چھبیسویں آئینی ترمیم پر ایک نظر


قانون سازی ایک قانون ساز ادارے کے ذریعہ قوانین بنانے اور نافذ کرنے کا عمل ہے۔ یہ قانون کا بنیادی ماخذ ہے اور دو الفاظ سے بنا ہے : legis جس کا مطلب ہے قانون، اور latum جس کا مطلب ہے بنانا۔

2022 کے بعد سے قوانین میں تبدیلی کی باتیں عملاً تب دکھائی دیں جب 2023 میں پریکٹس اور پروسیجر میں ترمیم کی گئی، اس ترمیم کے مطابق سب سے پہلے چیف جسٹس کے اکیلے سوموٹو اختیار کو ختم کیا گیا اور اب چیف جسٹس اور 2 سینئر ججز مطلب تین ججز صاحبان ہی سوموٹو لے سکیں گے، اس ترمیم کے منفی اور مثبت نتائج سامنے آئیں گے، اس سے یہ بات بہتر ہوگی کہ اب سوموٹو کا غلط استعمال نہیں ہو سکے گا، اور منفی اثر یہ ہو سکتا ہے کہ اگر ایک معزز جج کسی اہم کیس میں سوموٹو لینا چاہے اور دو جج صاحبان متفق نہ ہوں تو وہ سوموٹو نہیں لے سکے گا۔

لیکن اس ترمیم سے اختیارات سے تجاوز نہ کرنے کی تھیوری پر کام کیا گیا ہے جس کو قانونی یا لاطینی زبان میں Ultra vires کہا جاتا ہے، جس مین کوئی اختیارات سے متجاوز کام نہیں کرسکے گا۔ اس ترمیم میں جو اہم نقطہ ہے وہ ہے، سپریم کورٹ کا کوئی فیصلہ اور پارلیمنٹ کی نظر ثانی، اگر پارلیمان کو لگے گا کہ عدالت کا فیصلہ درست نہیں اور حقوق کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے تو اس فیصلے کو نافذ نہیں کیا جا سکے گا۔ یہ اس لیے کیا گیا کہ جب سیاسی جماعتوں کو ریزروڈ / محفوظ سیٹیں، جو کے الیکشن کے بعد اکثریت کی بنیاد پر سیاسی جماعتوں کو، قومی و صوبائی اسمبلیوں میں ملتی ہیں، پر سپریم کورٹ کا فیصلہ دیکھنے کو ملا تو ترمیم کا سوچ لیا۔

قانون میں ترمیم 2022 کی سیاست اور اس کے نتائج کی کڑی ہے، جیسے پنجاب میں پہلے حمزہ شہباز کو کچھ دن کے لیے وزیر اعلیٰ بنایا گیا پھر تحریک انصاف کی حکومت کو سپریم کورٹ نے بحال کیا تو ترمیم تسلسل ہے ان فیصلوں کی جو سپریم کورٹ نے قانون کے مطابق کیے لیکن نون لیگ اور پیپلز پارٹی کورٹس کے اختیارات پر سوالیہ نشان بنے رہے۔ سو سب سے پہلے سپریم کورٹ کے پریکٹس اور پروسیجر ایکٹ کے بعد ترمیم کی گئی اور بعد میں 26 ویں ترمیم جو کہ 21 اکتوبر کو کی گئی، اس ترمیم میں چیف جسٹس کی ملازمت کی مدت تین سال رکھی گئی ہے، اور چیف جسٹس کی تعیناتی بھی پارلیمنٹ کرے گی، وہ کمیٹی وزیر اعظم کو نام بھیجے گی اور صدر منظوری دے گا یوں نیا چیف جسٹس مقرر کیا جائے گا۔ آرٹیکل 175 کی شق 3 میں یہ کہا گیا ہے کہ 3 سینئر ججز میں سے کسی کو بھی چیف جسٹس مقرر کیا جاسکتا ہے جیسے جسٹس منصور کی جگہ جسٹس یحییٰ کو چیف جسٹس بنایا گیا، یہ سنیارٹی کے میرٹ کا ایک طرح خون ہے اور دوسری جانب ایسا ہو تو بھی بہتر کہ دوسرا موسٹ سینئر ملک اور جوڈیشری کے لیے بہتر ہو۔

184 آرٹیکل میں بھی ترمیم کی گئی ہے جو سپریم کورٹ کے اختیار سے متعلق ہے اور اس ترمیم کے ذریعے سپریم کورٹ سے از خود نوٹس کے اختیارات ختم کر دیے گئے ہیں اور کہا گیا ہے کہ جو بھی درخواست گزار، اپنی پٹیشن میں درخواست کرے گا اس سے ہٹ کر سپریم کورٹ کوئی اختیار یا حکم صادر نہیں کر سکتی، جیسا پہلے کیسز میں ہوتا رہا جیسے سپریم کورٹ نے ارشد شریف کے کیس میں سوموٹو لیا تھا۔

کیا سپریم کورٹ اب سوموٹو نوٹس نہیں لے سکتی

اس ترمیم کے بعد ، ایک سوموٹو نوٹس کے کیس کی سماعت کے دوران وکلا نے دلائل دیے کہ اب کورٹ سوموٹو نہیں لی سکتی لہذا اس کیس کو ختم کیا جائے، جس پر جسٹس محمد مظہر نے ریمارکس دیے کہ آئینی بینچ کو ابھی بھی ایسا نوٹس لینے کا اختیار ہے۔

آئینی بینچ کیا ہے

آئینی عدالتیں آئین کے محافظ کے طور پر کام کرتی ہیں اور آئینی دفعات کی تشریح اور ادارہ جاتی حدود کا تعین کرتی ہیں اور پاکستانی شہریوں کے بنیادی حقوق کی حفاظت ’بنیادی آئینی ڈھانچے کی نگرانی‘ نئے منظور شدہ قوانین کو آئینی سانچے کے مطابق ڈھالنے اور جمہوری اقدار کے تحفظ کو یقینی بنانے کے حوالے سے بھی ان کا کردار کلیدی ہوتا ہے۔ ان کا کام تشریح کرنا ہوتا ہے۔ پاکستان کی عدلیہ کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ کسی عدالت کو آئینی بینچ کا نام دیا گیا ہو۔

اس ترمیم میں سپریم کورٹ کے ججز کی تعداد 34 رکھی گئی ہے امید ہے کہ جو کیسز سپریم کورٹ میں لٹکے ہوئے ہیں ان کو نمٹایا جائے گا۔ اور آئینی کورٹس کے سربراہ اس پر کام کریں گے آئینی بینچز کے سربراہ سے امید ہے کہ وہ ماتحت عدالتوں پر بھی کڑی نظر رکھیں گے۔ کیا آئینی بینچز کے سربراہ نوٹ کریں گے کہ کس طرح 6 مہینے کے اندر نمٹایا جانے والا کیس سالہا سال چلتا ہے اور مدعی کیس کا فیصلہ جلد کروانے کے لیے پھر بالا بالا عدالت کے پاس جاتا ہے اور جس کا مطلب ایک غریب بندہ پیسہ بھی خرچ کرے اور ٹائم بھی۔ اور ٹرائل کورٹس کو اس نقطے پر لے آتی ہیں جہاں پر پہلے ہی قانون لکھا ہوتا ہے۔

اس کے علاوہ ہائی کورٹس کے اختیار کو بھی محدود کیا گیا ہے، آرٹیکل 202 اے رکھا گیا ہے، جس کے مطابق ہائی کورٹ کا سینئر جج آئینی بینچ کا سربراہ ہو گا۔ ہائی کورٹ میں بھی جو پٹیشن / کیس فائل ہو گا اس کے گراؤنڈ سے تجاوز کر کے کورٹ سوموٹو نہیں لے سکتی، جو کہ بنیادی حقوق کو سلب کر سکتے ہیں جیسے کافی کیسز میں وکلا کچھ کورٹس سے استدعا کرتے ہیں اور کورٹ جو بھی شہریوں کے حق میں بہتر سمجھتی ہے وہ آرڈر کرتی ہے۔

سپریم کورٹ میں آئینی بینچز کے سربراہ جسٹس امین الدین ہیں کچھ ماہرین کے مطابق پوری سپریم کورٹ کے ہر بینچ کو آئینی قرار دیا جائے۔ آئینی بینچز/ عدالت میں سارے صوبوں کے ججز شامل ہوں گے۔ اور اس بینچ میں جو ججز صاحبان ہوں گے اور کتنی مدت تک ہوں گے اس کا فیصلہ جوڈیشل کمیشن کرے گا۔ یہ آرٹیکل 191 اے کی شق 1 میں واضح ہے۔

سوال یہ ہے کہ جو ججز/ کورٹس آئینی بینچز کا حصہ نہیں ہوں گے ان کو کون سا نام دیا جائے گا۔

واضع رہے کہ کورٹس کے موروثی اختیارات بھی فنکشن میں ہیں جو کہ قانون کی کتابوں میں موجود ہیں، جو کہ اختیار دیتے ہیں کہ کورٹس انصاف کی فراہمی کے کیے کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں، مثلاً 151 سیکشن جو کے کوڈ آف سول پروسیجر میں لکھا ہوا ہے اگر کوئی سول کیس ہائی کورٹ میں آ جاتا ہے تو ہائی کورٹ پہلے کی طرح کسی نا انصافی کا نوٹس لی سکتی ہے۔

ترمیم تو ہو گئی لیکن سوال یہ ہے کہ عوام کے لیے کیا کیا گیا، اگر دیکھا جائے تو عوام ہی جمہوریت کے لیے ووٹ دیتے ہیں، امریکہ جیسے سپر پاور ملک میں ایک نظریہ پر کام ہوتا ہے اور وہ ہے ”چیک اور بیلنس“ مطلب سارے ادارے حد میں رہ کر کام کرتے ہیں۔

دوسرا اگر ترمیم کی جاتی ہیں تو ریفرینڈم ہونا چاہیے تاکہ عوام کی رائے بھی آ جائے اور عوام کو پتا بھی ہو کہ ان کے حقوق کس کے ہاتھ میں ہیں۔ کیونکہ عام شہری کورٹس میں جاسکتا ہے اپنے ساتھ ہونے والی نا انصافی کے مداوے لیے نا کہ پارلیمنٹ تو اگر کسی کیس میں کورٹ ہی بے اختیار ہو گی تو عوام کیسے برداشت کریں گے یہ ترامیم۔

Facebook Comments HS