جب وزیر اعظم پاکستان اسلام آباد ائرپورٹ پر لاپتہ ہو گیا

”اس تحریر کا اصل راوی گمنام ہے اور میں صرف اس کے سنائے واقعے کو تحریری شکل دینے کی ذمہ دار ہوں“۔
آج کی نوجوان نسل عمومی طور پر سیاست دانوں سے بے زار ہے اور یہ ماننے سے انکاری ہے کہ پاکستان میں کوئی شخص صاحب اقتدار رہتے ہوئے کرپشن سے پاک وقت گزار جائے۔ ویسے تو یہ تحریر جون 2024 میں صاحب کردار کے لئے لکھی گئی تھی مگر کسی ”اگر مگر“ کا شکار ہو کر ”اِدھر اُدھر“ ہو گئی۔ ایسی شان دار اور عظیم ہستیوں کو یاد کرنے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ انہیں محض اُن کی وفات اور پیدائش پر ہی یاد نہ رکھا جائے۔ یہ ایک ایسے سیاست داں کو خراج عقیدت ہے۔ جو حادثاتی طور پر پاکستان کا نگراں وزیر اعظم نہیں بن گیا تھا بلکہ اس سے پہلے دو مرتبہ قومی اسمبلی کا اسپیکر اور ڈیڑھ سال تک پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کا وزیر اعلی بھی رہ چکا تھا۔ مجموعی طور پر چار سال تک وفاقی وزیر قانون، وزیر خوراک و زراعت اور متعدد دوسری وزارتوں پر فائز رہا تھا۔
غربت میں آنکھ کھولنے والے بچے نے کیسے 1930 میں نویں جماعت سے بی اے تک چھ سال روزانہ، گاؤں سے شہر بیس کلومیٹر کا سفر کیا اور ساتھ اپنی تعلیم کا مکمل خرچ بھی خود برداشت کیا۔ یہ ایک پیغام ہو گا ان بچوں کے لئے جو آج وسائل کی کمی کا رونا روتے ہیں۔
٭٭٭ ٭٭٭
شہر ریاض تھا۔ سنہ تھا 2001 اور میں پاکستان آرمی کے دستے کے سربراہ (اُس وقت) کرنل محمد فاروق (اسپاؤ یعنی سینیئر پاکستان آرمی افسر) کے دفتر میں ان کے کمپیوٹر کی ہارڈ ڈسک سے گم شدہ ڈیٹا کو واپس لانے کی کوشش کر رہا تھا۔ جب تک ونڈوز اور ہارڈ ڈسک کے ساتھ میرے معاملات سلجھ پاتے، ہماری بات چیت بھی زور و شور سے جاری تھی۔ اسی اثنا میں مجھے یاد آیا کہ کرنل فاروق، ایک سے زائد وزرائے اعظم کے ساتھ کام کرچکے ہیں۔ ”اب میں انہیں چھیڑتا رہا اور وہ قصے سناتے رہے“۔
80 سالہ نگراں وزیر اعظم کی بات نکلی۔ سنہ 1996 کے آخری دنوں کی کہانی ہے۔ اُس دن کی سنی کہانیاں کانوں کو ایسے لگ رہی تھیں کہ جیسے قائد اعظم کا دور واپس آ گیا ہو۔
وزیراعظم (نگران) نے سرکاری دورے پر کراچی جانا تھا۔ ملٹری سیکریٹری کرنل فاروق اور اے ڈی سی کے لئے حکم تھا کہ کسی پروٹوکول اور ذاتی جہاز کی بجائے وہ حتی الامکان ”صرف پی آئی اے“ پر سفر کریں گے۔ اُن دنوں پنڈی سے جہاز چک لالہ والے اسلام آباد ائرپورٹ سے اڑتے تھے۔ اے ڈی سی نے وزیراعظم کا سامان (جس میں صرف ایک سوٹ کیس تھا) پہلے ہی بھیج دیا تھا۔ ایڈوانس بورڈنگ کارڈ بھی حاصل کیا جا چکا تھا۔ وزیراعظم، ائرپورٹ کے باہر ڈراپ ہو گئے۔ اے ڈی سی اور ڈرائیور کو واپس بھیج دیا گیا۔ اس زمانے میں وی آئی پی اور فرسٹ کلاس کے مسافر راول لاؤنج سے داخلہ لیتے تھے جب کہ عام مسافر، در عام سے۔
اگرچہ وزیر اعظم کو گاڑی نے راول لاؤنج کے باہر ڈراپ کیا تھا مگر اے ڈی سی کے جانے کے بعد صاحب کو یاد آیا کہ تمباکو نوشی کرنی ہے۔ اب انہوں نے عام مسافروں کے لاؤنج کی طرف رخ کیا اور کسی طرح سے سگریٹ / ماچس حاصل کرلی۔ یاد رہے اپنے دور کے کامیاب بیرسٹر صاحب سگریٹ بھی عام آدمی کا برانڈ ’کے ٹو‘ پیتے تھے۔ وگرنہ جو مل جائے۔
تمباکو نوشی کے دوران کوئی بھی شخص انہیں یعنی وزیر اعظم کو پہچان نہیں پایا۔ بعد ازاں انہوں نے سوچا کہ واپس راول لاؤنج جانے سے بہتر ہے کہ اسی عام لاؤنج سے داخلہ لیا جائے۔ یوں وہ فرسٹ / بزنس کلاس کا بورڈنگ کارڈ دکھا کر اور خالی ہاتھ ہلاتے ”عوام الناس کے داخلی راستے سے“ ائر پورٹ میں داخل ہو گئے۔ اے ایس ایف کے سنتری نے پریشانی سے کبھی کارڈ کو دیکھا۔ کبھی خالی ہاتھ مسافر کو اور آگے جانے کا اشارہ کر دیا۔
وزیراعظم نے خالی ہاتھ ٹہلتے ہوئے چیک اِن کیا اور چند ہی منٹ بعد راول لاؤنج کی بجائے عام مسافروں کے لئے ”اوپر“ بنی ”اندرون ملک مسافروں کی انتظار گاہ“ میں پہنچ گئے۔ اس دوران ائرپورٹ سیکیورٹی فورس اور سول ایوی ایشن کا عملہ سب ہفتہ بھر پرانے وزیراعظم کو پہچاننے سے قاصر رہے۔
لاہور کے مضافات میں برکی کے علاقے میں ڈیرہ چہل نامی ایک بستی تھی جس میں ایک ”اعوان“ مزارعے کے گھر 1916 (یعنی پہلی جنگ عظیم کے دوران) ایک لڑکے نے جنم لیا۔ ڈیرہ چہل آج بھی گرو نانک کی بڑی بہن سے منسوب گردوارے کے لئے مشہور ہے۔ گھرانا انتہائی غریب تھا۔ زمیں دار کی زمین پر خون پسینہ ایک کر کے یہ شخص فصل اگاتا لیکن زمین کا مالک برطانوی دور میں اناج کی مقرر کردہ رقم بھی اپنے مزارعے کو نہ دیتا۔ یوں اس گھر کے لوگ محض ”زندہ“ تھے۔ گھر کا سب سے چھوٹا بچہ محنتی تھا اور باپ اور دوسرے مزارعوں پر وقتاً فوقتاً ظلم کو قریب سے دیکھتا تھا۔ لیکن لمبی انگلیوں والا یہ بچہ گفتار اور کردار کا غازی تو بن سکتا تھا لیکن مار پیٹ اور دنگے فساد سے دور بھاگتا تھا۔ بچہ تھوڑا بڑا ہوا تو باپ کا ہاتھ بٹانے لگا۔ باپ نے جب دیکھا کہ لڑکا پڑھائی میں تیز ہے تو طے کیا کہ کچھ بھی ہو جائے اسے تعلیم دوں گا۔ تاکہ یہ گھر، خاندان اور علاقے کے لوگوں کی تقدیر بدل سکے۔ لیکن یہ ایک خواب ہی تھا کیوں کہ گھر میں باوجود بچے کے ہاتھ بٹانے کے گھر کی دولت میں ایک عرصے تک صرف ایک بھینس، چند بکریاں، ایک ٹوٹی پھوٹی سائیکل اور ایک جوڑا جوتا موجود تھا۔ اگر باپ سائیکل چلاتا تو بیٹا پیدل رہتا اور اگر بیٹا باپ کا جوتا پہن کر کہیں جاتا تو باپ ننگے پیر یا پرانی چپل پہن لیتا۔
ڈیرہ چہل میں پرائمری اسکول بھی نہیں تھا۔ سو چھوٹے سے بچے کو دو میل دور پاس والے گاؤں کے اسکول بھی خود جانا پڑتا تھا۔
پانچویں پاس کی تو مڈل اسکول کے لئے اسکول آٹھ دس کلومیٹر دور تیسرے گاؤں میں تھا۔ لیکن غریب بچہ تعلیم کے شوق میں پیدل جاتا رہا۔ مڈل اسکول پاس کیا تو بچہ اتنے اچھے نمبروں سے پاس ہوا کہ بیس کلومیٹر دور شہر لاہور کے سب سے اچھے اسکولوں میں سے ایک سینٹرل ماڈل اسکول میں داخلہ بہ آسانی مل گیا۔ مگر 1930 میں روزانہ وہاں ڈیرہ چہل سے پہنچنا کون سا آسان کام تھا۔ اسکول کی یونیفارم، جوتے، کتابیں اور لکھائی پڑھائی کا خرچ الگ۔ یہ تمام اخراجات چار بچوں کا مزارع باپ نہیں اٹھا سکتا تھا تو بچے نے اپنے اخراجات خود اٹھانے کے لئے ایک انوکھا فیصلہ کیا۔
٭٭٭ ٭٭٭
فلائٹ کے اڑنے میں دس پندرہ منٹ تھے اور ”اے ڈی سی“ ابھی اسلام آباد واپس بھی نہیں پہنچا تھا کہ اسے موبائل پر پی آئی اے کے پروٹوکول والوں کا فون آیا کہ وزیراعظم کو روک لیں کیوں کہ جہاز ابھی تک ائرپورٹ نہیں پہنچا اور فلائٹ ممکنہ طور پر دو گھنٹے لیٹ ہے۔ اے ڈی سی نے کہا کہ وزیراعظم تو پندرہ منٹ پہلے ائر پورٹ پر ڈراپ ہو چکے ہیں۔
وزیر اعظم کا حکم تھا کہ میرا سفری پلان اس طرح بنایا جائے کہ میں حد سے حد ہر فلائٹ سے آدھا گھنٹہ پہلے ائر پورٹ پہنچوں۔ تاکہ ان کی وجہ سے پی آئی اے کا جہاز لیٹ نہ ہو اور نہ عام مسافروں کو کوئی تکلیف ہو۔ آدھ گھنٹہ اس لئے بھی کیونکہ ان کا حکم تھا کہ ان کے لئے روٹ لگا کر ٹریفک کو بھی بند نہ کیا جائے اور یوں اگر وزیراعظم ٹریفک میں پھنس بھی جائے تو ائرپورٹ پہنچنے میں پندرہ بیس منٹ کا مارجن ہو۔
اب اسلام آباد ائر پورٹ پر پی آئی اے والوں کی دوڑیں لگ چکی تھیں۔
ائرپورٹ پر اندرون ملک روانگی کے لئے راول لاؤنج تھا ہی کتنا بڑا۔ ایک بیٹھ کر طعام کرنے کی جگہ ساتھ ایک چھوٹا سا ہال، جس کے ساتھ ایک اور بیٹھنے کی جگہ اور باہر رن وے تک پیدل جانے کا راستہ۔ اور گنتی کے مسافر (بجز کوئی بہت ہی خصوصی شخص مسافر ہو جسے چھوڑنے کے لئے ایک دنیا ائرپورٹ پر موجود ہو)۔
بہرحال ائرپورٹ پر وزیراعظم کی ڈھنڈیا پڑ گئی۔ مشکل صرف یہ تھی کہ پی آئی اے اسٹاف اور ائرپورٹ پر موجود لوگوں میں سے کوئی بھی نگراں وزیراعظم کی شکل تو کجا ان کے نام سے ہی واقف نہیں تھا اور جو نام جانتے تھے ان میں سے بھی اکثر ان کے چہرے سے ناآشنا تھے۔ راول لاؤنج میں ایک تماشا لگا ہوا تھا۔ ہر سوٹڈ بوٹڈ ”مشکوک“ اور تنہا شخص کے پاس جاکر اس سے ایک انتہائی احمقانہ سوال پوچھا جاتا تھا۔
”آپ وزیر اعظم تو نہیں ہیں؟“۔
کسی عقل مند نے مشورہ دیا کہ جناب وزیراعظم کا نام ”ملک معراج خالد“ ہے۔ تو سوال اب تبدیل ہو کر ہو گیا۔ ”آپ ملک معراج خالد تو نہیں“ یا ”کیا آپ نے ملک معراج خالد کو دیکھا ہے؟“۔
بہر حال آدھا گھنٹا لگ گیا مگر راول لاؤنج میں وزیر اعظم نہ ملے۔ اب اے ڈی سی کو ایک بار پھر فون کیا گیا۔ ڈرتے ڈرتے حلیہ پوچھا گیا۔ ڈراپ کرتے وقت کیا کپڑے پہنے ہیں۔ کرتہ شلوار میں ملبوس ہیں یا پینٹ شرٹ۔ جاڑے کے دنوں میں سوئٹر پہنا ہوا ہے کہ تھری پیس میں ہیں۔ کپڑوں کا رنگ کیا ہے وغیرہ۔
اے ڈی سی نے بھی اپنا سر پکڑ لیا۔ لیکن اس کا واپس ائرپورٹ جانے کا کوئی موڈ نہیں تھا۔
کے ٹو کے شوقین اللہ لوک ملک صاحب کے پاس موبائل فون ویسے بھی نہیں ہوتا تھا۔
پون گھنٹہ گزر چکا تھا تو اے ڈی سی کو پی آئی اے والوں پر رحم آیا۔ اس نے پروٹوکول والوں کو فون کر کے بتایا کہ آج کے ”جنگ“ اردو اور انگریزی اخبار ”دی نیوز“ کے پہلے صفحے پر وزیر اعظم کی بڑی سی تصویر چھپی ہے۔ اخبار پیدا کر لیں ورنہ ادارے کو فون کروا کر فیکس پر تصویر منگوا لیں۔ راول لاؤنج میں یہ دونوں اخبار موجود تھے۔ سو یہ مشکل آسان ہو گئی۔
ظاہر ہے یہ ان دنوں کی بات ہے جب سینکڑوں سی سی ٹی وی کیمرے ائر پورٹ کے احاطے میں نصب نہیں تھے۔ ورنہ راول لاؤنج کے داخلی دروازے کی فوٹیج سے ملک صاحب کو بہ آسانی پہنچانا اور ٹریک کیا جاسکتا تھا۔
گھنٹے بعد پروٹوکول والوں نے پھر اے ڈی سی کو آگاہ کیا کہ وزیر اعظم بدستور لاپتہ ہیں۔ پوچھا کہاں جا سکتے ہیں۔ اے ڈی سی نے آرام سے کہا کہ مجھے کیا علم، ممکن ہے کوئی دوست مل گیا ہو جس کے ساتھ وہ باہر پارکنگ میں گھوم رہے ہوں یا اس کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ کر سیر سپاٹے پر نکل گئے ہوں۔ لیکن اس نے ساتھ کہا کہ ویسے ایسا ممکن نہیں کیوں کہ وہ ایسی صورت میں ہونے والی مشکلات سے بخوبی آگاہ ہیں۔ اس لئے ملک صاحب کو ائر پورٹ پر ہی ڈھونڈیں۔
راول لاؤنج کے باہر متعین ائرپورٹ سیکیورٹی فورس (اے ایس ایف) کے ایک اہل کار نے جب اخبار میں ملک صاحب کی تصویر دیکھی تو اسے کچھ یاد آیا۔ کہنے لگا ایک وی آئی پی گاڑی میں یہ بابا جی بغیر سامان کے اترے تھے۔ اندر آ کر مجھ سے سگریٹ مانگی پھر خود ہی اُدھر سامنے دوسرے ٹرمینل کی طرف چلے گئے تھے۔ پی آئی اے والوں کو اب ایک نئی مشکل کا سامنا تھا۔ اخبار لے کر ٹرمینل کے باہر لوگوں کو تصویر دکھا کر اب پوچھ رہے تھے۔
”کیا آپ نے ان صاحب کو دیکھا ہے؟“
کسی کو ہوش آیا تو اس نے عام مسافروں کے ٹرمینل کے داخلی دروازے پر متعین اسٹاف سے پوچھا کہ گھنٹہ پہلے ان صاحب کو تو نہیں دیکھا۔ کہنے لگا ہاں۔ یہ مشکوک آدمی فرسٹ کلاس کا بورڈنگ پاس لے کر یہاں سے داخل ہوا تھا۔
پی آئی اے والوں نے اب اندر کی طرف دوڑ لگائی۔ بھوسے میں سوئی ڈھونڈنے کے لئے۔
اندر نیچے ہال میں اور ایک کونے میں پڑے چند صوفوں پر کہیں بھی ملک صاحب کا دور دور تک نام و نشان موجود نہ تھا۔ سیکیورٹی چیک کے عملے سے پوچھا گیا تو ڈیوٹی تبدیل ہو چکی تھی مگر وہیں موجود ایک خاکروب نے کہا کہ اس نے اس حلیے کے شخص کو اوپر انتظار گاہ میں جاتے دیکھا تھا۔
سوا گھنٹے سے اوپر وقت گزر چکا تھا۔ اور وزیر اعظم شہر اقتدار کے واحد ائر پورٹ پر موجود ہوتے ہوئے ہنوز لاپتہ تھے۔
پرانے اسلام آباد ائر پورٹ پر عام مسافروں کے لئے اوپری منزل پر موجود انتظار گاہ کا ہال حقیقت میں راول لاؤنج جتنا ہی چھوٹا تھا۔ اس لئے کہ فقط ایک لمبا سا ہال تھا۔ جہاں سے ہر مسافر نظر آتا تھا۔ چاہے اس کی پشت ہی نظر آئے۔
پی آئی اے کے عملے نے ایک ایک مسافر کو بغور دیکھا۔
ٹوائلٹ تک چیک کرلئے گئے لیکن وزیر اعظم پاکستان نہ ملے۔
بلا مبالغہ پونے دو گھنٹے گزر چکے تھے۔ کسی عقل مند نے اخبار بینی کرتی ایک عام سی خاتون سے ملک صاحب کا پوچھ لیا۔ خاتون نے ایک توقف کے بعد دور، ٹوائلٹس کے پاس بنی ”نماز کی جگہ کی طرف اشارہ کیا کہ وہاں چیک کریں“۔
عملے نے دور سے ہی دیکھ لیا کہ وہاں کوئی بھی شخص نماز نہیں پڑھ رہا تھا اور نہ کوئی شخص نظر آ رہا تھا۔
وہ واپس جانے لگے تو خاتون نے پوچھا مسئلہ کیا ہے؟
ڈرتے ڈرتے اس ٹاپ سیکرٹ سے خاتون کو آگاہ کیا گیا تو وہ کہنے لگیں، ”آئیں میرے ساتھ“۔
کوئی سو پچاس گز دور نماز کی جگہ کے پاس پہنچے تو ”نماز کی صفوں سے پہلے بڑے بڑے پلانٹر رکھے ہوئے تھے“۔ خاتون عملے کو ساتھ لے کر وہاں پہنچیں تو لوگوں نے دیکھا کہ ایک بوڑھا شخص صفوں پر پھسکڑا مارے ایک پلانٹر سے ٹیک لگائے، دو بچوں کے ساتھ گیند سے کھیل رہا تھا۔ یوں لگتا تھا کہ ایک دادا اپنے پوتے پوتیوں کے ساتھ مگن ہے۔
خاتون نے جس اطمینان سے اپنے بچوں کو ایک بزرگ کے ساتھ چھوڑا ہوا تھا اب وہ بھی سٹپٹائی ہوئی تھیں کہ یہ بزرگ پاکستان کا وزیر اعظم ہے!
مرحوم ملک معراج خالد کو اللہ تعالی نے اولاد کی نعمت سے سرفراز نہیں کیا تھا اور جاننے والے جانتے تھے کہ بچے ان کی کمزوری تھے۔
پی آئی اے کے عملے نے وزیر اعظم کو آگاہ کیا کہ سر فلائٹ لیٹ ہے۔ کہنے لگے ہاں مجھے اطلاع مل رہی ہے۔ کوئی بات نہیں۔ کہا گیا، سر آپ راول لاؤنج میں آجائیں۔ کہنے لگے، کیا ضرورت ہے۔ میں آرام سے بچوں کے ساتھ کھیل رہا ہوں۔ اسی دوران انہوں نے ایک بچے سے ”ٹوئنکل ٹوئنکل“ بھی سنوا دی۔
عملے نے پھر زور دیا تو ملک صاحب نے بچوں سے پوچھا کہ دادا رہیں یا چلے جائیں۔ بچوں کی ناراضگی اپنی جگہ رہی۔
سیکیورٹی اور پروٹوکول والوں نے جب اپنی مشکل کی بات کی تو ملک صاحب نے مسکرا کر کہا کہ پچھلے کئی گھنٹے میں کون سی قیامت آ گئی جو اب آ جائے گی۔ اسی اثنا میں عام مسافروں کو خبر پہنچ گئی تھی کہ وزیر اعظم ان کے درمیان موجود ہیں۔ لوگ حیران تھے۔ کچھ نے اپنی مشکلات اور درخواستیں ملک صاحب کو پیش کرنے کی کوشش شروع کی تو ملک صاحب کو گڑبڑ کا احساس ہو گیا۔
انہیں کچھ خیال آیا تو پی آئی اے والوں سے فرمائش کی گئی کہ میرے ساتھ یہ بچے اور ان کے والدین بھی راول لاؤنج میں جائیں گے۔ اور سزا کے طور پر بچے ماں باپ سمیت فرسٹ کلاس میں سفر کریں گے اور اگر نشستیں کم ہوئیں تو کم از کم بچے ملک صاحب کے ساتھ بیٹھیں گے۔ اور اگر وہ بھی ساتھ نہ ایڈجسٹ ہو سکے تو ملک صاحب خود ان بچوں کے والدین کی جگہ اکانومی میں سفر کریں گے اور بچوں کے والدین وزیر اعظم کی جگہ فرسٹ کلاس میں۔
پی آئی اے کے عملے نے سکون کا سانس لیا اور بچوں کے والدین کے لئے ہوائی سفر۔ زندگی کا یادگار سفر بن گیا۔
اس واقعے کے بعد البتہ ملک صاحب نے فرسٹ کلاس سے سفر کرنا بھی بند کر دیا اور اکانومی کلاس سے سفر کرنے لگے۔ یہ اور بات کہ پی آئی اے والے پھر بھی انہیں زبردستی اپ گریڈ کر کے آگے بٹھا دیتے تھے۔
ایسے تھے ہمارے وزیر اعظم ملک معراج خالد۔
آج بھی یقیناً جنت میں داروغہ رضوان کے ساتھ مانگ کر ”کے ٹو یا ولز“ کا کش یا بیڑی سلگا رہے ہوں گے۔
اگلی قسط میں جب ملک صاحب، فرسٹ لیڈی سے ملنے اسلام آباد سے لاہور براستہ سڑک گئے، ”مگر اپنے خرچ پر“۔


اف سے تف کا سفر
پچھلے پچاس سالوں میں، کم ہی ایسے سیاست داں یاد اتے ہیں جو اقتدار کی طاقت ور کرسی پر بیٹھے بھی ہوں اور وہ اور ان کے گھر والے بیت المال یعنی مملکت کے خزانے اور عوام کی طرف سے دی گئی ذمہ داریوں میں خیانت کے مرتکب بھی نہ ہوئے یوں۔
نواب زادہ نصر اللہ خان ہوں یا قاضی حسین احمد یہ لوگ بھی اچھے نام تھے مگر کبھی کسی بڑی وزارت یا اقتدار کی کرسی پر براجمان نہیں ہوئے اس لئے ان ک امانت کی قسمیں اس لئے نہیں کھائی جاسکتیں کیوں کہ ان کو موقع ہی نہیں ملا تھا نہ آزمائش ہوئی تھی۔
ملک معراج خالد اللہ تعالی آپ کی مغفرت فرمائے۔