پروفیسر لوگ کا گھر


خواجہ صاحب پروفیسر لوگ ہیں۔ اُوپر تلے دونوں اڑوت، بے کیف اور دانشور۔ چھوٹے خواجہ کیمسٹری پڑھے ہیں لیکن زندگی کی کیمیا میں ان کا ری ایکشن نہیں چلا۔ مزدور صفت، سنجیدہ مزاج جتنے یہ خود ہیں اتنا ہی آنگن ان کا سونا ہے۔ کرسیاں، پیڑ، اور چارپائی سب اپنی جگہ پر رکھے رہتے ہیں۔ اور ہوا پتے بکھیرتی رہتی ہے۔ صاحب اپنے سارے کام خود کرنے کے قائل ہیں۔ اس لیے کسی سے مشورہ مانگنا کسر شان سمجھتے ہیں۔ مکان کا نقشہ بنانا ہو یا چھت کی لپائی ہمیشہ والنٹیئر کرتے ہیں۔ جوانی میں پینٹنگ بھی کرتے تھے اور بندوق چلانا بھی سیکھے تھے۔ لیکن ایک چیز جو اُن میں درجہ اتم موجود تھی وہ ہے مغل خون اور اس میں رچی بسی عاشق مزاجی۔ خواجہ صاحب کی اتنی سہیلیاں ہیں جتنا بولیں جھوٹ۔ جن کی دامے درمے دل جوئی کے لیے ہمیشہ جیب اور جذبات گرم رکھتے ہیں۔ ماتا بتاتی ہیں اُنہیں دوسری شادی کا جتنا شوق تھا وٹے سٹے کی ٹسل میں قربان ہو گیا۔ خواجگان کیونکہ پیری میں لنگوٹ تک اتر آئے ہیں اس لیے اب محض وعظ و نصیحت سے اپنے نفس امارہ کی تسکین کرتے ہیں۔ نہ ہوئے فرائیڈ بھائی زندہ کہ ہم اُن سے خُفیہ امراض کی چٹ پٹی بحث کریں۔ جتنے چھوٹے خواجہ گرم تھے اتنے ان کے لونڈے ٹھنڈے نکلے۔ اُوپر تلے چاروں بھائی پھڈی جوتیاں اُونچے پاجامے، جُھکی نظر قطار میں جا رہے ہیں۔ نہیں خبر کہ کوئی کان کاٹ کر ہی لے گیا ہو۔ قدرت نے جہاں بوریت ان کے صحن میں اُتاری، مساوی مقدار میں لچے شوق بھی عطا کیے۔ بڑے والا مصور، مجسمہ ساز، چھپ چھپ کر عشقیہ ناول پڑھنے والا، دوسرا آتش باز اور رائیڈر، بندوق کا شوقین، منجھلا پروگرامر، انجینئر اور باڈی بلڈر اور سب سے چھوٹا ڈاکٹر، شدھ کنجوس اور ڈرپوک۔ جب خواجہ صاحب نے بچوں کے بیاہ کیے تو گاؤدی اولاد کے لچھن دیکھ کر خوب نراشا ہوئے۔ اتنے حسن پرست اور ٹھرکی تو وہ خود بھی نہیں تھے۔ مغل بچوں کو عورتوں کی صحبت اور اثر سے باز رکھنا کتنا کٹھن ہوتا ہے وہ مایوس ہو گئے۔ اب کی بار وہ اپنی دوسری شادی کے لیے تیار تھے لیکن بڑے خواجہ نے اُن کی دال نہیں گلنے دی۔

بڑے خواجہ کھجوری پچاسی کے ہو کر پوتوں کو خوب نصیحت کرتے ہیں۔ لیکن خود ساری رت ڈسکو گانے سنتے ہیں۔ بیگم کے جانے کے بعد ان کے ایسے بھاگ کھلے کہ سمارٹ فون بھی لے لیا اور دودھ کی مقدار بھی ڈبل کردی۔ شاگرد خود میموری کارڈ بھر کر گھر پیش کرتے اور گرو جی کا پرنام کرتے۔ ایک وقت تھا اُن کا آنگن بھی ہرا بھرا تھا۔ جب بھی چھوٹے لونڈے کا خط آتا اندر لپٹے خُفیہ پیپر کو چُپ چاپ بہو کے ہاتھ میں تھما دیتے۔ اتنی ملنسار اور پر خلوص گھروں میں جب زبان کے نشتر چلے وہ جان ہی نہ سکے کہ دوہرے چوہرے رشتے بھی وقت کی بے رحم قینچی کی کاٹ نہیں جھیلتے اور محض چونے کرانے سے اب وہ پہلے والی عیدیں واپس نہیں آ سکتی۔ بڑے میاں نے بھی کبھی ایسا ہی کیا تھا۔ جب ایک مہین سی آواز دروازے کی اوٹ سے آئی جانے بیگم نے کیا کہا میاں اسے لپکنے کو دوڑا اور دوران ساری کائنات مسکرا دی۔ اُن کی شادی کو دو مہینے ہی ہوئے تھے۔ ماں نے اپنے چھوٹے لاڈلے کا رشتہ بڑے ارمانوں سے کیا تھا۔ اسے علم بھی نہیں تھا کیسے واجبی سی تعلیم اور عقل رکھنے والا اُس کا مصور گڈا زندگی کے کینوس پر کیا ہی نقش چھوڑے گا۔ لڑکے کی تو جیسے لاٹری نکل آئی تھی۔ گھر کے آنگن میں لگا ریڈیو سارا دن غزلیں بجاتا رہتا۔ ”رات پھیلی ہے تیرے سرمئی آنچل کی طرح“ وہ مدھم سے آواز میں گنگنا رہی تھی۔ اور مصور لکڑی پر اُس کا نام کرید رہا تھا۔ جس کے بعد وہ کینوس پر اپنی محبوبہ کی تصویر پینٹ کرے گا۔ ماں دیکھتی ہے لڑکا دلہن کے پیروں پہ نیل پولش لگا رہا ہے اور پیار سے سہلا رہا ہے۔ یہ بات بڑے خواجہ کے علم میں آئی۔ نو بیاہتا جوڑا خوش تھا تو انہیں بھی اتنی پرابلم نہیں تھی۔ وہ اچھے سے جانتے تھے، لڑکی کے والدین حیات نہیں ہیں۔ وہ اپنی ایک معذور بہن کی دیکھ بھال کرنا چاہتی تھی۔ جس وجہ سے اسے چند میل دور اپنے گاؤں جانا ہوتا تھا۔ اور پھر اس کا میاں بھی تو روز بیس کلومیٹر دور اُسی گاؤں ڈرائنگ پڑھانے جاتا تھا۔ دونوں نے صلاح کی مصور کے بازو جکڑ کر ایسی لاٹھیاں برسائی کہ گیلے گالوں کے ساتھ ہی طلاق نامے پر دستخط لے لیے۔ اُنہیں بیٹے کے کھو جانے کا ڈر تھا۔ مصور کی باہوں سے دلہن چھین کر دونوں کو الگ کر دیا۔ وہ دن اور آج کا دن اس گھر میں کبھی قسمت کی جھانجر نہیں گونجی، اب دروازے کی اوٹ سے خوشیاں اپنے ناز و ادا بھی نہیں دکھاتی۔ اب یہاں صرف نشہ دوائیاں آتی ہیں اور چاندی راتوں میں کوئی بھٹکتی روح گلابی چنی اوڑھے چھت پر پھرتی رہتی ہے۔ اب بڑے خواجہ کی کوئی یاد باقی نہیں، پر اُنکے ظلم کا فیضان زندہ ہے۔

Facebook Comments HS