ہمارے بچے، ہمارا مستقبل، بچوں کا عالمی دن
بچے ہمارے معاشرے کی امید اور مستقبل ہیں۔ ان کی پرورش اور تعلیم ہمارے لیے سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔ لیکن افسوس کہ آج بھی دنیا کے کئی ممالک میں بچوں کے حقوق پامال ہو رہے ہیں۔ بچوں کو تعلیم، صحت اور تحفظ کی بنیادی سہولیات سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ خاص طور پر وطن عزیز پاکستان میں بچوں کا مسئلہ ایک سنگین چیلنج ہے۔ بچوں کی کم عمری میں مزدوری، کم عمری میں شادی، تعلیمی مواقع کی کمی اور صحت کی سہولیات کی عدم دستیابی اس کے چند اہم پہلو ہیں۔
اقوام متحدہ کی جانب سے 1954 ء میں پہلی مرتبہ بچوں کا عالمی دن منانے کا اعلان کیا گیا جس کے بعد سے ہر سال 20 نومبر کو دنیا بھر میں ’بچوں کا عالمی دن۔‘ منایا جاتا ہے جس کا مقصد بچوں کی تعلیم، صحت، ذہنی تربیت، تحفظ سمیت دیگر بنیادی انسانی حقوق یقینی بنانے کے لئے شعور اجاگر کرنا، اپنی کارکردگی کا جائزہ لینا ہے اور اس کی روشنی میں آئندہ کے لئے مزید اقدامات کرنا ہے تاکہ دنیا کا بہتر مستقبل یقینی بنایا جا سکے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ بچوں کو ایک محفوظ اور خوشحال ماحول کیسے فراہم کیا جا سکتا ہے۔
بچوں کی کم عمری میں مزدوری ایک قومی آفت سے کم نہیں، پاکستان میں بچوں کی کم عمری میں مزدوری ایک سنگین مسئلہ ہے۔ لاکھوں بچے کارخانوں، دکانوں اور کھیتوں میں کام کرتے ہیں۔ بچہ مزدوری نہ صرف بچوں کی صحت کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ ان کی تعلیم کو بھی متاثر کرتی ہے۔ بچہ مزدوری بچوں کے جسمانی اور ذہنی نشوونما کو روکتی ہے اور انہیں مختلف بیماریوں کا شکار بناتی ہے۔ ملک بھر میں تقریباً ایک کروڑ پچیس لاکھ بچے 5 سے 15 سال کی عمر میں مختلف معاشی سرگرمیوں میں کام کر رہے ہیں۔
لیکن یہ جاننا مشکل ہے کہ اصل میں کتنے بچے جبری مشقت کا شکار ہیں، کیوں کہ ملک میں اس حوالے سے کوئی مستند سروے نہیں کیا گیا۔ 2016 کے ایک سروے میں کام کرنے والے بچوں کی تعداد 33 لاکھ بتائی گئی تھی، مگر مختلف این جی اوز اور اقوام متحدہ کے اداروں کے مطابق یہ تعداد ایک کروڑ کے قریب ہے۔ ماہرین کے مطابق اب یہ تعداد تقریباً پونے دو کروڑ تک پہنچ چکی ہے۔ ہمارے حکمران اور متعلقہ ادارے وقتاً فوقتاً چائلڈ لیبر کا ذکر تو کرتے ہیں، مگر اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے عملی قدم نہیں اٹھاتے۔
اسی وجہ سے محنت کرنے والے بچوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اور غربت بڑھنے کے ساتھ یہ مسئلہ بھی شدت اختیار کر رہا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں بچوں سے جبری مشقت لینا اتنا عام ہو گیا ہے کہ اسے ایک سماجی برائی کے بجائے ناگزیر حقیقت سمجھا جانے لگا ہے۔ نتیجتاً، جب ہم اپنے ارد گرد ان غریب بچوں کو مزدوری کرتے دیکھتے ہیں، تو نظر انداز کر دیتے ہیں اور کبھی یہ نہیں سوچتے کہ ان کے گھروں میں کیا مشکلات ہیں۔ یہ مسلسل مشکلات میں گزرتی زندگی ہمارے معاشرے کے لیے شرمندگی کا باعث ہے۔
تعلیم: ہر بچے کا حق
تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے۔ تعلیم کے ذریعے بچے اپنے مستقبل کو روشن بنا سکتے ہیں۔ لیکن پاکستان میں لاکھوں بچے اسکول جانے سے محروم ہیں۔ تعلیمی اداروں کی کمی، غربت اور سماجی روایات اس کی اہم وجوہات ہیں۔ حکومت کو تعلیمی سہولیات میں اضافہ کرنا چاہیے اور غریب بچوں کو اسکول جانے کے لیے مالی امداد فراہم کرنی چاہیے۔
مقامی ویلفیئر اداروں کا کردار : مقامی ویلفیئر ادارے بچوں کے حقوق کے تحفظ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ان اداروں کو بچوں کو تعلیم، صحت اور تحفظ کی سہولیات فراہم کرنی چاہئیں۔ ان اداروں کو بچوں کے خلاف ہونے والے جرائم کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے اور متاثرہ بچوں کو قانونی مدد فراہم کرنی چاہیے۔ وطن عزیز میں ایسا ایک خوب صورت ادارہ موجود ہے جو خانہ بدوش بچوں کی تعلیم کے لیے کوشاں ہے، غیث ویلفیئر اینڈ ایجوکیشنل فاؤنڈیشن کے تحت چلنے والے جھگی تعلیمی پروجیکٹ ”میں ملک بھر کے کئی شہروں میں مفت بنیادی تعلیم فراہم کر رہا ہے، پاکستان میں بڑے پیمانے پر خانہ بدوش بچوں کے لیے وطن عزیز میں باقاعدہ مشن بنا کر کام کا آغاز فاؤنڈیشن نے آج سے 12 سال قبل کیا۔ آج سینکڑوں بچے آنکھوں میں خواب سجائے خانہ بدوش آبادیوں میں ہی قائم کیے گئے اسکولز میں علم کے زیور سے آراستہ ہو رہے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے اداروں کی عوامی اور حکومتی سطح پر خوب حوصلہ افزائی ہونی چاہیے تا کہ وہ اس مشن کو مزید احسن طریقے سے آگے بڑھا سکیں۔
بین الاقوامی ادارے بھی بچوں کے حقوق کے تحفظ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یونیسف اور دیگر بین الاقوامی تنظیمیں پاکستان میں بچوں کے حقوق کے لیے کام کر رہی ہیں۔ ان تنظیموں کو پاکستان میں بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے حکومت اور دیگر اداروں کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے۔
بچوں کے حقوق کے لیے اقدامات
بچوں کے حقوق کو یقینی بنانے کے لیے مختلف اقدامات کی ضرورت ہے۔ ان میں سے کچھ اہم اقدامات درج ذیل ہیں :
قانون میں اصلاحات: بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے موجودہ قوانین میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔
تعلیمی نظام میں بہتری: بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرنا چاہیے۔
صحت کی سہولیات میں اضافہ: بچوں کی صحت کا خیال رکھنے کے لیے صحت کی سہولیات میں اضافہ کرنا چاہیے۔
بچوں کے خلاف جرائم کے خلاف سخت کارروائی: بچوں کے خلاف ہونے والے جرائم کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔
عوامی شعور میں اضافہ: لوگوں میں بچوں کے حقوق کے بارے میں آگاہی پھیلانا چاہیے۔
بچوں کو بچپن گزارنے کا حق دیں : ہمیں بچوں کو بچپن گزارنے کا حق دینا چاہیے۔ انہیں کام کرنے کے بجائے کھیلنے اور پڑھنے کا موقع فراہم کرنا چاہیے۔
لڑکیوں کی تعلیم پر توجہ: لڑکیوں کی تعلیم کو فروغ دینا بھی ضروری ہے۔ کیوں کہ تعلیم یافتہ لڑکیاں ایک بہتر معاشرہ کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
بچوں کے لیے محفوظ ماحول فراہم کرنا: ہمیں بچوں کو ایک محفوظ ماحول فراہم کرنا چاہیے جہاں وہ بغیر کسی خوف کے کھیلوں کی سرگرمیوں کو بھی جاری رکھ سکیں اور آگے بڑھ سکیں۔
بچے ہمارے قیمتی اثاثے ہیں۔ ان کی پرورش اور تعلیم ہمارا سب سے اہم فرض ہے۔ ہمیں مل کر یہ عہد کرنا چاہیے کہ بچوں کو ایک محفوظ اور خوش حال ماحول فراہم کیا جائے گا تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو نکھار سکیں اور ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔


