ٹرانس فیٹ کے بڑھتے نقصانات اور ہماری صحت


صحت کے حوالے سے آئے دن ہم پرنٹ اور الیکٹرانک ذرائع ابلاغ میں پڑھتے اور دیکھتے رہتے ہیں جن میں زیادہ تر مواد غیر معیاری خوراک، بے ترتیب طرزِ زندگی، ذہنی تناؤ، موٹاپا، ذیابیطس، بلڈ پریشر، معدے کے مسائل، اور بہت سی دیگر ایسی بیماریوں کے حوالے سے ہوتا ہے اور ان کے بارے میں آگاہی دی جاتی ہے اور نصیحتاً ان سے پرہیز اور جسمانی مشقّت پر زور دیا جاتا ہے۔

عموماً ہمارے معاشرے میں عام لوگوں کے پاس دنیاوی نفسا نفسی اور معاشی الجھاؤ کے اتنے انبار لگے ہوئے ہیں کہ شاید خود کے لئے دس منٹ نکالنا بھی بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ لیکن کچھ ایسی چیزیں ہیں جو ان سب بیماریوں کا سبب بنتی ہیں ان کے بارے میں آگاہی اور ان پر عمل کا اگر ایک بہترین طریقہ کار بنا دیا جائے تو نہ صرف حکومتی بلکہ عوامی سطح پر بھی اس پر بھرپور زور دے کر اسے ایک قانون کی شکل میں لایا جائے تو شاید ہم ان بڑھتی ہوئی بیماریوں سے کسی حد تک آگاہی حاصل کر کے ان پر موّثر طریقے سے قابو پا سکتے ہیں۔

گزشتہ دنوں اسی سلسلے میں پاکستان کی ایک غیر سرکاری تنظیم سینٹر فار پِیس اینڈ ڈیولپمنٹ (CPDI) کی جانب سے ایک بہترین ورکشاپ منعقد کی گئی جس کا موضوع ’صنعتی مصنوعات سے پیدا ہونے والے اشیاء سے ٹرانس فیٹ (فاضل چربی) کا خاتمہ‘ تھا۔

ٹرانس فیٹ بنیادی طور پر ایک ایسا عمل ہے جس میں ہائیڈروجن کے ذریعے نباتاتی تیل کو ٹھوس شکل میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ بعد میں اس تیل کو ایک لمبے عرصے تک اور بار بار استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس معاملے میں عالمی سطح پر ہائیڈروجن کا صفر اعشاریہ دو فیصد تک استعمال قابلِ قبول گردانا جاتا ہے۔ اس سے تھوڑی سی بھی زیادہ مقدار صحت کے لئے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے جن کے ذریعے دل، ذیابیطس کے علاوہ اور کتنی خطرناک بیماریاں لاحق ہو سکتی ہیں۔

ان خطرات کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ امریکہ کی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے اس عمل پر سخت پابندی عائد کی ہوئی ہے اور بہت سے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک اس معاملے پر سنجیدگی سے کام کر رہے ہیں۔ کچھ ممالک نے تو ہائیڈروجن کی اس مقدار پر قابو پا لیا ہے اور اس کی سطح کو عالمی سطح پر مانی جانے والی اعشاریہ دو فیصد کی سطح پر لے آئے ہیں۔ ان ممالک میں مصر، بھارت وغیرہ بھی شامل ہیں۔ لیکن بد قسمتی سے ہم اس معاملے میں ابھی بہت پیچھے ہیں اور ٹرانس فیٹ کے استعمال کے حوالے سے سرِ فہرست ہیں جو کہ ایک خطرناک صورتِ حال ہے۔

ٹرانس فیٹ فرائیڈ فوڈ، بیکری مصنوعات، آئس کریم، چاکلیٹ، پاپ کارن، پزا، بریڈ غرض کہ ہر اس چیز میں پائی جاتی ہے جو کہ ہمارے روز مرہ کے استعمال میں آتی ہے۔ یہ سب مصنوعات بظاہر اتنی مضرِ صحت نظر نہیں آتیں لیکن آہستہ آہستہ یہ مختلف بیماریوں کو جنم دیتی ہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ٹرانس فیٹ کی مقدار کو ہر چیز میں عالمی سطح پر تسلیم شدہ لیول کے مطابق استعمال کیا جائے۔ اور یہ تب ہی ممکن ہے جب فوڈ اتھارٹی ہر صنعتی کارخانے پر چیک اور بیلنس رکھے۔ ایسے صنعتی ادارے جو اس مقدار سے زیادہ استعمال کر رہے ہیں ان پر قانونی کارروائی کی جائے۔

اس کے علاوہ ایک مخصوص قانون، جرمانہ اور کا سزا کا پیرا میٹر قائم کیا جائے تا کہ عام لوگ اس مضرِ صحت اور خطرناک اشیاء کی خاموش سے تباہی سے بچ سکیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ میڈیا کے ذریعے عوام الناس کی بہتری کے اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ عام کیا جائے بلکہ بار بار دہرایا جائے تا کہ لوگوں میں بھی اس حوالے سے شعور اور سنجیدگی پیدا ہو کہ وہ خود ایسی مصنوعات اور اشیاء کا استعمال ترک کر دیں۔

یہ کسی ایک غیر سرکاری تنظیم اور حکومتی اداروں یا قانون کی بات نہیں بلکہ یہ سب کی بنیادی کاوشوں سے ہی ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر ادارہ، ہر فرد اپنی صحت اور اپنی زندگی کی اہمیت کو سمجھے اور سنجیدگی سے اس آنے والی خطرناک صورتِ حال پر قابو پانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

سی پی ڈی آئی کی جانب سے منعقد کیے گئے اس ورکشاپ کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس میں سرکاری و نجی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے نمائندوں کے ساتھ ساتھ سندھ فوڈ اتھارٹی کے عہدیداران اور قلبی امراض کے ڈاکٹر اور دیگر بیماریوں کے ماہر ڈاکٹر حضرات بھی موجود تھے۔ ان سب ماہرین نے صنعتی طور پر بننے والی ان اشیاء کے استعمال اور ان سے پیدا ہونے والی مضر بیماریوں کے پھیلاؤ پر بہت زیادہ تشویش کا اظہار کیا اور حکومت سے ان کی روک تھام کے حوالے سے سخت اقدامات کا مطالبہ کیا۔

Facebook Comments HS