جینڈر واچ سے صنف آہن تک: ایک فیمنسٹ کی ڈائری کا ایک ورق
کچھ عرصہ قبل ڈائنو سار کی ڈائری لکھنی شروع کی، پھر سوچا کہ کس کو میری زندگی، میرے مشاہدوں اور تجربات میں دلچسپی ہوگی؟ کون میرے ساتھ بہاری المیے کی روداد پر غم زدہ ہو گا؟ اب تو سکرین پر لائیو جنگیں، خون ریزی، نسل کشی اور نورا کشتی دیکھ کر بھی ہم میں سے بہتر اخلاقیات اور اصولوں والے لوگ بھی محض آہ بھر کر چینل بدل دیتے ہیں۔ بھوک، روزگار، طاقت اور پیسہ ہی اصل حقیقت ہیں اور دنیا ایک جنگل ہے جہاں survival of the fittest یا قوی ترین کی بقا کا اصول لاگو ہے، چاہے اقوام متحدہ کی قراردادیں کچھ بھی کہیں یا لندن کی پر آسائش زندگی کے باوجود زہرہ نگاہ کا دل پاکستان کے حالات پر تڑپ اٹھے اور وہ بے قرار ہو کر شاعرانہ استعارے میں بیان کریں کہ سنا ہے جنگلوں کا بھی دستور ہوتا ہے۔
ہمارے یہاں دستور تو نافذ نہیں، بس اسلام آباد جیسے جنگل میں جہاں جنگلی حیات اور بے طاقت لوگوں کو بے گھر کر کے بابو اور فضیلت کے اعلیٰ درجات پر فائز انسانوں کے لیے ایک جنّت بنائی گئی ہے، وہاں شاہراہ دستور ضرور موجود ہے۔ زمینی حقائق اور اپنی بے زمینی، بے امانی اور بے مرتبگی کو تسلیم کرنے کے بعد یہی مناسب لگا کہ جس لمحے آمد ہو، اس لمحے کو کالم یا بلاگ کی شکل دے کر ”ہم سب“ یا اس جیسے گنتی کے دو تین فورمز کے حوالے کر دیں۔ ہم جیسوں کو نہ فرصت سے لکھنے کا وقت ہے، نہ مارکیٹنگ آتی ہے، نہ ناشر میسر ہیں، نہ ایلیٹ میلے اور ٹی وی چینلز پر اب رسائی ممکن لگتی ہے کہ ہمارے پاس وہ مہارت، وہ ذہانت، وہ لہجہ یا وہ چورن اور منجن نہیں ہے جس کی آج کل طلب ہے۔
بکنے والی اجناس میں روح بھی شامل ہے کیونکہ اب مزاحمت، ادب، صحافت اور سیاست کی بھی اسٹاک مارکیٹ ہے اور ڈاکٹر فوسٹس صاحب یا صاحبہ مختلف شناختوں کے ساتھ اپنا فریضہ بخوبی سرانجام دے رہے ہیں۔ ایک مقبول جنس اب فیمنزم بھی ہے۔ اس حوالے سے ایک یادوں کا گلدستہ جس میں پھولوں کے ساتھ کانٹے اور سوکھی جھاڑیاں بھی ہیں، آج سپرد قلم بلکہ کی بورڈ ہے۔
پچھلی صدی کی بات ہے کہ میں ایمسٹرڈیم سے اپنا پوسٹ گریجویٹ مکمل کر کے واپس پاکستان آئی، تو اپنے تھیسس میں جس کمیونیکیشن ماڈل کا خاکہ دیا تھا، اسے ٹی وی سیریز میں ڈھالنا شروع کیا۔ اس طرح پہلی بار نہ صرف میں نے جینڈر کے اردو ترجمے صنف کو میڈیا اور اکادمیا میں روشناس کرایا بلکہ میرا یہ پروگرام ”جینڈر واچ“ پی ٹی وی کی تاریخ میں مرد اور عورت کے حوالے سے پہلا پروگرام بن گیا جو نوجوانوں نے پیش کیا۔ اس کی کل 19 اقساط تھیں۔ پہلی چھے پائلٹ تھیں اور توثیق حیدر اور مہوش اس کے میزبان تھے اور بقیہ تیرہ کی میزبانی سید فاروق حسن اور عائشہ نے کی تھی۔ پہلے پروگرام کا سکرین پلے میں نے عرفان عرفی سے لکھوایا اور بقیہ پانچ سید شمعون ہاشمی سے کہ میں دیکھنا چاہتی تھی کہ مرد حضرات فیمنسٹ لینس سے کیا دیکھتے اور سوچتے ہیں۔ ریسرچ اور سکرپٹ پر نظر ثانی میری تھی۔ پھر میں نے ”ٹیک اوور“ کیا اور ایک ایک لفظ خود لکھا اور ہزاروں انٹرویوز کے سوالنامے بھی خود بنائے اور ہر میدان سے اہم، توانا اور کمیونٹی کی آوازوں کو شامل کیا۔ بچوں کے جنسی استحصال، ایڈز، فیملی پلاننگ، صحت ’ادب، صحافت، سیاست، موسیقی، بڑھاپا اور صنفی تشدد کے کئی زاویوں پر مکالمے کا آغاز کیا۔ پہلی بار فیمنسٹ نظموں کو فلمایا۔ بہت سے نئے کام کیے۔ میری خوش قسمتی کہ سید اختر وقار عظیم اور مرحوم خالد زیدی جیسی قد آور شخصیات نے اس پروگرام کو پسند کیا۔ ایک جملہ کیا ایک لفظ بھی نہیں سینسر ہوا۔ سید مشاہد حسین جو اس وقت وزیر تھے، انہوں نے بھی منظوری کا پروانہ دیا اور یوں یہ پروگرام پی ٹی وی سے نشر ہوا اور 2001 میں اس نے ایوارڈ بھی جیتا۔ یہ سب کچھ میں نے کسی ڈارک روم میں بیٹھ کر نہیں کیا بلکہ دشمنی سے بھرے ماحول اور ایک پیچیدہ نجی صورتحال میں کیا۔
صدی بدل گئی۔ جینڈر، عورت، فیمنزم اور ان سے متعلقہ موضوعات پر کھل کر بات ہونے لگی اور جن کو یہ کھلا وہ بھی بے نقاب ہونے لگے۔ ”گیم“ میں منافع نظر آیا اور اچانک کئی مرد اور خواتین جنہوں نے پدر سری کے خلاف نہ تو کبھی مزاحمت کی نہ کوئی نقصان کا سودا کیا، وہ بھی اپنے آپ کو فیمنسٹ کہنے لگے /لگیں اور کئی انٹلیکچوئل اسپیس پر قبضہ کر لیا۔ پہلے ڈھونڈے سے کوئی جینڈر ایکسپرٹ نہیں ملتا تھا/تھی اب ہر کوئی اس معاملے میں ایکسپرٹ ہے۔ اچھی بات ہے بظاہر مگر مضمرات تو تب ظاہر ہوں گے جب اناڑی اور مطلب پرستوں کے ہاتھوں کیے گئے دھوکوں اور وارداتوں کے نتائج امڈ امڈ کر سامنے آرہے ہوں گے۔ پھر بھی زبردست بات یہ ہے کہ اس آپا دھاپی میں کچھ حساسیت بھی اجاگر ہوئی اور ہم نے دیکھا کہ ای ایس پی آر نے بری یا بھلی بہر کیف ”صنف آہن“ جیسی ٹی وی ڈرامہ سیریز بنا ڈالی۔ عہد وفا پر بات پھر سہی۔ میں اولڈ سکول ہوں۔ مجھ کو ابھی بھی سنہرے دن اور الفا براوو چارلی کی پروڈکشن اور سکرپٹ بہتر لگتا ہے۔
بہت سے سوالات ہیں۔ اردو اور دیگر پاکستانی زبانوں میں صنفی مسائل، مصائب اور تعصبات پر بات کیسے کی جائے؟ میڈیکل ڈاکٹرز دو جملے انگریزی کے بغیر بول نہیں سکتے۔ تصور کریں کہ وہ اپنے مریضوں کو ایس آر ایچ آر (جنسی اور تولیدی صحت اور حقوق) ، مانع حمل، ازدواجی زیادتی اور دیگر پیچیدہ موضوعات کے بارے میں اردو اور مقامی زبانوں میں کس طرح بتا سکتے ہیں؟ آرٹ، ادب اور صحافت نے اس حوالے سے کیا کردار ادا کیا؟ کیوں اب تک مرد لڑکی ”پسند“ کرتے ہیں اور لڑکیاں ”پھنسا“ رہی ہیں؟ ”کیوں اب بھی ٹی وی چینل بشمول خاتون مالکن والے بھی ایسے ڈرامے دکھا رہے ہیں جہاں لڑکی پیسے والے مرد کے پیچھے بھاگ رہی ہے اس حد تک کے نہ عمر کا لحاظ نہ رشتوں کی حرمت کا ارادہ۔ تین ڈرامے تو میں دیکھ چکی ہوں جس میں بہنوئی سے عشق اور شادی دکھائی گئی ہے۔ اب خواتین اور لڑکیاں ہر جگہ ہیں، سپورٹس میں، پولیس میں، ، میڈیا میں، فوج میں۔ ہر جگہ لیکن کیا موج میں ہیں؟ سوال یہ بھی ہے کہ وہ کس قیمت پر ہیں؟ وہ کتنی محفوظ ہیں؟ وہ کتنی خود مختار ہیں؟ قیمت، حفاظت اور ایمپاورمنٹ جیسے کثیر الجہتی الفاظ اور نظریات کو سمجھنا اور سمجھانا ضروری ہے، ورنہ 25 نومبر سے 10 دسمبر تک سولہ دن صنفی تشدد کے خلاف احتجاج کے ہوں، یا آٹھ مارچ کا عالمی حقوق نسواں یا بارہ فروری کا پاکستانی عورتوں کا دن، یہ صرف بیکار کی مشقت، وقت اور پیسوں کا ضیاع ہی ہو گا۔
پاکستان کی بات کریں تو مجھے بہت مایوسی ہے کیونکہ یہاں احتجاج کر کے محفوظ رہنے کا حق صرف ان خواتین/لڑکیوں اور حضرات کو ہے جو ایلیٹ ہیں، جن کے سرنیمس سے ہولناک طاقت ابلتی ہے، جو جاگیردار یا جاگیردارنیاں ہیں یا مقامی یا عالمی اسٹیبلشمنٹ کی گڈ بکس میں ہیں یا محفوظ ٹھکانوں کے طور پر کسی اور پاسپورٹ کے حامل ہیں۔ باقی کچھ بچت اور شہرت ان کی ہے جو ایسے کارآمد ”ایکٹیوسٹس“ کے دوست یا مصاحب ہیں۔ ان کے علاوہ کوئی بھی پاکستان میں سچی، صاف ستھری نظر آنے والی کامیاب مزاحمت نہیں کر سکتا/سکتی۔
رونگ نمبرز کو پہچان کر جیو۔



