پختون معاشرے میں بچوں کا مستقبل


پختون معاشرے میں ہمارے بچے صحیح تربیت، پرورش اور تعلیم سمیت کئی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، بالخصوص اگر بات کی جائے سابقہ فاٹا میں بسنے والے بچوں کی، وہاں پر معاشرے میں بچوں کی پیدائش سے لے کر جوانی تک کوئی ایسا ہنر یا کام ان کو نہیں سکھایا جاتا کہ وہ معاشرے میں دیگر بچوں کے مد مقابل ہو سکیں۔ میں سب کی بات نہیں کر رہا بلکہ ان بچوں کی بات کر رہا ہوں جو کہ تعلیم حاصل کرنے سے قاصر رہے ہیں۔

ایک طرف بدامنی نے ہمارے بچوں کا مستقبل داؤ پر لگا دیا ہے اور دوسری جانب ( ٹک ٹاک ) نے ان کی تربیت اور تعلیم سمیت سب کچھ چھین لیا ہے۔ ٹک ٹاک تو ویسے پوری دنیا میں لوگ استعمال کر رہے ہیں لیکن ہمارے ہاں ٹک ٹاک سمیت دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے غلط استعمال نے خاصا زور پکڑا ہوا ہے۔ ٹک ٹاک نے ہمارے بچوں کو اخلاقی اور شعوری طور پر مکمل کھوکھلا کر رکھا ہے۔

یہاں میں اگر بچوں کے والدین کے بارے میں بات کروں تو برا نہیں ہو گا کیونکہ بچوں کی صحیح پرورش، اچھی تربیت اور معیاری تعلیم دلانے میں ان کا کردار بہت ہی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ بچوں کی صحیح تربیت اور ان کو معیاری تعلیم دلانے کا اکثر خاص خیال نہیں رکھا جاتا اور یوں ہمارے بچے نشے کے عادی ہو جاتے ہیں یا کسی ایسے راستے پر گامزن ہو جاتے ہیں کہ پھر ایک بچہ پورے معاشرے کے لئے ناسور بن جاتا ہے۔

والدین اگر بچوں کی صحیح پرورش سمیت تعلیم پر توجہ دیں تو بچوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلیاں ضرور آتی ہیں جیسے کہ بچوں کی پڑھائی اور ان کے اٹھنے بیٹھنے پر اگر توجہ دی جائے۔ سارے والدین ایسے نہیں ہے کہ وہ اپنے بچوں کی پڑھائی پر دھیان نہیں دیتے یا ان کی پرورش میں لاپرواہی کرتے ہیں بلکہ وہ اپنے بچوں کا اچھا خاصا خیال رکھتے ہیں۔ اور ایسے والدین جو کہ بچوں کی صحیح تربیت اور معیاری تعلیم دلانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ان کے بچے معاشرے میں دیگر بچوں کی نسبت کافی قابل قدر سمجھے جاتے ہیں۔

جبکہ بعض والدین ایسے ہیں کہ بچوں کی صحیح پرورش اور ان کو معیاری تعلیم دلانے میں ناکام رہے ہیں اور ان کے بچے مثبت سرگرمیوں کی بجائے منفی سرگرمیوں میں مشغول ہوئے ہیں اور وہ آج ہمارے دیگر بچوں کے لیے وبال جان بن گئے ہیں۔ اکثر ایسے واقعات سننے کو ملتے ہیں کہ بندہ ہوش و حواس کھو دیتا ہے کہ اب ہمارے بچوں کا مستقبل کون بچائے گا؟ ہمارے بچے ہمارا مستقبل ہیں اور اس مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے ہم سب نے مل کر کردار ادا کرنا ہے ورنہ ہمارا مستقبل ایسے ہی تاریکیوں میں ڈوبتا رہے گا جس طرح آج ڈوبتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔

دل تو کر رہا ہے کہ ہر اس رویے کا ذکر یہاں کروں جو ہمارے ہاں بچوں کے ساتھ والدین سے لے کر استاد تک رکھا جاتا ہے لیکن کیا کریں معاشرے کی مثبت تشکیل کے لیے کچھ چیزیں چھپانی پڑتی ہیں۔ اپنے بچوں کی صحیح پرورش، روشن مستقبل اور معیاری تعلیم سمیت ان کی سوسائٹی پر خصوصی خیال رکھا کریں۔

Facebook Comments HS