نادرہ مہر نواز: چھوٹی سی کتاب اور بڑی کہانیاں

تعلق کا نادیدہ بوجھ کی تخلیق کار محترمہ نادرہ گیلانی مہر نواز صاحبہ عہد موجود کی وہ عمدہ  و اعلی شخصیت ہیں جنہوں نے اپنے افسانوں کی اس کتاب میں عصری اور معروضی صورتحال کی حقیقت کو اس طرح فکشنلائز کیا ہے کہ افسانہ پن کے رموز پر پورا اترتی ہوئی یہ کتاب نثری ادب میں ایک خوبصورت اضافہ بنی اس پر ہم نادرہ گیلانی صاحبہ کے ممنون و شکر گزار ہیں۔ میں یہ کتاب اس لیے بھی پڑھنا چاہتی

Read more

مجید امجد کا تخلیقی جوہر

جس طرح کسی شاگرد کو اچھا استاد مل جائے تو اس کی زندگی سنور جاتی ہے اسی کے مصداق اگر کسی اعلیٰ تخلیق کار کو کوئی سمجھدار نقاد مل جائے تو اس کی آخرت سنور جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ مجید امجد کو اگر ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا نہ ملتے تو شاید وہ یا تو گم نام رہ جاتے یا جلدی نہ پہچانے جاتے۔ اگرچہ اس میں بہت حد تک صداقت ہے کہ چشم عصر نے دیکھا ہے کہ

Read more

فہمیدہ ریاض: ایک بہادر اور نڈر ادیبہ

کوئی صورت کوئی تدبیر نکالی جائے آبرو عشق و محبت کی بچا لی جائے مشورہ میرا بس اتنا ہے نئی نسلوں کو اپنے اجداد کی پگڑی نہ اچھالی جائے (بے باک امروہوی) جب بڑے مر جاتے ہیں تو چھوٹے بڑے ہو جانے کی اداکاری کرنے لگ جاتے ہیں۔ حالاں کہ بڑے مر کر بھی بڑے رہتے ہیں خاص طور پر وہ بڑے جو ٹرینڈ میکر ہوتے ہیں، جو دنیا میں کچھ الگ یا منفرد کردار نبھا کے دنیا سے رخصت

Read more

وہ جو مل گیا اسے یاد رکھ جو نہیں ملا اسے بھول جا

نئے سال کے آتے ہی امجد صاحب رخصت ہوئے۔ امجد اسلام امجد ادب کے بے تاج بادشاہ تھے۔ وہ اب کسی رسمی تعارف کے محتاج نہیں رہے تھے۔ پوری دنیا میں اردو پنجابی پڑھنے اور بولنے والے ان کے نام اور کام سے واقف ہیں۔ موت سے کسی کو مفر نہیں، وہ تو بر حق ہے اسے آ کے رہنا ہے مگر کچھ لوگ مر کے واقعی ہی مر ہو جاتے ہیں اور کچھ لوگ اپنی زندگی میں بھی روشن

Read more

رنگ بدلے گا موسم کا یہ اک جھونکا ہوا کا

قدرت کی طرف سے ودیعت کی ہوئی زندگی اتنی تیزی سے ہوا ہو جاتی ہے، اس کا احساس ہمیں ہر جاتے ہوئے سال کے بعد ہوتا ہے۔ گزرتا ہوا سماں اپنے پیچھے، اپنے اچھے یا برے اثرات ضرور چھوڑ کر جاتا ہے۔ سب سے زیادہ تکلیف انسانی جانوں کے زیر زمین چلے جانے کی ہوتی ہے۔ یہ وہ نقصان ہے جو فطری ہے۔ آئی ٹی اور سائنس لاکھ ترقی کر لے تو بھی ٹوٹی ہوئی سانس بحال نہیں کر سکتی۔

Read more

ہائے وہ لوگ۔۔۔۔ خوش کلام سے لوگ

ڈاکٹر اختر شمار محبتیں بانٹنے والے ایک خوبصورت شاعر ہیں۔ انہیں مرحوم لکھتے ہوئے کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ قدرت کے اپنے اصول اور قاعدے ہیں جن سے کسی کو مفر نہیں۔ بعض اوقات خصوصا موت کے معاملے میںاس کے فیصلے انسان کو اچانک حیران کر دیتے ہیں۔ بہر حال موت برحق ہے آج نہیں تو کل سب نے اس کا ا یندھن ہو کر رہنا ہے۔ ڈاکٹر اختر شمار جو کہ اعلیٰ پائے کے شاعر، ادیب، ماہر تعلیم، کالم

Read more

’عشق وسیلہ‘ سے ’عشق ریاضت‘ تلک: یسین عاطر

یہ داستان ہے ایسے فرد کی جو اپنا سفر حیات ”عشق وسیلہ“ سے کرتا ہے۔ اس کا دوسرا پڑاؤ ”عشق ریاضت“ ہے۔ گمان ہے کہ اس کی اگلی منزل ”عشق کہانی“ ہو۔ وہ اپنی زندگی میں عشق کی اہمیت کے اس حد تک قائل ہیں کہ اس کے بغیر انجمن ہستی کو روکھا پھیکا اور بے رونق و بے کار سمجھتے ہیں۔ ڈاکٹر یسین عاطر نے مصور اعلی کو راہنما کیا، درد و احساس کی انگلی پکڑی اور بنا سود

Read more

یہ مقام ہے بابا عشق کا، یہاں ننگے پاؤں چلا کرو

یہ بات سچ ہے کہ کئی دہائیوں کے کڑے اور تھکا دینے والے مسلسل سفرکے بعد اردو غزل کی انگڑائیاں ابھی تک بھی بدستور جاری ہیں۔ پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد وطن کی مٹی کی حفاظت کے لیے جہاں ہر محکمے اور ادارے نے بڑھ چڑھ کر دعوے کیے اور کسی حد تک ان پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کی وہاں ادب اور ادیب نے بھی اپنے کاندھوں پر لی گئی ذمہ داریاں خوب نبھانے کی

Read more

دیکھتی آنکھوں، سنتے کانوں کو اس کا آخری سلام

کئی نامور ہستیاں ان گنہگار آنکھوں نے موت کے ہاتھوں ہارتی دیکھی ہیں۔ ہماری اپنی آنکھوں نے کیا کیا نہ غم جاناں و غم دوراں دیکھے ہوں گے مگر جتنی عزت، شہرت، عظمت اور وقار ”دیکھتی آنکھوں سنتے کانوں“ والے کے حصے میں آیا ہے چشم فلک نے شاذ ہی ہمارے عصر میں دیکھا ہو گا۔ طارق عزیز ایک شخصیت نہیں بلکہ وہ ایک عہد تھا۔ ہم نے خلق کو منیر نیازی ازبر ہوتے دیکھا جس کے مرنے پر چنگ

Read more