گولڈ ڈگرز
بچپن میں ہم سمجھتے تھے کہ ”فنون لطیفہ“ لطیفوں والی کتاب کا ہی پورا نام ہے۔ لطیفوں کے اندر ہماری ثقافت کی جھلک ہوتی ہے۔ یہ ہر دور میں بنتے ہیں اور اس زمانے کے لوگوں کی نفسیات سمجھنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ زمانہ تیزی سے بدلا تو لطیفوں نے بھی اپنے آپ کو اپ گریڈ کیا ہے۔ اب وہ سادہ لطیفے نہیں رہے بلکہ ”میمز“ بن چکے ہیں۔
سوشل میڈیا پر ”گولڈ ڈگر“ خواتین کے حوالے سے میمز گردش کرتی رہتی ہیں جس میں سب سے مشہور ”سوک والا لڑکا“ کے تناظر میں بنائی گئیں۔ ڈراموں فلموں کے بھی ایسے کلپ کاٹ کر لگائے جاتے ہیں کہ جن میں لڑکا ترقی کرنے کے بعد سامنے آتا ہے تو جس نے ”حالت خواری“ میں اس گوہر نایاب کو مسترد کیا ہو اس کی حیرانی قابل دید ہوتی ہے۔ اسی تھیوری پر بنایا گیا ڈرامہ پری زاد بھی آج کل بے حد مقبول ہے۔ مگر یہ تصویر کا ایک رخ ہے۔ مرد بھی اس معاملے میں ید طولیٰ رکھتے ہیں۔
”گولڈ ڈگر“ کے لغوی معنی ”سونا کھودنے والے“ کے ہیں۔ اصطلاح میں ہر وہ شخص جو کسی مطلب یا غرض سے دوسروں سے تعلق بناتا ہے اس کو گولڈ ڈگر ہی کہتے ہیں۔
ہمارے ہاں آپ کسی بھی محکمے کے اندر کچھ بھی بھرتی ہو جائیں لوگ آپ سے راہ و رسم بڑھانا شروع کر دیں گے۔ ”ہو سکتا ہے کام آ جائے“ کو مرکز مان کر ہم پرکار گھماتے ہیں اور زندگی کے دائرے میں بے سروپا ”وزیٹنگ کارڈز“ جمع کرتے جاتے ہیں۔
ہمارے معاشرے کا مجموعی ماحول اس قسم کا ہے کہ بچپن سے ہم وہ بننا چاہتے ہیں جو کسی بھی طرح سے اس قانون سے بالاتر ہو جائے جس کا اطلاق عام آدمی پر ہوتا ہے۔ اپنے نام اور عہدے کی نمبر پلیٹس وغیرہ اس کی مثال ہیں۔ ”تم جانتے نہیں میں کون ہوں“ یہ جملہ کئیوں کی زبان کی خواہش ہے جس کی تکمیل میں کوئی مقابلے کا امتحان دے رہا ہے تو کسی نے پیسہ کمانے کے شارٹ کٹس پر نگاہیں مرکوز کر رکھی ہیں۔
جب کوئی آپ کو کامیابی کی مبارکباد دیتا ہے تو ان میں سے قریبی دوستوں کے علاوہ سب کا مطلب ہوتا ہے کہ ”ہن ساڈا خیال کرنا“ ۔ کرپشن کرنے اور موقع ملنے پر شارٹ کٹ مارنے کی خواہش نئے دور کے رشتوں کی بنیاد ہے، جس کے باعث معاشرے کا چہرہ دھندلا رہا ہے۔ ایک ایماندار افسر اور وزیر کو جب اس کے حلقہ احباب سے یہ جملہ پہنچتا ہے کہ ”کام نہیں ہونا تو آپ کا ہمیں کیا فائدہ ہے؟“ ۔ انہی لوگوں کو میرٹ نہ ہونے کا شکوہ بھی ہے۔
آپ سوشل میڈیا پر اپنی کوئی ایسی تصویر ڈالیں جس سے واضح ہوتا ہو کہ آپ ایک اہم شخصیت ہیں یا آپ کا تعلق کسی بھی طرح سے اقتدار کے ایوانوں تک ہے۔ ردعمل دیکھیے، اگر آپ خوش فہمی سے بچ گئے تو نروان پا لیں گے۔
بچپن سے اسلامیات کی کتاب میں ہم ایک سوال رٹتے رہے، ”عقیدہ توحید کے انسانی زندگی پر اثرات“ ۔ اس میں ایک بات یہ تھی کہ اللہ پر یقین آپ کو دنیاوی سہاروں سے بے نیاز کر دیتا ہے۔ خدا اور اس کی دی ہوئی صلاحیتوں پر یقین ہو تو سیاسی، مذہبی، کاروباری اور سرکاری عہدیداروں کا دم چھلا بننے کی نوبت ہی نہ آئے۔
”گولڈ ڈگر“ کا ردعمل ویسا ہی ہوتا ہے جیسا کہ ایک بھکاری کا۔ مقصد پورا ہو جائے تو دعائیں دے گا نا ہو تو نفرت بھری نگاہ ڈال کر آگے بڑھ جائے گا۔ زندگی میں مخلص دوستوں اور ”گولڈ ڈگرز“ کی پہچان کر پانا ہی عقل کی معراج ہے۔ سوشل میڈیا نے یہ کام بہت آسان کر دیا ہے۔
تم تکلف کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فراز
دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا


