خالد احمد: میرے استاد
سنہ 1967 ء میں گورنمنٹ کالج لاہور میں فرسٹ ایر میں داخل ہوا تو انگریزی اور اردو لازمی مضامین تھے۔ اختیاری مضامین میں سوکس، فلسفہ اور عربی تھے۔ اردو کے اولین استاد ڈاکٹر اسد اریب تھے۔ فلسفہ پروفیسر شاہد حسین، عربی پروفیسر علقمہ اور سوکس پروفیسر سردار محمد پڑھاتے تھے۔ انگریزی کی کلاس میں گئے تو کوئی دس منٹ لیٹ ایک نوجوان استاد کلاس روم میں داخل ہوئے۔ لمبا قد، چوڑا ہاڑ، بال بکھرے ہوئے، شیو کچھ بڑھی ہوئی، جین کے اوپر بغیر بنیان کے ململ کا سفید کرتا جس کے بازو کہنیوں تک چڑھائے ہوئے تھے۔ یہ تھے ہمارے انگریزی کے استاد خالد احمد۔ معمول ان کا یہی تھا کہ کوئی دس منٹ تاخیر سے آتے، پندرہ بیس منٹ تک کتاب کی ریڈنگ کرتے اور کہیں کہیں کچھ تشریح کر دیتے۔ ایک دو کلاسوں کے بعد سب طالب علموں سے یہ سوال پوچھا کہ نصاب کے علاوہ انگریزی کی کون سی کتاب پڑھی ہے، بالخصوص ناول۔ زیادہ تر طلبہ نے کوئی جواب نہ دیا۔ مجھے پوچھا تو میں نے ایک کتاب
The Story of PAF Heroes
کا نام لیا۔ حقیقت یہ ہے اس وقت انگریزی کی وہی ایک کتاب پڑھی تھی۔ کتاب کا نام سن کر کہا، یہ ناول نہیں ہے۔ ناول پڑھا کرو۔ غیر نصابی کتابیں بالخصوص انگریزی ناول پڑھنے کی بہت تاکید کرتے تھے۔ اپنے متعلق بتایا کہ جب وہ اردو میڈیم سکول سے میٹرک کر کے جی سی میں داخل ہوئے تو ان کی انگریزی بہت کمزور تھی۔ پھر انھوں نے کس طرح محنت کر کے انگریزی زبان پر عبور حاصل کیا۔ یاد پڑتا ہے کہ انھوں نے اپنی غربت کے بھی کچھ قصے بیان کیے تھے جو بعد میں پتہ چلا کہ اتنے درست نہیں تھے۔ جب 1968 میں دوسرا سال شروع ہوا انگریزی کے استاد وہی تھے۔ بد قسمتی یہ ہوئی کہ دو ڈھائی ماہ بعد ایوب خان کی حکومت کے خلاف تحریک شروع ہو گئی اور پانچ ماہ تک کالج بند رہے۔ جب مارچ میں کالج دوبارہ کھلے تو اس وقت پروفیسر حبیب اللہ بھٹی ہمیں انگریزی پڑھانے پر مامور ہوئے جو لائل پور کالج سے تبدیل ہو کر آئے تھے۔ خالد احمد صاحب اسی برس سی ایس ایس کا امتحان پاس کر کے فارن سروس میں چلے گئے تھے۔
کالج کے بعد ان سے ملاقات سنہ 1975 یا 76ء میں ہوئی تھی۔ میں ان دنوں عزیز دوست جاوید احمد غامدی صاحب کے ساتھ اچھرہ میں جماعت اسلامی کی دی ہوئی عمارت میں مقیم تھا۔ خالد احمد صاحب وہاں تشریف لائے تھے۔ ان دنوں وہ روس میں تعینات تھے۔ ان کی گفتگو سے اندازہ ہوا کہ وہ کمیونزم سے برگشتہ ہو چکے تھے۔ اس کے کچھ عرصہ بعد ہی انھوں نے ملازمت سے استعفا دے کر صحافت کے کوچہ میں قدم رکھ دیا اور انگریزی صحافت میں بہت نام پیدا کیا۔ یہ حقیقت ہے کہ ہمارے معاشرے میں ان جیسا وسیع مطالعہ بہت کم افراد کا ہوتا ہے۔
اسی کی دہائی کے اواخر میں ایک مرتبہ ان سے اخبار نیشن کے دفتر میں پنجاب یونیورسٹی کے کچھ اساتذہ کے ہمراہ سرسری ملاقات ہوئی۔ وہ اس وقت بھی ٹریک سوٹ میں ملبوس تھے۔ اس وقت مجھے اندازہ ہوا کہ وہ فارمل لباس شاید بہت کم پہنتے تھے۔
ان سے آخری ملاقات نیرنگ آرٹ گیلری میں ہوئی تھی۔ پاک ٹی ہاؤس بند ہو جانے کے بعد انتظار حسین، مسعود اشعر اور شاہد حمید اتوار کے روز وہاں کچھ دیگر احباب کے ساتھ محفل کیا کرتے تھے۔ خالد احمد بھی اس محفل کے ایک رکن تھے۔ باصر مانچسٹر سے آیا ہوا تھا۔ اس کے ساتھ ایک روز میں بھی اس محفل میں شریک ہوا۔ تعارف ہوا تو میں نے خالد صاحب سے کہا، سر، میں آپ کا شاگرد ہوں۔ مجھے غور سے دیکھنے کے بعد کہا، آپ جیو کے پروگرام الف میں آئے تھے ناں؟ میں نے ہاں میں جواب دیا تو کہا، آپ نے بہت اچھی گفتگو کی تھی۔ ان کی یہ تحسین میرے لیے بہت معنی رکھتی تھی۔
ایک بہت بھرپور تصنیفی زندگی گزار کر وہ بھی اس جہان میں چلے گئے ہیں جہاں سے نے جانا ہے۔ وہ ان لوگوں میں تھے جن کی موت پر عربی کا یہ مقولہ موتُ العالِم موتُ العالَم حرف بہ حرف صادق آتا ہے۔ چلیے اس موقع پر ناصر کاظمی کے اس شعر کو بھی یاد کر لیتے ہیں :
زِندگی جن کے تصوّر سے جلا پاتی تھی
ہائے کیا لوگ تھے جو دامِ اجل میں آئے



