ادیب زود نویسی کی عادت سے جلد اس سے چھٹکارا پا لیتے ہیں لیکن بہت سے طویل عرصے تک اس یاسیت سے نہیں نکل پاتے اور بریک تھرو سے دوبارہ بریک ڈاؤن میں لوٹ آتے ہیں۔ ایسا ایسے ادیبوں اور لکھاریوں کے ساتھ ہوتا ہے جو بہت زیادہ زود رنج اور زود حس ہونے کے علاوہ حد سے زیادہ تکمیلیت پسند ہوتے ہیں اور بہت منفرد اور بہترین لکھ کر دنیا کو چونکا دینے کی خواہش رکھتے ہیں۔ یہ چونکا دینے والے جوہر ان کے اندر خزانوں کی صورت میں انہیں بہت گہرے پانیوں میں اترنے کے لئے تحریک کرتے ہیں لیکن وہ غوطہ زن ہونے کے لئے اچھے وقت اور اپنے اوپر مکمل کیفیت طاری ہونے کا انتظار کرتے ہیں۔ یہ پوسٹ پارٹم ڈپریشن اگر طویل ہو جائے تو لکھاری یاسیت میں جا کر الکوحل کے استعمال کا عادی بن جاتا ہے۔ اسی لیے شاعروں، ادیبوں اور دیگر اصناف فنون لطیفہ سے منسلک زیادہ تر افراد بادہ نوشی کو اپنی تخلیق کاری میں معاون سمجھتے ہیں۔ شاید یہ فرار کی ایک صورت ہو۔ یا تکمیلیت پسندی کی بے چینی کے بحران سے نمٹنے کا ایک آسان نسخہ۔

2۔ خود ساختہ التوا اور تاخیر کی عادت: (Procrastination)

یہ عادت بھی ایک منفی نفسیاتی کیفیت ہے جس میں فرد آج کا کام کل پر ڈالنے کے مرض میں مبتلا ہوتا ہے۔ یہ التوا کبھی کبھی پہلے سے موجود ڈپریشن کے باعث بھی ہو سکتا ہے یا محض فرد کی اپنی سستی اور کاہلی کی وجہ سے بھی۔ لہذا اچھے بھلے لکھاری اس عادت کی وجہ سے ناکام رہتے ہیں۔

3۔ علمی عدم اطمینان یا کوگنیٹو ڈسونینس: کسی ادیب یا تخلیق کار میں اس تشکیکی کیفیت کا موجود ہونا اگرچہ ایک مثبت اور تعمیری وصف ہے جو کسی ادیب کو تحقیق، مطالعہ اور مکالمہ کی طرف لے جاتا ہے۔ اور اس وصف کے درست استعمال سے کوئی فرد بہترین ادب پارے معاشرے کو دے سکتا ہے اور خود ادیب کو بھی ادب عالیہ کی صف میں کھڑا ہونے کے قابل بنا سکتا ہے۔ لیکن اس عدم اطمینان کے ساتھ اگر کسی ادیب کی شخصیت کے کمزور پہلوؤں، منفی دفاعی میکانزم، معاشرے میں جبر و استبداد کے نتیجے میں قدغنیں بھی موجود ہوں تو بغاوت، منافقت، گروہ بندی، نفرت انگیزی اور تعصب سے بھرپور ادب سامنے آتا ہے جو کسی ادیب کے انفرادی اور معاشرے کے مجموعی تاثرات کو کمزور پیش کرتا ہے۔

بیرونی عوامل:

1۔ معاشرے کے رویے : جو کسی بھی چھوٹے بڑے ادبی قد کاٹھ کے تخلیق کار یا ادیب کی کمر توڑ کر اسے ادیب سے غیر ادیب بنا سکتے ہیں ان میں وہ نرگسی رویے ہیں جو کسی لکھاری کی حوصلہ شکنی کرنے اور اس کی تخلیقات کو دو کوڑی کا نہیں چھوڑتے۔ یہ نرگسی رویے اس کے اپنے گھر، خاندان، تعلیمی اداروں اور خود اس کے اپنے قلم قبیلے میں پائے جاتے ہیں۔ یہ رویے کسی ادیب کو ادب تخلیق کرنے سے روکنے اور حوصلہ شکنی کی نرگسی سازشیں ہیں مثلاً کسی اعلی ترین ادبی تخلیقات کو کمتر گرداننے کا پروپیگنڈا، اس کی کامیابیوں پر دوسرے لوگوں کا خاموش رہنا اور سراہنے میں بخل، اس کے ادب پاروں میں جھلکتے انفرادی اور شاندار فکری اور اعلی تخیلاتی اوصاف اور کسی عظیم فلسفے کی موجودگی پر بے جا تنقید، توہین مذہب کا الزام اور فحاشی، بے باکی اور معاشرے کی مروجہ اقدار سے انحراف کا الزام لگنا وغیرہ۔

2۔ ذاتیات پر حملے : کسی شاعر ادیب کی تخلیقات کو اس کی ذاتیات سے منسوب کرنا مثلاً ناول نگاری اور افسانہ نگاری میں کہانی کے کرداروں کو اور کہانی کو ادیب کی ذاتی زندگی کا خاکہ کہہ کر اسے شرمندہ کرنا۔ جبکہ کسی بھی تخلیق سے تخلیق کار کی ذات کو منہا نہیں کیا جا سکتا۔ ہر لکھاری اپنی ذات کے اظہار کے لئے واقعات کو فکشنلائز کر سکتا ہے جو جلد ہی پورے معاشرے کے اظہار کا ذریعہ بن جائے۔ ایسے میں ادیب کی بہادری کو تحسین کی نظروں سے دیکھا جائے کہ اس نے اپنی ذات بیتیوں کو رضاکارانہ پیش کر کے ادب کو عطیہ کیا ہے۔ مبادا کہ ہر شخص کو وہ تخلیق اپنی ذات پر حملہ محسوس ہو۔ ایسے میں دوسرے افراد عدم تحفظ کا شکار ہوتے ہوئے نرگسیت کے تمام اوصاف کے ساتھ ادیب پر ذاتی حملے کرتے ہیں جس سے کوئی مضبوط اعصاب کا ادیب بھی احساس جرم کا شکار ہو سکتا ہے۔

3۔ تعصب: کوئی بھی ادیب اس وقت نہایت قابل ترس حالت میں محسوس کرتا ہے اگر وہ بد قسمتی سے کسی معاشرے کی ثقافتی اور خاص طور پر مذہبی اقلیت سے تعلق رکھتا ہے۔ ایسے میں بڑے سے بڑے تخلیق کار لکھاری اور ادیب یا تو اپنی مذہبی شناخت کو چھپانے پر مجبور ہو جاتے ہیں، یا منافقت کا راستہ اختیار کرتے ہیں یا اپنا مذہب چھوڑ دیتے ہیں۔ تمام صورتوں میں کوگنیٹو ڈسونینس کے منفی اثرات کے زیر اثر ایک ادیب بہت سے نفسیاتی مسائل کا شکار ہو سکتا ہے اور انتہائی نتیجہ ادیبوں، شاعروں اور لکھاریوں میں خود کشی جیسے اقدامات اور رجحانات پایا جانا ہے۔

ادیبوں اور لکھاریوں کو نفسیاتی مسائل سے بچانے کے لئے تجاویز:

بہت ابتدا میں بچے کی تخلیقی صلاحیتوں کو پہچان کر گھر اور سکول کی سطح پر حوصلہ افزائی اور معاونت کی جائے۔

ان کے انحرافی اور منفرد خیالات کی درست سمت میں رہنمائی کی جائے۔
نرگسی رویوں یعنی حسد اور تعصب سے نمٹنے کی مہارتیں سکھائی جائیں
اس کی تخلیقات کی اشاعت اور تشہیر کے لئے آسان اقدامات اور سہولتیں فراہم کی جائیں۔

بڑے اور سینئر ادیب اس سلسلے میں اعلی ظرفی کا مظاہرہ کریں اور معاشرے کے شعوری ارتقا کا راستہ ہموار کریں۔

ادیبوں کو ترغیب دی جائے کہ وہ اپنی ہر لمحہ بدلتی ذہنی کیفیات کو قابو میں رکھنے کے لئے ماہرین نفسیات سے رابطہ رکھیں۔

۔