علما سیکولر ازم کی حفاظت کے لئے جان لڑا دیں گے


جی ہاں! آپ نے درست پڑھا ہے۔ یہ نہ سمجھیں کہ آپ خواب دیکھ رہے ہیں۔ آج کل نہ صرف علماء سیکولر ازم کی حفاظت کے لئے کوشاں ہیں بلکہ یہ اعلانات بھی کر رہے ہیں کہ ہم سیکولر ازم کی حفاظت کے لئے جنگ شروع کریں گے اور اس راستے میں خون کا آخری قطرہ تک بہانے سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔ اور جمعیت العلماء کے صدر اب جلسوں میں یہ اعلان کر رہے ہیں کہ میری سنو جو گوش بر نصیحت نیوش ہو کہ ملک کا بھلا اسی میں ہے کہ ملک میں سیکولر ازم کا بول بالا ہو۔ اگر سیکولر ازم پر کوئی آنچ آئی تو ہم اس کی حفاظت کے لئے میدان میں اتر آئیں گے۔

آپ کی حیرانی دور کرنے کے لئے یہ بتا دوں کہ یہ اعلانات ہندوستان کے علماء کر رہے ہیں اور جمعیت العلمائے ہند کے صدر ارشد مدنی صاحب جلسوں میں یہ پرجوش بیانات دے رہے ہیں۔ اور یہ سلسلہ کچھ سالوں سے شدید تر ہو گیا ہے ویسے تو 2018 میں بھی ارشد مدنی صاحب صدر جمعیت العلماء ہند نے یہ بیان دیا تھا کہ ہم سیکولر ازم کے تحفظ کے لئے آخری دم تک جد و جہد کریں گے۔ گزشتہ سال فروری میں ارشد مدنی صاحب صدر جمعت العلمائے ہند نے پٹنہ میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا :

” موجودہ حکومت کو (یعنی بھارت میں بی جے پی کی حکومت کو ) نہ جمعیت کے بارے میں پتہ ہے اور نہ ہی ملک کے لئے جو جمعیت کی قربانیاں ہیں اس بارے میں علم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری جمعیت سیاسی جمعیت نہیں ہے بلکہ ہماری جمعیت مذہبی جمعیت ہے۔ ہم نہ کسی کو الیکشن لڑاتے ہیں اور نہ ہی کسی کی سپورٹ کرتے ہیں۔ ہاں لیکن جب بھی ملک کے دستور اور اس کے آئین کے خلاف کام ہو گا ہم نے پہلے بھی قائدانہ کردار ادا کیا ہے اور آئندہ بھی اداکرتے رہیں گے۔ کیونکہ اگر ملک جمہوری اور سیکولر ہے تو یہ سبھی کے مفاد میں ہے۔ یہ صرف مسلمانوں کے مفاد میں نہیں ہے۔ آج اگر ملک کا آئین سیکولر ہے تو وہ بھی جمعیت علمائے ہند کی ہی دین ہے۔ کیونکہ ہمارے اکابرین نے جنگ آزادی سے قبل کانگریس اور گاندھی و نہرو سے کہا تھا کہ جب یہ ملک آزاد ہو گا تو یہ ایک جمہوری اور سیکولر ملک ہو گا اگر آپ اس کی گارنٹی دیں گے تو ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ ہم نہ کبھی ملک کی تقسیم کے حامی رہے ہیں اور نہ ہیں۔ اسی لئے ہمارے اکابرین پر جوتے پڑے، گالیاں کھائیں۔ پگڑیاں اچھالی گئیں لیکن پائے استقامت میں کوئی لرزش نہیں آئی اور ملک کی تقسیم کے ہم مخالف تھے اور ہیں۔ لیکن مشیت ایزدی تھی ملک تقسیم ہو گیا۔“

” جب ملک تقسیم ہو گیا تو ایک معمولی گروہ اس بات پر بضد تھا کہ ملک کا دستور مذہبی ہو گا۔ لیکن جمعیت نے گاندھی نہرو سے کہا کہ آپ نے وعدہ کیا تھا کہ ملک کا دستور سیکولر ہو گا آپ کے وعدے کی تمام دستاویزات ہمارے پاس محفوظ ہیں لہذا آپ اپنا وعدہ پورا کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جمعیت کی کوششوں سے ملک کا دستور جمہوری ہوا اور آج ہم اس جمہوری سیکولر ملک میں امن وامان کے ساتھ رہ رہے ہیں لیکن کچھ سالوں سے اس سیکولر ملک کی جمہوریت پر خطرات کے بادل منڈلا رہے ہیں اور آئین کو بدلنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ تب جمعیت اپنا فرض سمجھتے ہوئے اس بات کی کوششوں میں مصروف ہے کہ ملک کے اندر امن وامان کی صورتحال برقرار رہے۔ اسی لئے تحفظ جمہوریت پر کانفرنسیں منعقد ہو رہی ہیں۔ انہوں نے حاضرین کو مخاطب کرتے کہا کہ آپ برادران وطن کے خوشی و غم میں شریک ہوں۔ جو امن پسند شہری ہیں، طاقتیں ہیں ان کے ساتھ بات کی جائے اور ملک و جمہوریت اور سیکولرازم پر جو خطرات کے بادل منڈلا رہے ہیں اسے ختم کیا جائے۔ ملک کے آئین کی حفاظت سبھی کی ذمہ داری ہے یہ صرف مسلمانوں کی ذمہ داری نہیں ہے۔“ (روزنامہ قومی منزل 23 فروری 2024 )

یہ بیان پڑھ کر کم از کم اس عاجز کے علم میں بہت اضافہ ہوا۔ مثال کے طور پر یہ کہ اصل میں سیکولر آئین کے حامی تو علماء ہیں اور پاکستان میں نہ سہی لیکن ہندوستان میں جو سیکولر آئین کا نفاذ ہوا تھا وہ علماء کی کوششوں کی وجہ سے ہی ہوا تھا۔ علماء نے تو سیکولر ازم کی حفاظت میں اپنا فرض ادا کر دیا تھا لیکن بی جے پی کے ضدی سیاستدان اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہے۔ اور انہوں نے وقف جائیدادوں پر بھی ہاتھ صاف کرنے کا منصوبہ بنایا۔ تب صدر جمعیت العلمائے ہند کے صدر ارشد مدنی صاحب نے یہ بیان دیا کہ ہم سیکولر ازم کی حفاظت کے لئے خون کا آخری قطرہ بہانے کے لئے تیار ہیں۔ اور جماعت اسلامی ہندوستان کے ایک سابق امیر سید جلال الدین عمری مرحوم نے بھی پہلے بیان دیا تھا کہ ہم سیکولر ازم کے مخالفین کا مقابلہ کریں گے۔

جب ان بیانات کی شہرت ہوئی تو پاکستان میں ایک طبقے کو ان کی وضاحت کے لئے میدان میں اترنا پڑا اور یہ عذر پیش کیا گیا کہ بھارت میں ایک سیکولر آئین نافذ کرنا ضروری تھا ورنہ وہاں پر موجود مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں کو ہندو مذہبی انتہا پسندوں کے مظالم کا سامنا کرنا پڑتا۔ لیکن پاکستان کا آئین تو ایک اسلامی آئین ہے، اس لئے یہاں پر سیکولر ازم کی اجازت ہرگز نہیں دی جا سکتی۔

اس بارے میں گزارش ہے کہ پہلے ایک قوم کچھ بنیادی اقدار اور نظریات کو قبول کرتی ہے اور پھر ان بنیادوں پر آئین تشکیل دیا جاتا ہے۔ مختلف ممالک کے آئین آسمان سے نازل نہیں ہوئے انہیں کچھ نظریات کی بنیاد پر انسانوں نے ہی تحریر کیا ہے۔ اور جہاں تک مذہبی نظریات اور عقائد کا تعلق ہے تو ہر ملک میں نہ صرف یہ بلکہ ان کے ماخذ بھی ایک ہی ہیں۔ اگر مذہبی بنیادوں پر ہندوستان میں کوئی امر پسندیدہ ہے تو انہی بنیادوں پر پاکستان میں اسے نا جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس بات کو تو تسلیم نہیں کیا جا سکتا کہ واہگہ باڈر کے ایک طرف سیکولر ازم ناجائز ہے اور اور دوسری طرف اس کی حفاظت کے لئے جان بھی قربان کی جا سکتی ہے۔

ہندوستان میں علماء سیکولر ازم کے لئے خون کا آخری قطرہ بہانے کے لئے تیار ہیں اور پاکستان میں سیکولر ازم کے نام کو گالی بنا دیا گیا ہے۔ اور ہم کئی دہائیوں سے یہ بیانات سن رہے ہیں اور کوئی حوالہ پیش کرنے کی ضرورت تو نہیں، لیکن اتمام حجت کے لئے کچھ حوالے پیش کیے جاتے ہیں۔ 3 اپریل 2016 کے روزنامہ جنگ میں یہ خبر شائع ہوئی تھی کہ جماعت اسلامی کے مرکز میں پینتیس مذہبی جماعتوں نے متفقہ طور پر یہ اعلامیہ جاری کیا ہے کہ ہم پاکستان کو سیکولر ریاست بنانے کی سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ اور اس سال کے آغاز میں امیر جماعت اسلامی سراج الحق صاحب نے یہ بیان دیا تھا کہ جماعت اسلامی پاکستان کو ایک سیکولر ریاست نہیں بننے دے گی۔ کیا یہ تضاد نہیں کہ ہندوستان کی جماعت اسلامی سیکولر ازم کی حفاظت کے لئے لڑ رہی ہے اور پاکستان کی جماعت اسلامی سیکولر ازم کو لادینی قوتوں کی ایک سازش قرار دے رہی ہے۔ یہ تو ایک بیان تھا۔ یہ فتویٰ پاکستان سے شائع ہوا ہے اور لنک درج کر دیا گیا ہے، آپ اس پر تفصیل ملاحظہ فرما سکتے ہیں :

” جس شخص نے مذہبی آزادی کو حلال کہا بلا شبہ اس نے کفر کیا، جس نے اس کی تائید و موافقت کی اس نے بھی کفر کیا، چاہے وہ کسی اخبار کا صحافی ہو یا کسی مسجد کا مولوی، چاہے وہ سیکولر ازم وطنیت کے پردے میں ہندؤوں عیسائیوں سکھوں کو اپنا بھائی قرار دے کر ہو یا انسانیت کا منجن بیچ کر دنیا بھر کے کفار سے موالات کرنے سے ہو، سیکولر ازم، مذہبی آزادی، حریتِ ادیان اور خیار فکر اور اس جیسے تمام نعرے اور نظریات صریح کفر ہیں، ان کا پرچار کرنے والے کفار و مرتدین ہیں، اسلام میں ان کے لیے کوئی گنجائش نہیں۔“ (سیکولرازم کی اسلام میں کیا حیثیت ہے )

اس پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر سیکولر ازم کی یہی حیثیت ہے جو کہ اس فتوے میں بیان کی گئی ہے تو پھر ہندوستان میں علماء اس کی حفاظت کے لئے جان کی بازی کیوں لگا رہے ہیں؟ مجھے امید ہے کہ پاکستان کی مذہبی سیاسی جماعتیں اس اہم سوال کا جواب دے کر ممنون فرمائیں گی۔

Facebook Comments HS