گلوب چورنگی
کراچی میں شروع ہونے والے ریڈ لائن بس کے منصوبے نے کراچی کے انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ماضی کی بہت ساری یادگاریں اس کی زد میں آ گئی ہیں۔ ریڈ لائن بس سروس سے فوائد تو بعد میں حاصل ہوں گے مگر اس سے متاثر ہونے والی بے شمار چیزوں نے عوام کے دلوں میں ایک زخم سا پیدا کر دیا ہے۔ ہزاروں درخت ریڈ لائن منصوبے کی وجہ سے جڑ سے کاٹ دیے گئے۔ کراچی کے شہریوں کی گاڑیوں کو ریڈ لائن بس منصوبے کی وجہ سے شدید نقصان پہنچا ہے۔
سڑکیں کھودنے جانے کی باعث اور سڑکوں میں گہرے گڑھے ہونے کی وجہ سے، تمام ہی نجی اور عوامی ذرائع نقل و حرکت (ٹرانسپورٹٰ) کو شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ سڑکوں کی خرابی کی وجہ سے زیرو میٹر گاڑیوں کو بھی مرمت کی ضرورت پیش آنے لگی ہے۔ گلوب چورنگی اور اس سے جڑی بے شمار یادیں ہمارے ذہنوں میں محفوظ ہیں۔ بچپن میں صدر جاتے ہوئے اکثر گلوب چورنگی کے آگے سے گزرا کرتے تھے۔ دور سے ہی یہ چورنگی نظر آیا کرتی تھی۔
اس کے پس منظر میں مزارِ قائد کا گنبد منزل قریب ہونے کا احساس دلایا کرتا تھا۔ سات ٹن وزنی یہ گلوب، نیشنل اسٹیڈیم کے قریب منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اسٹیڈیم کے پاس منتقل کرنے کے بجائے اس گلوب کو کراچی یونیورسٹی یا این ای ڈی یونیورسٹی میں نصب کر دیا جائے۔ اس گلوب کی اصل حق دار جامعہ کراچی ہی ہے۔ اس طرح یہ تاریخی ورثہ طویل عرصے تک محفوظ ہو جائے گا۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ ریڈ لائن بس اور ٹرانسپورٹ کی جدید سہولت کے لیے ایسی قربانیاں شہروں کو دینی ہی پڑتی ہیں۔
جدید ممالک میں تاریخی ورثے کے لیے پہلے ہی غور و خوض کر لیا جاتا ہے۔ جب کہ پاکستان میں اس تاریخی ورثے کو محفوظ رکھنے کے لیے کوئی تیار نہیں۔ نیو ایم اے جناح روڈ پہ یہ گلوب نصف صدی سے نصب ہے۔ یہ گلوب اس علاقے کی شناخت ہے یہ تعلیم اور علم کا ایک علامتی نشان بھی ہے۔ یہ گلوب کئی دہائیوں سے یہاں موجود ہے اور مقامی افراد کے لیے ایک یادگار کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس گلوب کا وزن سات ٹن ہے۔ اس گلوب کی تاریخی حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ اسے جامعہ کراچی میں نصب کیا جائے۔
اس کے لیے سب سے مناسب جگہ شعبہ آئی آر کے قریب چورنگی ہے۔ اس طرح سے یہ تاریخی ورثہ طویل عرصے تک محفوظ ہو جائے گا آئندہ سالوں میں شہر میں ہونے والی تبدیلیوں کے تحت اس کی دوبارہ منتقلی کی نوبت نہیں آئے گی۔ کراچی کے ثقافتی اور تاریخی ورثے کو محفوظ رکھنا بہت ضروری ہے۔ ( کل کسی اور منصوبے کے تحت مزارِ قائد کی کہیں اور منتقلی، یا باغِ جناح کے احاطے کو کم کرنے کا شوشہ بھی چھوڑا جا سکتا ہے۔ اس لیے ہمیں قبل از وقت ہی ان باریکیوں پر غور کر لینا چاہیے ) ۔



