آزادی اظہار اور وی پی این کی بندش


اسلامی نظریاتی کونسل نے وی پی این کے استعمال کو غیر اسلامی اور حرام قرار دے دیا ہے۔ کونسل کی جانب سے یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب ملک میں آئے روز سلو انٹرنیٹ کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔ جس کی وجہ سے پاکستانی انٹرنیٹ صارفین کی جانب سے وی پی این کا استعمال بڑھ گیا ہے۔

یاد رہے کہ ”وی پی این“ ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک ہے جو صارفین کی انٹرنیٹ تک رسائی کو محفوظ طریقے سے کسی بھی سروس پروائیڈر کی سینسر شپ سے بچا کر ممکن بناتا ہے۔ اس سے بلاک کردہ سوشل میڈیا سائٹس تک رسائی ممکن ہوتی ہے اور صارفین وی پی این کی مدد سے اپنا مقام اور شناخت ظاہر کئیے بغیر ان سائٹس تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

اس خبر کو عوامی حلقوں میں حیرت کے ساتھ سنا گیا ہے۔ کیونکہ پاکستان وہ ملک ہے جہاں کسی بھی اہم موقع پر حکومت کی جانب سے سکیورٹی کو وجہ بناتے ہوئے مواصلاتی نظام اور انٹرنیٹ کو بند کر دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ آن لائن کام کرنے والوں کو انٹرنیٹ کی سست رفتار کی شکایت رہتی ہے، جس کا مجموعی اثر ان لائن کاروبار میں نقصان کی صورت نکلتا ہے۔ دونوں میں سے کوئی بھی وجہ ہو، صارفین کی جانب سے وی پی این کا استعمال کیا جاتا ہے۔

کونسل کے وی پی این کے حوالے سے مطلقا حکم کو سنجیدہ حلقوں میں زیر بحث لایا جا رہا ہے، کیونکہ وی پی این بذاتِ خود کوئی حرام چیز نہیں ہے بلکہ اس کا جائز اور ناجائز استعمال ہی اس کے غیر شرعی اور حرام کا فیصلہ کر سکتا ہے۔ یہ فیصلہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے ماضی میں پرنٹنگ پریس، فون، لاؤڈ سپیکر اور دیگر کئی جدید ایجادات کو شروع میں حرام اور غیر شرعی قرار دے کر کیا گیا، بعد میں ان کے جائز اور مثبت استعمال نے یہ ثابت کیا کہ اصل خرابی ان کے ناجائز استعمال میں ہے۔

بالکل اسی طرح انٹرنیٹ صارف خود کو ہیکرز وغیرہ سے محفوظ رکھنے کے لیے وی پی این کا استعمال کرتا ہے، یا سلو انٹرنیٹ کے حل کے طور پر سوشل میڈیا پر ایکٹو رہنے کے لئے یا اپنے آن لائن کاروبار کی ترقی کے لئے اس کا استعمال کرتا ہے تو یہ درست ہے۔ لیکن اگر وہ فحش سائٹس یا دہشت گردی کے مقاصد کے لئے ممنوع کسی سائٹ کو استعمال کرنے کے لئے وی پی این کا استعمال کرتا ہے تو یہ قومی سلامتی، غلط بیانی، دھوکہ دہی یا گناہ کے زمرے میں آ سکتا ہے۔ تاہم کچھ صارفین کے افعال کو پورے ملک کے صارفین پر لاگو نہیں کیا جاسکتا اور ایک اہم ترین نیٹ ورک کو محض اس خدشے کے پیشِ نظر حرام اور ممنوع قرار نہیں دیا جاسکتا کہ اس کا ممنوع ہی استعمال ہو گا۔

اگر کونسل کے اس فیصلے کو حکومت کی جانب سے کچھ عرصے قبل شہریوں کے کال ٹریس کرنے کے عمل کو قانونی قرار دینے کے نوٹیفکیشن کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ حکومت آہستہ آہستہ شہریوں کی اظہارِ رائے کی آزادی کو محدود کر رہی ہے۔ حکومت سوشل میڈیا کے صارفین پر اپنا کنٹرول بڑھا رہی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اب تک سوشل میڈیا کے صارفین کی جانب سے حکومت پر تنقید کو (باوجود اس کہ پنجاب ہتک عزت ایکٹ 2024 بھی لاگو کیا گیا ہے ) کسی صورت روکا نہیں جا سکا۔

سوشل میڈیا اب ایسا آزاد فورم بن چکا ہے۔ جہاں حکومت اور اس کے مخالفین اپنی کسی بھی عمل پر تنقید و تعریف سے بچ نہیں سکتے۔ انٹرنیٹ کی بندش یا سلو ہونے کے باوجود کروڑوں صارفین سوشل میڈیا پر دن رات ایکٹو رہتے ہیں اور اگر یہ کہا جائے کہ ”وی پی این“ ان صارفین کو ہر وقت جاگتے رہنے کی سپلائی لائن فراہم کر رہا تھا، تو کچھ غلط نہ ہو گا۔

Facebook Comments HS

One thought on “آزادی اظہار اور وی پی این کی بندش

  • 18/11/2024 at 9:47 صبح
    Permalink

    ہم پاکستانی وی پی این اور ٹوئٹر کو لے کر اتنا جذباتی ہورہے ہیں۔ کیا دنیا ہمارے لئے بند ہوگئی ہے۔ کیا چین سعودیہ امارات مصر اور ایران قرون وسطی یا پتھر کے زمانے میں چلے گئے ہیں۔
    کچھ بھی نہیں بدلے گا۔
    ویسے بھی جس ٹوئٹر کے پیچھے ہم پاگل ہورہے ہیں اس سمیت فیس بک اور یوٹیوب پر یہودیوں اسرائیلیوں کو برا بھلا ہٹلر کی تعریف ۔۔۔ ہولوکاسٹ کی اچھائی اور فلسطین کو کشمیر کے لئے آواز اٹھا کر دیکھ لیں۔

    آزادی اظہار میں کتنے الف آتے ہیں لگ پتہ جائے گا۔

Comments are closed.