مگرمچھ پروفیشنلز: نوجوانوں کے کیریئر کے دشمن


sajid mehmood chohan

ہر نوجوان جب پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کرتا ہے تو اس کے دل میں کچھ خواب ہوتے ہیں۔ وہ ان خوابوں کو اپنی محنت، صلاحیت اور جذبے کے ساتھ پورا کرنا چاہتا ہے۔ نوجوانوں کے لیے یہ دنیا ایک نئے موقع کی طرح ہوتی ہے جہاں وہ اپنے ہنر اور صلاحیتوں کو منواتے ہیں اور اپنا کیریئر مضبوط کرتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے، پیشہ ورانہ دنیا میں کچھ ایسے افراد بھی موجود ہوتے ہیں جنہیں ”مگرمچھ پروفیشنلز“ کہا جا سکتا ہے۔ یہ لوگ اپنی چالاکی اور خودغرضی کے ذریعے نہ صرف نوجوانوں کا استحصال کرتے ہیں بلکہ ان کے خوابوں کو چکنا چور کر کے تباہ کر دیتے ہیں۔

ہر نوجوان کیریئر کے آغاز میں ایک ایسے ماحول کی تلاش میں ہوتا ہے جہاں اسے کام سیکھنے، اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے، اور ترقی کے مواقع مل سکیں۔ وہ بڑے خوابوں کے ساتھ اپنے سینئرز کو اپنا رہنما سمجھتا ہے اور ان سے سیکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ نوجوان اپنی توانائی، جوش اور مثبت رویے کے ساتھ اپنی جگہ بنانے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔ لیکن اسی دوران، اُن کا سامنا کچھ ایسے افراد سے ہوتا ہے جو صرف اپنی خودغرضی کے لیے ان کی محنت کا فائدہ اٹھاتے ہیں اور اِن کا استحصال کرتے ہیں۔

یہ ”مگرمچھ پروفیشنلز“ بڑے ہی چالاک اور موقع پرست ہوتے ہیں۔ ان کی چالاکی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ پہلے اپنے جونیئرز اور ساتھیوں کا اعتماد لیتے ہیں جیسے کہ ایک مگر مچھ جب دھوپ میں ہوتا ہے تو اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں جس سے دیکھنے والے کو اُس پر ترس آ جاتا ہے اور اسی طرح یہ مگر مچھ پروفیشنلز اپنی اصل نیت کا اظہار نہیں کرتے۔ یہ نوجوانوں کا اعتماد حاصل کرتے ہیں اور ان سے بہترین نتائج نکلواتے ہیں۔ جب نوجوان اپنی محنت کے ذریعے کامیابی کے قریب پہنچنے لگتے ہیں، تو یہ مگرمچھ پروفیشنلز ان کے نتائج کو اپنی کامیابی کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

مگرمچھ کی طرح، جو اپنے شکار کو فوراً نہیں کھاتا بلکہ اسے دلدل میں چھپا کر رکھتا ہے، یہی رویہ ان پروفیشنلز کا بھی ہوتا ہے۔ مگرمچھ کا جبڑا نہایت طاقتور ہوتا ہے، اور ایک بار شکار کو دبوچ لے تو اسے چھوڑتا نہیں ایک محتاط اندازے کے مطابق مگر مچھ کی بائٹ یعنی کاٹنے کی طاقت کا اندازہ لگایا جائے تو ایک سے دو ٹن کے وزن کے برابر مگرمچھ کی بائیٹ کا وزن ہوتا ہے۔ یہی حال ان مگرمچھ پروفیشنلز کا ہے، جو کسی پروجیکٹ یا کلائنٹ کو بظاہر مسترد کر دیتے ہیں، لیکن اسے اپنے فائدے کے لیے چھپا کر رکھتے ہیں۔ بعد میں، جب حالات ان کے حق میں ہوتے ہیں، تو یہ اس کلائنٹ کو اپروچ کر کے اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ مثال کے طور پر سیلز کیریئر میں ہم جانتے ہیں کسی بھی کسٹمر تک پہنچنے کے جو مدارج ہیں اُن میں سے ایک درجہ پراسپیکٹ کا ہوتا ہے جو کہ لیڈ میں اور پھر سیلز میں تبدیل ہوتا ہے۔ نئے سیلز پروفیشنلز کے سامنے جب کوئی پراسپیکٹ آتا ہے تو وہ اپنی سینیئر ٹیم یا منیجر سے شیئر کرتا ہے تو یہ منیجر اپنے تجربات کی روشنی میں نوجوان سیلز پروفیشنلز کو گائیڈ کرتا ہے کہ کس پراسپیکٹ پر محنت کی جائے تاکہ وہ آپ کی لیڈ اور سیلز میں تبدیل ہو جائے۔ لیکن اگر منیجرز میں سے کوئی مگرمچھ پروفیشنل ہو گا تو وہ آپ کی سیلز پراسپیکٹنگ کو یا تو نظر انداز کر دے گا، یا کمپنی مالکان یا منیجمنٹ کے سامنے غیر معیاری ثابت کر کے اس پراسپیکٹ کو بظاہر ضائع کر دے گا لیکن اس پراسپیکٹ کو زندہ رکھے گا اور بعد میں بوقت ضرورت اُس پراسپیکٹ کو لیڈ میں اور پھر سیلز میں تبدیل کرے گا۔ یہ کام عموماً ہر سیکٹر اور ہر ملک میں ہوتا ہے لیکن رئیل اسٹیٹ سیکٹر، انشورنس سیکٹر، ویزا کنسلٹنسی سروسز وغیرہ میں ان پروفیشنلز کی کثیر تعداد موجود ہے۔

نوجوانوں کو ان مگرمچھ پروفیشنلز کی حقیقت دیر سے معلوم ہوتی ہے۔ تب تک یہ لوگ ان کی محنت، مواقع اور کیریئر کو نقصان پہنچا چکے ہوتے ہیں۔ ان کی خودغرضی نہ صرف نوجوانوں کو مایوس کرتی ہے بلکہ انہیں آگے بڑھنے سے بھی روکتی ہے۔ نوجوان اپنے کیریئر کے آغاز میں ہی مایوس ہو جاتے ہیں اور کام کرنے کا جذبہ کھو بیٹھتے ہیں۔ یہ افراد نوجوانوں کے کیریئر کو اتنا متاثر کرتے ہیں کہ ان کی ترقی رک جاتی ہے۔ نوجوانوں کی ذاتی زندگی بھی متاثر ہوتی ہے، کیونکہ وہ اپنی انرجی اور وقت ایسے لوگوں پر ضائع کرتے ہیں۔

ہمیشہ ایسے لوگوں کو اپنا مینٹور، گرو یا رہنما بنائیں جن کی نیت صاف ہو اور جو آپ کی ترقی کے لیے مخلص ہوں، اگرچہ یہ شروع میں نہیں پتا چلتا لیکن آپ کسی بھی پروفیشنل کو مینٹور بنانے سے پہلے ان سے جڑے ہوئے پرانے افراد سے گپ شپ لگا کر اندازہ ضرور لگا سکتے ہیں۔ ہر پروجیکٹ اور کلائنٹ کا ریکارڈ محفوظ رکھیں تاکہ آپ کی محنت کا کریڈٹ آپ ہی کو ملے۔ ان مگرمچھ پروفیشنلز کے رویے کو پہچانیں اور اپنی محنت کو ضائع ہونے سے بچائیں۔ اپنی منیجمنٹ کے ساتھ اپنے کام کو شفاف رکھیں تاکہ کوئی آپ کی محنت کو چھپا نہ سکے۔ کمپنیز کو بھی چاہیے کہ ایک ایسا نظام بنائیں جہاں ہر پروجیکٹ اور کلائنٹ کی تفصیلات محفوظ ہوں اور سب کو معلوم ہو کہ کون کیا کام کر رہا ہے۔ ٹیم میں تعاون اور شفافیت کو فروغ دیں تاکہ ایسے رویوں کو روکا جا سکے۔

مگرمچھ پروفیشنلز وقتی طور پر فائدہ اٹھا سکتے ہیں، لیکن طویل مدت میں ان کا رویہ کمپنی اور نوجوانوں دونوں کے لیے نقصان دہ ہے۔ ایمانداری، شفافیت، اور تعاون ہی وہ اصول ہیں جو کسی بھی پیشہ ورانہ ماحول کو کامیاب بناتے ہیں۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ ان رویوں سے نہ گھبرائیں بلکہ اپنی محنت اور ایمانداری کے ذریعے خود کو نمایاں کریں۔ کمپنیز کو بھی چاہیے کہ وہ ایسے رویوں کو پہچانیں اور ان کا سد باب کریں تاکہ نوجوانوں کو ایک مثبت اور ترقی یافتہ ماحول فراہم کیا جا سکے۔

Facebook Comments HS