وقت آ گیا ہے کہ رشتہ کرنے سے پہلے۔


وطن عزیز میں جب بھی کوئی عورت ماری جاتی ہے، خوب واویلا ہوتا ہے۔ آہ و بکا، غصہ، غم، سوال، انصاف کا تقاضا۔ دن گزرتے ہیں اور دھول بیٹھ جاتی ہے۔ سب کچھ بھلا دیا جاتا ہے، زندگی کپڑے جھاڑ اُٹھ کھڑی ہوتی ہے اور وہی بے ڈھنگی چال چلنا شروع کر دیتی ہے تاوقتیکہ ایک اور مقتولہ کی تصویر سامنے آ جائے۔

سارہ انعام، نور مقدم، زہرہ، زارا، صدف۔ اب تو لگتا ہے کہ وہ دن دن نہیں ہو گا جس روز کسی عورت کا خون نہ بہایا جائے۔

روز و شب کے اس چکر میں کچھ نہیں بدلتا۔ کیوں؟

اس لیے کہ تبدیلی کے لیے جو عزم درکار ہے وہ ناپید ہے۔ لڑکیاں قتل ہو رہی ہیں، سسک سسک کر جی رہی ہیں۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ یہ مقدر کا کھیل ہے اور مقدر انسان نہیں لکھتا۔

ہم نہیں مانتے۔ مان ہی نہیں سکتے کہ لکھنے والے نے اپنی مخلوق کا یہ انجام لکھا ہو۔ کیوں نہیں مان لیتے کہ یہ سب پدرسری معاشرے کی دین ہے جو عورت کو ایک دائرے سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دیتا۔

ہم اس دائرے کو توڑنا چاہتے ہیں، عورت کو اپنی مرضی سے زندگی جینے کا حق دلوانا چاہتے ہیں، اس سلسلے میں ہم نے کچھ روز پہلے چند تجاویز لکھیں جو لڑکی لڑکے کو ایک بندھن میں باندھنے سے پہلے طے کی جائیں۔

حسب معمول لوگ باگ پتھر لے کر ہم پہ چڑھ دوڑے اور وہی الزام کہ کیا ہم نے ایسا کیا اپنی شادی کے موقعے پر اور کیا ایسا کریں گے بچوں کی شادی کرنے سے پہلے۔

سوچا آپ کو ایک آدھ قصہ سنا دیا جائے آج سے تین چار دہائیاں قبل کے زمانے سے۔ اگر آج ہم آپ کو باغی نظر آتے ہیں تو ایک آدھ دن میں ایسے نہیں بنے۔ اس کے بیج تب بھی موجود تھے جب ہم اتنی گہرائی میں باتوں کو نہیں سمجھتے تھے مگر یہ خیال ضرور تھا کہ دیانت اور صاف گوئی کسی بھی رشتے کو طے کرنے سے پہلے انتہائی ضروری ہے۔ جو عمارت کھوکھلی بنیاد پہ بنے گی وہ ہرگز پائیدار نہیں ہو گی۔

اسی کی دہائی میں ہم میڈیکل کالج میں تھے اور آپا اسلام آباد ماڈل کالج میں پڑھا رہی تھیں۔ بڑے بھائی کی شادی کا موقع آیا تو انہوں نے صاف صاف کہہ دیا کہ انہیں پروفیشنل اور ماڈرن لڑکی نہیں چاہیے۔ ہمارے ابا ان سے متفق نہیں تھے کہ لڑکیاں انہیں ایسی ہی اچھی لگتی تھیں جیسی ان کی بیٹیاں مگر انہوں نے بھائی کی خواہش کا احترام کیا اور ایسی ہی بہو ڈھونڈنے کی کوشش کی۔

ہم لاہور سے کسی ویک اینڈ پر واپس آئے تو ہمیں بھی ہونے والی بھابھی کے گھر لے جایا گیا۔ ہمارا حلیہ تب بھی ایسا ہی تھا کہ تراشیدہ بالوں کے ساتھ جدید لباس۔ ساتھ میں بے تکلف باتیں اور قہقہے۔ باتوں باتوں میں ہمیں محسوس ہوا کہ ہمیں دیکھ کر وہ ہمارے بھائی کے متعلق اندازہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ بھائی بھی ایسا ہی ہو گا۔ تب ہم نے اپنے مخصوص سٹائل میں ہنستے ہوئے کہا۔ ساڈھے تے نہ رہیو۔ ہمارے بھائی کو پروفیشنل اور ماڈرن لڑکی پسند نہیں۔ ان میں اور ہم میں بہت فرق ہے سو یہ مت سوچیے کہ جس لڑکے کی بہنیں پروفیشنل ہیں، وہاں بیوی بھی ایسی ہی ہو گی۔ سوچئیے ہماری طرف سے اس صاف گوئی کا مظاہرہ محض اکیس بائیس برس کی عمر میں ہوا۔

شادی ہو گئی اور شادی کے دس دن بعد جب بھائی صاحب اپنی نوکری پہ واپس جانے لگے تو امی ابا نے یہ کہتے ہوئے بہو کو بھائی کے ساتھ روانہ کیا۔ میاں، اپنی بیوی کو ساتھ لے کر جاؤ۔ امی ابا نے ہر گز یہ چونچلے کرنے کی کوشش نہیں کی کہ بہو ابھی گھر آئی ہے، ابھی رہنے دو ہمارے پاس۔ گھر میں رونق وغیرہ۔ ابا سمجھتے تھے کہ یہ دلہا دلہن کے ساتھ رہنے کے دن ہیں۔

بھابھی حاملہ ہوئیں اور بھائی کے ساتھ اپنے گھر پہ رہیں۔ ڈلیوری کا وقت آیا تو زچہ و بچہ کی سپورٹ کے لیے بھابھی کی والدہ نے اپنی جاب کی وجہ سے معذرت کی سو ہماری امی بھائی کے گھر گئیں اور بہو بچے کو سنبھالا۔

ہماری شادی کا وقت آیا تو ہم نے گھر والوں سے دو باتیں کہیں کہ یہ ہونے والے سسرال کو پہلے سے بتا دی جائیں۔ اول ہم اپنے کیرئیر پہ کبھی بھی کوئی کمپرومائز نہیں کریں گے۔ دوئم ہم جیسے ہیں، ویسے ہی شادی کے بعد رہیں گے۔ ہماری مرضی، ہمارا حلیہ۔ جس کسی کو یہ منظور ہو، ٹھیک ورنہ خدا حافظ۔

تبدیلی کے لیے نڈر ہو کر اپنی سوچ کو اہم جانا جائے تب ہی یہ سفر شروع ہوتا ہے۔ لیکن اگر آپ کے نزدیک جھوٹ لالچ اور بے ایمانی کے لبادے میں چھپا رشتہ ہی زندگی کا اول و آخر مقصد ہے تو پھر لڑکیوں کے ساتھ یہی کچھ ہو گا جو ہو رہا ہے۔

چلیے آخر میں وہ سب بھی پڑھ لیجیے جس کا آغاز میں ہم نے ذکر کیا۔
رشتہ کرنے سے پہلے ان نکات پہ بات کی جائے۔
بیٹے یا بیٹی کی تعلیم کتنی ہے اور اس کے کیا عزائم ہیں؟
اگر بیٹا/ بیٹی نوکری کرتے ہیں تو کون سی ؟ کہاں؟
موڈ کے معاملات کیا ہیں؟ پرجوش؟ شوخ گفتار؟ کم گو؟
طبیعت؛
حساس؟ ریزروڈ؟ شکی؟
فطرت؛ ملنسار؟ ہنس مکھ؟ سڑیل؟ مغرور؟ با اعتماد؟ احساس کمتری؟ متجسس؟
شوق؟ کتابیں؟ فلمیں؟ دوست
دونوں کہاں رہیں گے؟ علیحدہ؟ کمبائنڈ فیملی سسٹم؟
اگر کوئی ایک غیر ملک میں رہتا ہے تو کیا دوسرا اس کے ساتھ جائے گا؟
شادی کے بعد کیریر اور مزید تعلیم حاصل کرنے کے مسائل کیسے حل کیے جائیں گے؟
اگر دونوں کماؤ ہیں تو کون سی ذمہ داری کس کی ہو گی؟

بچہ کب پیدا کرنا چاہیں گے؟ ( ہم کچھ لوگوں کو جانتے ہیں جن کے درمیان علیحدگی اس بات پہ ہوئی کہ ایک فریق بچہ پیدا نہیں کرنا چاہتا تھا )

اگر بانجھ پن کے مسائل ہوئے تو ان سے کیسے نمٹا جائے گا؟

اگر کسی ایک نے دوسرے کو دھوکا دیا تب کیا حل نکالا جائے گا؟ ( غیر ازدواجی تعلقات، بنا بتائے دوسری شادی، رقم کا استعمال )

اگر گھر میں لڑائی جھگڑے کے مسائل ہیں تو ان پہ فریقین کیسے بات کریں گے؟
کیا بیوی کو ہر بات میں شوہر کی اجازت درکار ہو گی؟
فریقین کا اپنے اپنے خاندان کے ساتھ کس حد تک ربط ضبط ہو گا؟

اگر کسی ایک کو کوئی بیماری ہے تو کیا دوسرے فریق کو اس کے بارے میں علم ہے؟ ( کچھ واقعات میں بیماری دوسرے فریق سے پوشیدہ رکھی جاتی ہے )

والدین اور بہن بھائیوں کے مالی مسائل کی صورت میں شوہر کس حد تک ان کی مدد کرے گا؟ سسرال کی توقعات کیا ہیں؟

کیا فریقین جوائنٹ اکاؤنٹ کھولیں گے اور اس کو استعمال کرنے کا حق دونوں کا ہو گا؟
طلاق اور خلع کے معاملات کیسے حل کیے جائیں گے؟
اگر دونوں ورکنگ ہیں تو گھر کے کام کاج کا ذمہ دار کون ہو گا؟
ان تجاویز میں کچھ بھی ناممکن نہیں ہے اگر آپ سوچنا چاہیں تو!

Facebook Comments HS