چھوٹی کہانی بڑا سبق


کچھ عرصہ قبل ایک پہاڑی طوطا کہیں سے اڑ کر ہمارے گھر آ گیا۔ انسانوں سے مانوس لگتا تھا بچوں نے پکڑ لیا اور ایک خوبصورت پنجرے میں ڈال دیا۔ چند ہی دنوں میں یہ گھر کا فرد بن گیا۔ اور اپنی بولی کے ساتھ ساتھ کچھ انسانی بولیاں بھی بولنے لگا۔ گھر آنے والے کا استقبال اور جانے والے کو خداحافظ کہنے لگا۔ دروازے پر بیل ہوتی ہے تو چیخ کر اطلاع دیتا ہے کھانے اور چائے کی وقت اپنی موجودگی کا احساس دلاتا ہے۔ بچے شام کو اسے پنجرے سے آزاد کر دیتے ہیں تو گھومتا پھرتا ہے ٹی وی اور موبائل کا شوقین ہے۔ صبح اس کا پنجرہ گھر کے لان میں رکھ دیتے ہیں تاکہ وہ باہر کی دنیا بھی دیکھ سکے۔ اس دوران بلی یا نیولا اسے نظر آ جائے تو اپنی تیز آواز میں خطرے سے آگاہ کرتا ہے۔ پنجرے سے باہر نکل کر حسب معمول واپس اپنے پنجرے میں پہنچ جاتا ہے۔ پنجرے کا دروازہ بند ہو تو پنجرے کے اوپر بیٹھ کر دروازے کھلنے کا منتظر رہتا ہے۔

کچھ دن قبل لان میں کہیں سے کچھ طوطے آنے لگے اور دیوار پر بیٹھ کر بولنے لگے اور یہ بھی ان کو جواب دینے لگا۔ پھر تو ان تین چار طوطوں کا معمول بن گیا کہ وہ صبح آتے اور کچھ دیوار پر بیٹھ کر آوازیں نکالتے اور ہمارا مٹھو بھی ان کا جواب دینے لگا۔ ایک دن جب شام میں اسے کھولا گیا تو ہم نے دیکھا کی اس نے پہلی مرتبہ اڑنے کی کوشش کی اور چھت کے پنکھے سے بال بال بچا۔ شاید وہ یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ وہ اڑ بھی سکتا ہے یا نہیں؟ اس پہلی اڑان سے اسے اپنی اڑنے کی صلاحیت کا احساس ہوا۔ ہر دفعہ جب اسے پنجرے سے نکالتے تو وہ اڑنے کی کوشش ضرور کرتا اور ہر مرتبہ کمرے کے چھت کے پنکھے سے اتفاقاً بچ جاتا۔ ہمیں ڈر ہوا کہ یہ کہیں پنکھے سے ٹکرا کر زخمی یا خدانخواستہ مر ہی نہ جائے تو ہم نے اسے کھولنا بند کر دیا لیکن تب تک وہ اپنی اڑنے کی صلاحیت کی حقیقت جان چکا تھا۔ ہر روز صبح وہ طوطے آتے اور کچھ دیر سامنے دیوار پر بیٹھ کر بولتے اور یہ بھی انہیں واپسی جواب دیتا تھا۔ وہ یقیناً اسے آزادی حاصل کرنے کے مشورے دے رہے تھے اور یہ بھی مناسب وقت کا انتظار کر رہا تھا۔ ایک دن نا جانے کیسے پنجرے کا دروزاہ اس نے کھولا اور فرار ہو گیا گھر سے دروازے کے نیچے سے نکل کر اڑتا ہوا سامنے والے پلاٹ میں جا پہنچا۔ جونہی وہ پلاٹ میں پہنچا تو اسے اپنے غیر محفوظ ہونے کا احساس ہوا۔ اڑنے کی عادت چھوڑ چکا تھا۔ مکمل اڑنا بھی مشکل تھا۔ ہر جانب اسے اپنی موت نظر آ رہی تھی۔ اس کو اپنے ساتھی بھی کہیں دکھائی نہ دیے تو ایک جانب چھپ کر دبک گیا۔ ڈر کے مارے آواز بھی نہ نکلتی تھی۔ ایسے میں جنگلی چوہے، بلی اور نیولے پر نظر پڑی تو موت سامنے ناچنے لگی۔ جان کا خوف بڑی چیز ہے اسے احساس ہوا کہ آزادی سے جان بہت قیمتی ہے۔ ہم اسے ڈھونڈھتے ہوئے اس پلاٹ میں پہنچے تو ہماری موجودگی نے اسے حوصلہ دیا اور اس نے آواز دے کر اپنی موجودگی کا احساس دلایا اور ہم نے اسے تلاش کر کے واپس اس کے پنجرے میں ڈال دیا۔ وہ تھر تھر کانپ رہا تھا اور اس قدر ڈرا ہوا تھا کہ کئی دن تک اس کی آواز بھی نہ نکل سکی۔ اب اسے آزادی سے قید بہتر لگتی ہے کیونکہ وہ سمجھ چکا ہے کہ قید میں اس کی زندگی آزادی کی نسبت زیادہ محفوظ ہے۔ لیکن اسے یہ معلوم نہیں کہ آزادی کی ایک دن کی زندگی اس کی اس زندگی سے ہزار سال بہتر ہے کیونکہ وہ آزادی کی نعمت اور قدر و قیمت سے واقف ہی نہیں ہے۔ غلامی میں آنکھ کھولنے والے کی دنیا پنجرے جتنی ہی محدود ہوتی ہے وہ کبھی بھی آزادی کی لامحدود اور کھلی فضا میں زیادہ دیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ ہم اسے آزاد بھی کرنا چاہیں تو وہ آزاد نہیں ہونا چاہتا کیونکہ وہ آزادی کے لطف سے بے خبر ہے۔ وہ نہیں جانتا کہ زندگی کے ناخوشگوار ایسے تجربات دراصل اس کے لیے تربیتی مراحل ہوتے ہیں شاید کچھ دن بعد وہ پھر سے آزادی کی ایک اور کوشش ضرور کرے گا۔

ہم اذیتوں کے سائے میں اتنے ہیں مطمئن شاکر
راحت ملی تو خوف سے مر جائیں گے اک دن

کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے ایک طوطا پالا طوطا مزے مزے کی باتیں بھی کیا کرتا تھا۔ وہ آدمی اکثر سفر پہ جاتا تو واپسی میں طوطے کے لئے کچھ نہ کچھ لے کے آیا کرتا تھا۔ ایک دن جب وہ آدمی سفر پہ جانے لگا تو طوطے سے پوچھا کہ میں فلاں جگہ سفر پہ جا رہا ہوں تو بتاؤ واپسی پہ تمہارے لئے کیا چیز لے کے آؤں؟ طوطے نے کہا کہ حضور مجھے کچھ نہیں چاہیے، بس میرا ایک کام کر دیجئے گا جس راستے پر آپ جا رہے ہیں تو اسی راستے پر آگے ایک جنگل آئے گا وہاں میرے ساتھی طوطے ہوں گے ان کو میرا پیغام دیجئے گا کہ تم وہاں آزادی کی زندگی جی رہے ہو اور مٹھو ادھر پنجرے میں بند ہے۔ تو اس آدمی نے کہا کہ ٹھیک ہے میں تمہارا پیغام ضرور پہنچاؤں گا اور سفر پہ نکل گیا۔ چلتے چلتے جب اس جنگل میں پہنچا تو وہاں طوطوں کو دیکھ کر رک گیا اور ان سے مخاطب ہو کر کہنے لگا کہ میرے طوطے نے تمہارے لئے پیغام بھیجا ہے کہ تم یہاں آزادی کی زندگی جی رہے ہو اور مٹھو پنجرے میں بند ہے۔ یہ سنتے ہی ان کا جو بڑا گرو طوطا تھا وہ زمین پر گرا اور مر گیا۔ یہ دیکھتے ہی باقی سارے طوطے بھی زمین پر گرے اور مر گئے۔ وہ آدمی بڑا حیران ہوا کہ اچانک یہ کیا ماجرا ہو گیا؟ جب سفر سے واپس آیا تو آتے ہی سارا واقعہ اپنے طوطے کو سنا دیا۔ سنتے ہی وہ بھی پنجرے میں گرا اور مر گیا۔ اس آدمی کو طوطے کے مرنے کا بہت دکھ ہوا اور پنجرے سے نکال کر باہر پھینک دیا۔ جونہی اس نے باہر پھینکا تو طوطا اڑ کر درخت پر بیٹھ گیا۔ وہ آدمی بڑا حیران ہوا اور طوطے سے پوچھنے لگا کہ آخر ماجرا کیا ہے؟ تو اس پر طوطا نے جواب دیا کہ میرے ساتھی طوطوں نے ایسا کر کے مجھے پیغام بھیجا ہے کہ آزادی کے لیے مرنا پڑتا ہے۔ موت سے پہلے مر جاؤ، آزاد ہو جاؤ گے۔ اس واقعہ سے ہمیں یہ سبق ضرور ملتا ہے کہ انسان اپنی انا اور اپنے تکبر کو موت سے پہلے مار دے تو آزاد ہو جائے گا۔

یہ بات اس طوطے کے تجربے کے بعد پتہ لگتی ہے۔ کہ بظاہر یہ پرندے خوبصورت سنہری پنجروں میں بہت محفوظ اور بھلے لگتے ہیں۔ دروازہ کھلا بھی ہو تو وہ کہیں پرواز نہیں کرتے۔ مگر درحقیقت جیسے ہی کوئی انہیں باہر سے پکارتا ہے اور ان کے سامنے دستیاب ہوتا ہے وہ قفس چھوڑ دیتے ہیں۔ اڑان بھر لیتے ہیں۔ فرار ہو جاتے ہیں۔ سنہری پنجرے کا مالک یہی سوچتا ہے کہ وہ تو پابندی کے ساتھ ان کے آرام کا خیال رکھتا تھا۔ سجا سجایا پنجرے کا ماحول رکھتا تھا۔ وقت پر خوراک اور دانہ پانی دیتا تھا۔ پھر یہ فرار کیوں؟ بغاوت کسی کے اکسانے پر ہی ہوتی ہے۔ چاہے جتنی تنگ دستی بھی ہو مگر آزادی سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں ہوتی۔ فیصلے اپنے ہی ہونے چاہئیں انسان کو پھر کسی کی نصیحت نہیں چاہیے۔ آج بھی انسان اپنی فرسودہ روایات، رشتوں، رسومات، اناؤں، پابندیوں، کا قیدی ہے۔ وہ نہیں جانتا کہ ان سے آزادی کتنی بڑی نعمت ہے؟ کاش وہ جان سکتا کہ آزادی کے لیے ایک دفعہ تو مرنا پڑتا ہے۔

Facebook Comments HS