سیاسی حماقتیں اور سماجی ڈھانچے کی ٹوٹ پھوٹ

16 نومبر کو دنیا بھر میں برداشت اور رواداری کا عالمی دن منایا گیا۔ پاکستان کا پتہ نہیں کیونکہ یہاں سنہری اصولوں سے نفرت کی جاتی ہے۔ اصولوں کا تعلق دین سے ہو یا جمہوریت سے، کچھ لینا دینا نہیں۔ کیوں کہ جس مزاج کی سوچ عوام الناس پر مسلط ہو چکی ہے یا ماضی میں بھی مسلط رہی ہے، ان سبھی کا اصولوں کی پاسداری سے کچھ غرض نہیں تھی لہذا ان کی پاسداری ارباب اقتدار ضروری نہیں سمجھتے۔ محض رسمی بیان جاری کر دینا ہی کافی خیال کرتے ہیں۔ ون مین شو، صوابدیدی اختیارات اور صوابدیدی فنڈز ایسی قبیح فضولیات کے ساتھ سات دہائیوں سے وطن عزیز سے کھلواڑ کیا جا رہا ہے۔
اصولوں اور قواعد و ضوابط کے بغیر اگر کوئی ملک چل رہا ہے تو شاید یہ ہمارا دیس پاکستان ہی ہے جس کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح تھے۔ ان کا کردار بھی اب تصویر تک ہی محدود رہ گیا ہے۔ ملک کے کرنسی نوٹوں پر یا سرکاری اداروں اور دفاتر کی دیواروں پر لٹکی تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ قائد اعظم پاکستان کے بانی تھے۔ اگر ان کے ویژن یا تصور پاکستان کی بات کی جائے تو وہ ان کی وفات کے ساتھ ہی ختم ہو گیا تھا۔ حکومتی سطح پر بانی پاکستان مخالفت کو اس وقت مسترد کر دیا گیا تھا جب قائد اعظم کے سلوگن میں ترمیم کر کے اس کو بدل ڈالا گیا تھا۔ 1949 میں قائد اعظم کی وفات پر سرکاری طور پر جو یادگاری ٹکٹ جاری کیا گیا تھا اس پر ”اتحاد، یقین محکم، تنظیم“ لکھا ہوا ہے لیکن آج یہی سلوگن ”ایمان“ کے لفظ کا اضافہ کر کے استعمال ہوتا ہے۔ ایمان کا لفظ کس نے کب ڈالا، تاریخ خاموش ہے لیکن واضح ہوتا ہے کہ وہی ذہنیت پس پردہ لگتی ہے جو پاکستان کو مذہبی ریاست بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔ اس بددیانتی اور اندرونی ملی بھگت کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج ملک میں نہ اتحاد ہے اور نہ کوئی ایمان محفوظ ہے۔
بانی پاکستان نے پہلی دستور ساز اسمبلی کے اراکین سے خطاب کرتے ہوئے 11 اگست 1947 کو مستقبل کی حکومتوں کے لئے ایک تاریخی چارٹر پیش کیا تھا جس میں کچھ سماجی برائیوں اور حکومتی ذمہ داریوں کا بھی ذکر تھا۔ ہر حکومت کا پہلا فرض امن و امان برقرار رکھنے کو قرار دیا تھا تاکہ عوام کی جان و مال اور مذہبی عقائد کو مکمل تحفظ مل سکے۔ گزشتہ چار دہائیوں میں بم دھماکوں، خود کش حملوں دیگر دہشت گردی کی کارروائیوں کے نہ ختم ہونے والے سلسلہ کے بعد اب پاکستانیوں کے علاوہ چینی شہری بھی نشانہ بننے لگے ہیں۔ اپنے شہریوں کی حفاظت تو کیا کرنی چینی شہریوں کی حٖفاظت بھی گلے پڑ چکی ہے۔ اس کے بعد سماجی برائیوں کا ذکر فرمایا تھا جن میں کرپشن، چور بازاری اور ذخیرہ اندوزی، اقربا پروری شامل تھیں اور تاکید کی تھی کہ ان سے بچنا لازم ہو گا۔ آج حالت یہ ہے کہ یہی چاروں سماجی برائیاں ایسے ستونوں کی شکل اختیار کر چکی ہیں جن پر پوری مملکت کا کمزور ڈھانچہ کھڑا ہے۔ اقربا پروری کی زنجیروں سے من پسند شخصیات کو باندھ کر اہم اداروں کی طاقتور پوسٹوں پر تعینات افراد کو ضرورت کے مطابق استعمال کیا جا رہا ہے۔ اداروں کی کیا حالت ہو رہی ہے اس سے کچھ لینا دینا نہیں۔ یہ منفی رویہ اعلیٰ سطح تک ہی نہیں ہے بلکہ نچلی سطح پر بھی موجود ہے۔ قومی و صوبائی اسمبلی کا منتخب ممبر حلف اٹھانے سے پہلے ہی من پسند افسروں کی فہرست تیار کر لیتا ہے تا کہ من مانی کر سکے۔ یہی کام اب پارلیمنٹ اجتماعی طور پر کر رہی ہے۔ 1947 کے بعد اب 2024 بھی ختم ہو رہا ہے۔ اس عرصے کے دوران کی سیاسی تاریخ تلخ حقیقتوں اور سیاسی حماقتوں سے بھری پڑی ہے۔ مفادات کی چادر کی ”بکل“ اوڑھے حکمران آئے اور چلے گئے اور پیچھے ایسی سیاہ لکیریں چھوڑ گئے جن کو پیٹ پیٹ کر صرف وقت ہی گزارا گیا، ملک و عوام کی حالت مزید پتلی سے پتلی ہی ہوتی گئی۔
ان حالات میں آج ہر پاکستانی یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہے کہ آزادی کے بعد سے اب تک پاکستان کے اندر ہر طرح کا استحکام کیوں نہ آ سکا؟ اس ناکامی کی کیا وجوہات ہیں۔ ہر دور میں پاکستان کو بیرونی امداد، قرضے ملتے رہے۔ اسلامی ممالک کے فنڈز سے مدارس تو قائم کر لئے لیکن مغربی ممالک کی امداد سے ترقیاتی اداروں کا استحکام کیوں نہ ہوا اور انسانی ترقی کیوں نہ ہو سکی؟ سماجی ڈھانچہ مضبوط بنیادوں پر کیوں استوار نہ ہوسکا؟ اس وقت ملک کے سماجی ڈھانچے کی جو حالت ہو چکی ہے اس کی جھلک ان چند خبروں سے واضح ہوتی ہے۔ پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق کی تازہ سالانہ رپورٹ کے مطابق پاکستان ان دس ممالک میں پانچویں پوزیشن لینے میں کامیاب ہو گیا ہے جس کے شہری غیر قانونی طریقوں سے یورپ پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ اعزاز 2023 کے وسط میں حاصل کیا ہے جبکہ 2022 میں پاکستان پہلے دس ممالک کی فہرست میں شامل ہی نہیں تھا۔ 2021 سے اکتوبر 2022 کے دوران غیر قانونی طریقوں سے یورپ جانے والوں کی تعداد سب سے زیادہ رہی۔
چند ہفتے قبل پاکستان کی وزارت خارجہ نے قومی اسمبلی میں ایک کمیٹی کے روبرو انکشاف کیا تھا کہ دنیا بھر میں مختلف ممالک میں 22 ہزار پاکستانی قید ہیں۔ سعودی عرب میں دس ہزار، متحدہ عرب امارات میں پانچ ہزار اور باقی دیگر ممالک میں قید ہیں۔ اٹلی، یونان سمیت یورپین ممالک میں بھی ہزاروں پاکستانی جیلوں میں قید ہیں۔ اسی طرح سینٹ اور قومی اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹیوں میں پیش کی گئی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ خلیجی ممالک میں پکڑے جانے والے بھکاریوں میں نوے فیصد پاکستانی ہیں۔ چند ہفتے قبل ہی وفاقی وزیر داخلہ نے سعودی سفیر کو یقین دلایا کہ ہم سعودی عرب میں بھکاریوں کو جانے سے روکنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔ یو اے ای کے اندر جرائم میں پچاس فیصد پاکستانی ملوث ہیں جس کی تفصیلات حکومتی اداروں کے پاس ہیں۔ تلخ حقیقتوں کی بات ابھی ختم نہیں ہوئی۔ عالمی نشریاتی ادارے کی رپورٹ اٹھارہ نومبر کے مطابق سال رواں 2024 میں ابھی تک مختلف جرائم میں ملوث 121 غیرملکیوں کو سزائے موت دی جا چکی ہے ان میں سب سے زیادہ بڑی تعداد پاکستانیوں کی ہے جو 21 ہے۔ چند دن قبل 13 نومبر کی خبروں کے مطابق پاکستانی پاسپورٹ دنیا میں 102 نمبر پر پہنچ گیا اور صومالیہ، یمن، بنگلہ دیش، فلسطین، ایتھوپیا اور لیبیا کے پاسپورٹ گرین سے بہتر تھے اور ان سبھی کا نمبر 101 تھا۔ کبھی یہ وقت بھی تھا کہ اسی گرین پاسپورٹ پر برطانیہ اور یورپ کے متعدد ممالک کے ویزہ آن ارائیول ملتے تھے اور ایک طاقتور سفری دستاویز کی حیثیت رکھتا تھا۔ حال ہی میں سرکاری ادارہ پی ٹی اے کی توسط سے یہ خبر ذرائع ابلاغ کی زینت بنی کہ وطن عزیز میں روزانہ 2 کروڑ افراد فحش مواد تک رسائی کی کوشش کرتے ہیں۔ اتنی سخت پابندیوں کے باوجود لوگوں نے ہمت نہیں چھوڑی اور کوششیں کرتے رہتے ہیں۔ کس کس بات کا رونا رویا جائے، کس کس کو کوسا جائے کہ دال ہی نہیں پوری ہانڈی کالی سیاہ ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ یہ کوئی مایوسی کی باتیں نہیں ہیں اور نہ ہی جھوٹے سنے سنائے الزامات ہیں بلکہ تلخ حقیقتیں ہیں جن کا عام شہری کو سامنا ہے۔
پاکستان کے اندر مذہب کے بعد اب سیاست کے اندر جو انتشار، تشدد، بدامنی، لاقانونیت اور نفرت آج دیکھنے کو ملتی ہے پہلے کبھی نہ دیکھی تھی۔ یہ صورتحال مذہبی انتہا پسندی سے کہیں آگے نکلتی دکھائی دیتی ہے۔ نفرت بڑوں سے ہوتی ہوئی اب نچلی سطح پر کارکنوں کے اندر تک سرایت کرچکی ہے۔ سیاسی اکابرین کے ساتھ ساتھ مذہبی علماء نے بھی بہتی گنگا میں خوب ہاتھ دھوئے، اب تو باقاعدہ غسل کرتے ہیں۔ مذہبی جماعتیں جب چاہیں من پسند مطالبات کو طاقت کے زور پر منوا لیتی ہیں۔ انہیں عوامی ووٹ ملیں نہ ملیں وہ ویسے ہی ہر وقت اقتدار میں رہتی ہیں۔ چند دن قبل اسلامی نظریاتی کونسل نے وی پی این کا استعمال غیر قانونی قرار دیا ہے۔ اس فتویٰ کی بازگشت بھی ملکی سرحدیں پار کرچکی ہے۔ اس وقت اسلامی نظریاتی کونسل کی قیادت نون لیگ فیملی کے دیرینہ خاندانی تعلق داری رکھنے والے جامعہ نعیمیہ کے پاس ہے یہ نامزدگی نئی ہے اس سے پہلے کسی دور میں جمعیت علما اسلام فضل الرحمان کے شیرانی کے پاس ہوا کرتی تھی حکومتیں سیاسی مفادات کے لئے اس ادارے کو اسی طرح استعمال کرتی ہیں جس طرح پارلیمنٹ کے اندر کشمیر کمیٹی کی سربراہی سیاسی رشوت کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔ اس اسلامی نظریاتی کونسل کا کردار بھی اسی حد تک سیاسی رہ گیا ہے۔ جہاں حکومت پھنسے، اس کو بچاؤ۔ دہائیوں تک پارلیمنٹ میں کشمیر کمیٹی کی موجودگی کے باوجود بھارت نے کشمیر کو نگل لیا۔
ملائیت اور حکمرانوں کے گٹھ جوڑ نے ملکی سالمیت، استحکام کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ مذہب و ریاستی امور کے بعد اب سائنس و ٹیکنالوجی میں ملاؤں کا استعمال ایک خطرناک روش ہے۔ ایک مولانا نے چھبیسویں ترمیم میں 2028 تک سرکاری اداروں سے سود ختم کرانے کی شق داخل کرا کر ہم خیالوں سے داد سمیٹ لی، سبھی ایک دوسرے کو مبارکبادیں بانٹتے ہیں۔ اللہ جانے 2028 تک کیا حالات ہوتے ہیں کوئی نہیں جانتا۔ لیکن اس وقت تک سود حلال رہنے کا انہوں نے سرٹیفکیٹ ضرور حکومت کو دیدیا ہے۔ ملکی سیاست کے اندر سیاسی حماقتوں کی فہرست طویل سے طویل تر ہوتی جا رہی ہے۔ قائد اعظم نے اپنے سلوگن میں جو ”اتحاد“ کی بات کی تھی اس کی نفی کی عملی جھلکیاں پاکستان کے بڑے شہروں میں دیکھی جا سکتی ہیں کہ کس طرح پاکستان مال و دولت کی بنیاد اور سماجی رتبے کی بنیاد پر پر پورا پاکستان مختلف کالونیوں میں تقسیم ہو چکا ہے۔ جدید ترین سہولیات سے آراستہ ان کالونیوں کے بلند بالا گیٹ پر باوردی اہلکار ہوتے ہیں۔ عام پاکستانی ان کالونیوں کے اندر جانے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ ہر ادارے کی اپنی الگ الگ کالونی ہے۔ حکمرانوں نے اپنی سیاسی گرفت مضبوط کرنے کے لئے ہر اہم اداروں کے اعلیٰ افسران کو مفت پلاٹوں کی تقسیم کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ اسلام آباد کے پوش علاقوں میں بھی حال ہی میں قیمتی پلاٹ دے کر افسران کو خریدا گیا ہے۔
شرمناک حقیقت یہی ہے کہ سیاسی و مالی اثر و رسوخ کے اندھا دھند استعمال اور افسران کو قابو کرنے کی سیاسی روش نے ملکی انتظامی اور سماجی ڈھانچہ مکمل طور پر برباد کر دیا ہے۔ مذہب اور جمہوریت کو اس طرح گڈ مڈ کر دیا گیا ہے کہ کچھ پتہ نہیں چلتا کہ ملک میں کون سا نظام رائج ہے۔ نہ اسلامی جھلک ہے نہ جمہوری اصول اور کلچر کہیں دیکھنے کو ملتا ہے۔ تاہم یہ ضرور ہوتا ہے کہ بوقت ضرورت مذہب کارڈ کھیل کر مذہب استعمال ہو جاتا ہے اور جمہوریت کی بات ہو تو آئین یاد آ جاتا ہے۔

