نادرہ مہر نواز: چھوٹی سی کتاب اور بڑی کہانیاں

تعلق کا نادیدہ بوجھ کی تخلیق کار محترمہ نادرہ گیلانی مہر نواز صاحبہ عہد موجود کی وہ عمدہ و اعلی شخصیت ہیں جنہوں نے اپنے افسانوں کی اس کتاب میں عصری اور معروضی صورتحال کی حقیقت کو اس طرح فکشنلائز کیا ہے کہ افسانہ پن کے رموز پر پورا اترتی ہوئی یہ کتاب نثری ادب میں ایک خوبصورت اضافہ بنی اس پر ہم نادرہ گیلانی صاحبہ کے ممنون و شکر گزار ہیں۔ میں یہ کتاب اس لیے بھی پڑھنا چاہتی تھی کہ میں دیکھوں کہ دیار غیر میں بیٹھ کر 21 ویں صدی کی خاتون تخلیق کار دنیا کو کس نظر سے دیکھتی ہے۔ ’تعلق کا نادیدہ بوجھ‘ عکس پبلیکیشن نے خوبصورت ٹائٹل کے ساتھ طبع کیا ہے۔
ٹائٹل پر چند ریشے اور دھاگے ہیں جو آپس میں مکس اپ اور گتھم گتھا ہے دیکھنے والے کو اس ایبسٹریکٹ میں کئی تصویریں دکھائی دیتی ہیں مجھے ایسے لگا کہ یہ یک رنگی دھاگے فکشن اور حقیقت کا حسین امتزاج ہیں ان مکس ہوتے ہوئے دھاگوں کو ایک دوسرے سے الگ کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن دکھائی دیتا ہے اسے غور سے دیکھا جائے تو یوں ہی لگتا ہے کہ جیسے اگر حقیقت کو تخلیق سے الگ کر لیا جائے گا تو حقیقت مر جائے گی اور اسی طرح اگر تخلیق کو حقیقت سے الگ کر لیا جائے گا تو وہ بے رنگی رہ جائے گی۔
یہ کتاب اپنے تعارف سے لے کر انتساب تک اور اپنے انتساب سے لے کر اخری کہانی تک حقیقت کی گرہیں کھولتی ہوئی دکھائی دیتی ہے میں نے اس کتاب کی خالق کو حقیقت شناس نثر نگار کا نام دیا ہے نادرہ گیلانی صاحبہ اپنی کتاب کو کہانیوں کے کرداروں کے نام منسوب کرتی ہیں۔ یہ کام کوئی خالص تخلیق کار، ادب شناس اور بڑے دل والا ہی کر سکتا ہے کہ اپنی ادبی و تخلیقی پونجی کو اپنے کرداروں کے حوالے کر دیا جائے اس کے بعد جب اپنے بارے میں لکھتی ہیں تو کہتی ہیں کہ میری یہ کتاب پوری طرح فکشن نہیں ہے یہ بات انہوں نے انتہائی صداقت اور سہولت کے ساتھ کہہ دی ہے یہاں ہمیں وہ بہت معصوم سچی اور صاف گو مصنفہ نظر اتی ہیں۔
بیانیہ طرز کی ان کہانیوں میں ہمیں ہر دو طرح کے اچھے اور برے کردار دکھائی دیتے ہیں یہ دل میں اترتی ہوئی کہانیوں میں ہمارے معاشرے کے سارے کے سارے سامنے کے کردار ہیں چھوٹی اور مختصر کہانیوں میں انتہائی حساس موضوعات بھی ہیں اور کچھ سخت اور ناہنجار بھی یہاں تارکین وطن کے نوحے بھی ہیں اور جبری شادیوں کے مسائل بھی نادرہ گیلانی صاحبہ نے انتہائی صداقت کے ساتھ وہ اندر کی بات بھی بتا دی کہ کہ یہ سچی کہانیاں ہیں اور لوگوں نے ان پر اعتماد کر کے ان کے حوالے کی ہیں۔
حقیقی کرداروں نے وہ کہانیاں ان کو خود سنائی ہیں اور ان سے درخواست کی ہے کہ ان کا ذکر ان کے ناموں کے ساتھ نہ کیا جائے ظاہر ہے جس سوسائٹی میں رہ رہے ہوتے ہیں وہاں لوگ مظلوم کرداروں پر ترس کھانے کے بجائے اور ان کی مدد کرنے کی بجائے ان پر کیچڑ اچھالنا شروع کر دیتے ہیں اس خوف سے انہوں نے اپنا اصل نام ظاہر نہ کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے اکثر ایسے ہوتا ہے کہ ہم دو دو کلو کے مسودے پڑھ کر اپنا قیمتی وقت ضائع کرتے ہیں مگر اس میں ایک چھٹانک بھی تخلیقیت دکھائی نہیں دیتی نادرہ گیلانی صاحبہ کی کوئی کہانی ایسی نہیں ہے جس کے موضوع کو نظر انداز کیا جائے یا آدھی کہانی پڑھ کر اسے راستے میں چھوڑ دیا جائے ہر کہانی قاری کو شروع سے اخر تک اپنے ساتھ مضبوطی سے باندھ لیتی ہے نادرہ صاحبہ نے اپنی کتاب میں ان موضوعات کو جگہ دی ہے جو عصر حاضر کی پیچیدگیوں کا باعث بنے ہیں انہوں نے کسی ایک ملک یا کسی ایک جنس انسانی کو موضوع نہیں بنایا بلکہ ان کے ہاں موضوعات اور کرداروں کی ورائٹی دکھائی دیتی ہے۔
تعلق کا نادیدہ بوجھ میں کوئی کہانی قاری پر بوجھ نہیں بنتی۔ گیارہ کہانیوں میں سے دس قدرے مختصر ہیں اور اخری کہانی جو کتاب کا موضوع بھی ہے ذرا طویل ہے ان کہانیوں میں کہیں بھی پڑھنے والے کو اجنبیت محسوس نہیں ہوتی لگتا ہے کہ ہمارے چاروں اور بکھری ہوئی اور نظر انداز ہوئی ہوئی داستانیں ہیں جن کو کسی درد دل تخلیق کار کا انتظار ہے۔ یہ وہ بے بس کہانیاں اور ان کے کردار ہیں جن پر خوش قسمتی سے نادرہ گیلانی صاحبہ نے قلم کشائی کی ہے نادرہ صاحبہ کی ان بولتی اور جاگتی 11 کی 11 کہانیوں کو اگر ترتیب وار ایک لڑی میں پرو دیا جائے تو وقت اور ریاضت کی ساری تھکن اتر جاتی ہے میں نے ان کی کہانیوں کی ترتیب اور تہذیب تبدیل کیے بغیر ایک تسبیح میں پرو کر سوچا تو مجھے ایک بڑا ناول دکھائی دیا۔
جیسے وہ کہتی ہیں کہ کوئی ایسے فرشتے بھی ہیں جو بتائیں کہ کھاریاں والے بنگلے میں کون رہتا ہے۔ ٹوٹے پروں کی اڑان سے وہ چھوٹا سا لڑکا کہہ دے کہ زندگی آگ بھی ہے اور پانی بھی سو دریا کے دو کنارے نازک مقام تھے دل کے۔ بشری ببوشکا کیسے بنی افففف جو بیت گیا وہ گزر کیوں نہیں جاتا گل بانو تم ہی بتاؤ یہ تعلق کا نادیدہ بوجھ

