یہ سب گدھ ہیں

آپ سب یقیناً مستنصر حسین تارڑ کو جانتے ہوں گے جو پاکستان کے صف اول کے لکھاری ہیں، بڑے بڑے لوگ انہیں پاکستان میں سفر نامے کا بانی بھی کہتے ہیں۔ میں نے مستنصر صاحب کی ایک تحریر میں گدھ کو گدھے کی پیٹھ میں سوراخ کرنے اور اس کی بوٹیاں نوچنے کا منظر پڑھا تھا۔ یقین کیجئے وہ منظر پڑھ کر میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے تھے۔
مستنصر صاحب نے لکھا تھا ان کے سامنے ایک زخمی گدھا کھڑا تھا گدھے کی پیٹھ پر گدھ بیٹھا تھا، گدھ کی گردن گدھے کی پیٹھ کے سوراخ میں گم تھی، پیٹھ پر صرف گدھ کے پر اور پاؤں رہ گئے تھے گدھا تکلیف سے چیخ رہا تھا لیکن گدھ اس کو اندر سے کاٹ کاٹ کر کھا رہا تھا۔ مستنصر صاحب کے دیکھتے ہی دیکھتے گدھ نے اپنی چونچ سوراخ سے باہر نکالی تو وہ گردن تک گدھے کے لہو میں لتھڑا ہوا تھا۔
جب بھی میں پاکستان کے نظام کے بارے میں سوچتا ہوں، اس ملک کے سسٹم کو دیکھتا ہوں، جب میں بیورو کریٹک سسٹم کا جائزہ لیتا ہوں، جب میں اس ملک کے سیاسی کلچر کو دیکھتا ہوں، جب بھی میں فوج اور عدالت کے ماضی اور حال کو سنتا اور دیکھتا ہوں، جب میں اس ملک کی اسٹیبلشمنٹ کو دیکھتا یوں، جب میں صحافیوں کو سنتا ہوں، جب میں اس ملک کے عوام کو دیکھتا ہوں تو مجھے اس ملک کے سب شعبے، تمام ادارے اس زخمی گدھے کی طرح دکھائی دیتے ہیں اور ان کو چلانے والے لوگ ایسے گدھ ہیں جن کی چونچیں گردن تک اس سسٹم کے خون سے لتھڑی ہیں۔ اس میں، میں بھی شامل ہوں اور آپ بھی، پٹواری بھی، یوتھیا بھی، جیالا بھی، مذہبی ٹھیکیدار بھی، وکیل بھی، چپراسی بھی، یہاں تک کہ ڈرائیور اور کنڈیکٹر بھی اس ملک کو نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں اور ساتھ ہی یہ شکوہ بھی کرتے ہیں کہ اس ملک کا سسٹم ٹھیک نہیں، اس میں انصاف نہیں، اس میں میرٹ نہیں، اس میں قانون اور آئیں کا احترام نہیں، اس کی سیاست اچھی نہیں، اور اس کی پالیسیوں کی سمت درست نہیں۔ لیکن ہم نے آج تک کبھی یہ نہیں سوچا ہے کہ ہم نے اس ملک کے لئے اور اس ملک کے ساتھ کیا کیا؟ ہم نے اس نظام کو بہتر بنانے اسے صاف پاک کرنے کے لئے کیا کیا ہے؟ ٹھیک ہے ہو سکتا ہے اس ملک نے ہمیں کچھ نہ دیا ہو لیکن سوال یہ ہے ہم نے آج تک اس ملک کو کیا دیا ہے؟
کسان یا زمیندار فصلوں کی حفاظت کے لئے کھیتوں کے گرد باڑ لگاتے ہیں، اس باڑ کی ذمہ داری فصل کی حفاظت ہوتی ہے لیکن جب باڑ ہی فصل کو کھانے لگے تو حالات اس وقت خراب ہوتے ہیں۔ اسی طرح جب چوکیدار چور بن جاتا ہے، امام مسجد کی اینٹیں سیمنٹ بجری اور سریا بیچ دیتا ہے، پولیس ڈاکو بن جاتی ہے، جج بے انصافی کرتا ہے، فوج اپنے ہی شہریوں کو فتح کرنے لگتی ہے، قانون ساز ادارے قانون ہی کو توڑنے لگتے ہیں، سیاستدان سیاست کو کاروبار بنا لیتے ہیں ریوڑ کا رکھوالا بھیڑ بکریاں ذبح کرنے لگتا ہے اور عوام ملک کو لٹتے برباد ہوتے اور خراب ہوتے دیکھتے ہیں تو مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے، اور ہمارے ملک کے ساتھ یہی ہو رہا ہے۔ اس ملک کو اس کی باڑ کھا رہی ہے اس کے چوکیدار چور بن چکے ہیں اور ملک کے مالک یعنی عوام منہ دیکھ رہے ہیں چنانچہ اس کے اندر کا زخم گہرا ہوتا چلا جا رہا ہے۔
بتاؤ! کوئی ہے جو اس ملک کے ساتھ تھوڑا سا بھی مخلص ہو؟ ان سیاست دانوں کو دیکھ لیں، آپ کو پارلیمنٹ میں ایک بھی باضمیر آدمی نہیں ملے گا۔ ان لوگوں نے سیاست کو کاروبار بنا رکھا ہے۔ انہوں نے ملکی معیشت کو گدھ کی طرح کھایا ہے۔ فوج کو دیکھو۔ وہ فوج کہاں گئی؟ جس کے لیے گانے اور نغمے گائے گئے، آج جرنیلوں کی کرپشن، سیاست میں مداخلت، عدالت میں مداخلت، ٹھیکوں میں مداخلت کی ایک سے بڑھ کے ایک نئی داستان سامنے آ رہی ہے۔ کسی ایک ادارے کا نام بتائیں جس میں فوج ملوث نہ ہو۔ بیوروکریٹس اور ججز اس ملک کو پہلے ہی دلدل میں گھسیٹ چکے ہیں۔ یہ گدھ اس ملک کو وینٹی لیٹر پر لے آئے ہیں لیکن اب بھی اس ملک کی جان چھوڑنے کو تیار نہیں۔
اللہ سب گدھوں کو جلد تباہ برباد کر کے اس ملک کو ایک خوشحال ملک بننے کی توفیق عطا کر دیں۔

