سفارتی حلقوں میں عمران خان کی مشروط رہائی کی اڑتی خبریں اور تبصرے
اسلام آباد کے سیاسی و سفارتی حلقوں میں کچھ اڑتی اڑتی خبریں زیر بحث ہیں۔ اسلام آباد میں برطانوی سفیر کی رہائش گاہ پر کنگز برتھ ڈے پارٹی سے لے کر لاہور میں اطالوی سفیر کی جانب سے دیے گئے اطالوی فوڈ فیسٹیول تک کے جس میں انہوں نے اٹالین کھانوں کی تیاری کے لئے باورچی بھی اٹلی سے ہی بلوائے تھے کیوں کہ اٹلی اپنے کھانوں کی یہ تقریب پوری دنیا میں منعقد کرتا ہے اور ان کھانوں کی میز پر بھی برطانوی ہائی کمشنر کی جانب سے دی گئی دعوت کی مانند مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والوں کے درمیان گفتگو ممکنہ پاکستانی سیاسی و سفارتی امور پر تھی۔
خبر سب سے گرم یہ تھی کہ عمران خان کو پاکستان کے کچھ عرب دوست ممالک رہائی دلانے کی کوشش کر رہے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ 190 ملین پاؤنڈ کے کیس کے فیصلے سے قبل یہ ڈیل انجام پا جائے کیوں کہ اس پر کسی کو کوئی شبہ نہیں ہے کہ اس کیس میں عمران خان کے لئے بچنا ناممکن ہے کیوں کہ کیس بالکل واضح ہے۔ میرے استفسار پر ایک دوست نے کہا کہ اس ڈیل میں ٹرمپ کی آنے والی حکومت کا کوئی کردار نہیں ہے بلکہ عمران خان اس پر راضی ہو گئے ہیں کہ وہ اگلے پانچ برسوں تک زبان بندی کی پابندی کریں گے مگر بات صرف اس پر اڑی ہوئی ہے کہ طاقت ور حلقوں میں ایک موثر گروہ یہ سوچ رکھتا ہے کہ جب ان کو عدالت کی جانب سے سزا مل جائے گی تو ان کو کسی عرب ملک جانے کا ریلیف دینے کی کیا ضرورت ہے اور معاملات کو مکمل طور پر قانون کے تحت ہی چلنے دیا جائے۔
ایک یہ بھی سوال زبان زد عام ہے اور میرے سے بھی پوچھا گیا کہ کیا امریکہ اور چین دونوں کے لئے پاکستان کی حیثیت بتدریج غیر اہم یا غیر متعلق ہو گئی ہے۔ ایسا بالکل بھی نہیں ہے اور امریکہ میں کوئی بھی بر سر اقتدار ہو جب بھی وہ اس خطے کی پالیسی کو تشکیل دے گا تو اس وقت پاکستان کو چاہے جنوبی ایشیا ہو یا مشرق وسطیٰ یا چین ہو یا بحر ہند نظر انداز نہیں کر سکتا ہے۔ ہاں یہ بات درست ہے کہ امریکہ کی اس وقت داعش یا دوسرے الفاظ میں افغانستان کی جانب سے اٹھنے والے تمام فتنوں سے اپنے ملک کو محفوظ رکھنے کے لئے کڑی نظر ہے اور وہ کسی بھی صورت میں بھی افغانستان کے حالات کو امریکہ کی سلامتی کے لئے کسی بھی سطح کا خطرہ بننے دینے والے ہر عامل کی بیخ کنی کرنا چاہتا ہے اور اس کے لئے وہ پاکستان کی جانب سے تعاون حاصل کرنا چاہے گا مگر خیال رہے کہ سر دست اس کا مسئلہ صرف امریکہ کی سلامتی سے جڑے ہوئے امور ہیں اور وہ اس کے علاوہ کسی بھی صورت حال کو اپنے لئے اہم نہیں گردانتا ہے۔
افغانستان ٹرمپ کی قومی سلامتی کی حکمت عملی میں کس حد تک اہم ہو گا اس امر کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس نے اپنا نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر مائک والٹز کو مقرر کیا ہے کہ جو اپنے فوجی کیریئر میں مشرق وسطیٰ، افریقہ اور افغانستان میں تعینات رہا اور اس نے 2014 میں معروف کتاب
Warrior Diplomat: A Green Beret’s Battles from Washington to Afghanistan
تحریر کی تھی۔ پاکستان کا مسئلہ صرف امریکہ کی نئی انتظامیہ کے حوالے سے یہ ہے کہ یہاں پر ریپبلیکن پارٹی کے ساتھ سیاست دانوں کے اور دیگر شعبہ ہائے زندگی کے افراد کے تعلقات رہے مگر یہ بش دور کی ریپبلیکن پارٹی نہیں ہے اور ٹرمپ دور کی ریپبلیکن پارٹی سے یہاں کسی کے بھی کوئی مراسم نہیں ہیں۔ یہاں تک کہ امریکہ کے مخالف ممالک نے بھی امریکی انتخابات سے قبل ہی ٹرمپ کے ساتھ ہی رابطوں کا آغاز کر دیا تھا۔ مثال کے طور پر ایران کے لوگوں نے ایک تیسرے ملک میں ٹرمپ کے لوگوں سے ملاقات کی تھی مگر ہم نے ایسی کوئی کوشش نہیں کی اور سفارت خانے کی سطح پر ایسی کوئی کوشش ہو بھی نہیں سکتی تھی کیوں کہ یہ کام سفارت خانوں کا نہیں ہوتا ہے بلکہ اس کے لئے ماہرین کی ضرورت ہوتی ہے۔ صرف اس بنا پر یہ خلا محسوس ہو رہا ہے اور اگر اب بھی اہداف اور اپنی ضروریات اور وسائل کو سامنے رکھتے ہوئے حکمت عملی تشکیل دی جائے تو یہ خلا پر کیا جا سکتا ہے۔
اسی طرح سے یہ تصور بھی کرنا کہ چین کے لئے پاکستان غیر متعلق ہو گیا ہے بالکل نادانی کی بات ہے۔ پاکستان سے برادرانہ تعلقات سے لے کر انڈیا کی علاقائی بالا دستی کے خواب سے لے بحر ہند میں اس کے بڑھتے قدم یہ سب پاکستان اور چین کے اسٹریٹجک مفادات کو چیلنج کرنے والے عوامل ہیں اور دونوں ممالک اس خطرے کو مشترکہ خطرے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ پاکستان کے محل وقوع کو کوئی بھی نظر انداز نہیں کر سکتا ہے۔ چین سے مسئلہ یہ ہے کہ ابھی سی پیک کے پہلے فیز کا اہم ترین منصوبہ ایم ایل ون کھٹائی میں ہی پڑا ہوا ہے اس لئے دوسرے فیز کے آغاز کی بات مناسب نہیں، اسی طرح جس انڈسٹری نے 2016 یا 2017 میں پاکستان آنا تھا وہ اس وقت کیے گئے تجربہ کی بھینٹ چڑھ گئی۔ دہشت گردی کا مسئلہ دونوں ممالک کے لئے درد سر بنا ہوا ہے جس کا تدارک ہونا چاہیے مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی سمجھنی چاہیے کہ اتنے بڑے پراجیکٹ کے سامنے مسائل آتے ہی رہیں گے اور یہ ایک مستقل جد و جہد یا لڑائی ہے جو لڑنی ہے۔
مسئلہ صرف یہ ہے کہ پاکستان نے اپنے چینی دوستوں کے سامنے اس حوالے اپنا موقف درست انداز میں پیش نہیں کیا ہے، ان معاملات کو بھی حل کیا جا سکتا ہے اگر تمام امور کو پیش نظر رکھتے ہوئے حکمت عملی تشکیل دی جائے۔ ابھی جب ایس سی او کانفرنس ہونے والی تھی تو مجھ سے بیجنگ میں مقیم میرے ایک چینی دوست نے کچھ سوالات پوچھے جس میں سے میں نے ایک کے جواب میں کہا کہ چینی وزیر اعظم کو یا ان کی ٹیم کے کسی فرد کو بھی پاکستان میں سیاسی عدم استحکام کا نہیں کہنا چاہیے کیوں کہ اس سے اچھا تاثر قائم نہیں ہوتا ہے۔

