مصنوعی تعریف، باطنی اختلاف اور عملی زندگی کے تضادات


sajid mehmood chohan

بچپن کی یادیں ہمیشہ زندگی کے تلخ حقائق کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔ ایک وقت تھا جب ہم شام کو بیڈمنٹن کھیلا کرتے تھے۔ ہمارے ساتھ دو بھائی بھی شریک ہوتے تھے۔ کھیل کے دوران دونوں بھائی ایک دوسرے کی تعریف اس قدر غیر ضروری اور مبالغہ آمیز انداز میں کرتے کہ دیکھنے اور سننے والے بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہتے۔ اگر ایک بھائی کھیلتا تو دوسرا کہتا، ”واہ ذیشان بھائی! کیا بات ہے۔“ اور دوسرا بھائی جواباً کہتا، ”کمال کر دیا عثمان بھائی! لاجواب ہو۔“ یہ سلسلہ چلتا رہا اور اُس وقت ہم سب اسے محض تفریح سمجھتے رہے۔

لیکن جب عملی زندگی میں قدم رکھا تو سمجھ آیا کہ یہ ”تعریفی حکمتِ عملی“ دراصل ایک موثر سماجی ہتھیار ہے۔ یہ مصنوعی تعریف اکثر غیر معیاری لوگوں اور کاموں کو معیاری دکھانے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ اس عمل کی اہمیت کا اندازہ اس وقت ہوا جب میں نے ایک ٹریننگ دی جہاں مجھے Entrepreneurship پر لیکچر دینا تھا۔

نشست میں دو اور سپیکرز بھی موجود تھے جن سے میری پہلے سے واقفیت تھی۔ دونوں اپنے اپنے شعبوں میں قابل اور تجربہ کار تھے، لیکن ان کی گفتگو نے مجھے ماضی کی یاد دلا دی۔ یہ دونوں پی ایچ ڈی پروفیسرز تھے اگرچہ یہ ایک دوسرے کو نہیں جانتے تھے جبکہ میری اِن دونوں افراد سے چند ملاقاتیں رہیں تھیں۔ اِس نشست کے دوران ایک دوسرے کی تعریفوں کے پل باندھنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ ایک نے کہا، ”ڈاکٹر صاحب، آپ کا لیکچر سن کر میرا فلسفہ ہی بدل گیا!“ دوسرے نے جواب دیا، ”ڈاکٹر صاحب آپ کی باتوں نے مجھے نئے راستے دکھائے ہیں۔“

یہ تعریفی ماحول اتنا گرم جوش تھا کہ لگتا تھا جیسے یہ دونوں ایک دوسرے کے بغیر ادھورے ہیں۔ لیکن یہ منظر صرف ظاہری تھا۔ نشست کے بعد ، جب میں نے ان دونوں سے علیحدہ علیحدہ ملاقات کی، تو حقیقت کھل کر سامنے آئی۔

پہلے پروفیسر، جنہوں نے سب سے زیادہ تعریف کی تھی، نے کہا، ”چوہان صاحب، اس دن ڈاکٹر صاحب نے اتنی بونگیاں ماری میں تو سوچ رہا تھا بہتر تھا کہ ہم کوئی سٹیج ڈرامہ دیکھ لیتے۔ وقت بالکل ضائع ہوا۔“ دوسرے پروفیسر نے بھی ملتے جلتے خیالات کا اظہار کیا، لیکن کچھ نرمی کے ساتھ۔ یہ رویہ حیران کن تھا، کیونکہ نشست کے دوران دونوں نے ایک دوسرے کی بھرپور تعریف کی تھی۔

میں کئی دن تک سوچتا رہا کہ انسان اپنے ظاہری اور باطنی خیالات میں اتنا تضاد کیوں رکھتا ہے۔ یہ کون سی مجبوری یا ضرورت ہے جو اختلافِ رائے کے بجائے جھوٹے ہم خیالی کا تاثر دیتی ہے؟

یہ رویہ دو اہم حالات میں نظر آتا ہے پہلا مالی مفادات کے تحت تعلقات اور دوسرا شعبہ جاتی مفادات۔

جہاں مالی فائدہ موجود ہو، وہاں تعریف اور خوش اخلاقی کا سلسلہ بہت گرم رہتا ہے۔ اس قسم کے تعلقات میں اکثر بظاہر بہت عزت دی جاتی ہے، لیکن جونہی مفادات ختم ہوتے ہیں، الفاظ کا لہجہ بھی بدل جاتا ہے۔

جہاں مالی مفادات نہ ہوں لیکن شعبہ جاتی مفادات موجود ہوں، وہاں بھی ظاہری تعریف اور اندرونی اختلاف کا یہی رویہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ مثال کے طور پر، دو پروفیسروں کا رویہ اسی طرز کا تھا۔ شعبہ جاتی مفادات کے تحت ایک دوسرے کی تعریف کرنا عام بات ہے، لیکن جب وہ مفادات ختم ہو جاتے ہیں، تو باطنی خیالات کا اظہار کھل کر ہوتا ہے۔

اس رویے کو انگریزی میں Passive۔ Aggressive Behavior یا Two۔ Faced Behavior کہا جا سکتا ہے، کیونکہ ایسے افراد بظاہر دوستانہ اور تعریف کرنے والے ہوتے ہیں لیکن اندرونی طور پر ان کے خیالات مختلف یا منفی ہوتے ہیں۔ وہ براہِ راست اختلاف یا اپنے جذبات کا اظہار نہیں کرتے، بلکہ غیر محسوس انداز میں اپنی مخالفت یا ناپسندیدگی ظاہر کرتے ہیں۔

ماہرین نفسیات کے مطابق، اس رویے کو Cognitive Dissonance کی ایک مثال سمجھا جا سکتا ہے، جہاں فرد کے خیالات اور رویے میں تضاد پایا جاتا ہے۔ اس تضاد کی بنیادی وجہ اکثر سماجی دباؤ یا ذاتی مفادات ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں فرد اپنی اصل سوچ یا جذبات کو ظاہر کرنے کے بجائے ایک مختلف رویہ اپناتا ہے۔ مثال کے طور پر کسی کی بظاہر تعریف کرنا، لیکن دل میں ناپسندیدگی رکھنا اور اسی طرح کسی کی بات سے بظاہر اتفاق کرنا، لیکن اندرونی طور پر اختلاف کا شکار ہونا۔

یہ رویہ انسانی نفسیات کا ایک پیچیدہ پہلو ہے، جو نہ صرف فرد کی اندرونی حالت کو متاثر کرتا ہے بلکہ اس کے تعلقات اور سماجی تعاملات پر بھی گہرا اثر ڈالتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ رویہ اکثر انفرادی فیصلوں اور تعلقات میں الجھن پیدا کرتا ہے اور طویل مدت میں جذباتی دباؤ کا سبب بن سکتا ہے۔

یہ کہانی نوجوان پیشہ ور افراد کے لیے ایک سبق ہے۔ جب آپ اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کرتے ہیں، تو ایسے افراد سے محتاط رہیں جو بظاہر آپ کے خیر خواہ دکھائی دیتے ہیں لیکن اندرونی طور پر آپ کی کامیابی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اپنی محنت کا ریکارڈ ہمیشہ محفوظ رکھیں تاکہ آپ کی کامیابیاں آپ کے نام پر ہوں۔

کمپنیز اور اداروں کو چاہیے کہ ایسے رویوں کی حوصلہ شکنی کریں۔ ہر پروجیکٹ اور کامیابی کا ریکارڈ شفاف رکھیں اور ٹیم ورک کو فروغ دیں تاکہ مصنوعی تعریف اور باطنی اختلافات جیسے مسائل کو ختم کیا جا سکے۔

نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی محنت اور صلاحیت کو صرف ان لوگوں پر ضائع نہ کریں جو صرف وقتی تعریف اور خوشامد کے ذریعے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اپنے ارد گرد کے لوگوں کو سمجھیں اور ان کی اصلی نیت کو پرکھیں۔ مصنوعی تعریف اور خوشامد کے اس کلچر سے بچیں اور اپنی محنت کو ان افراد کے لیے مخصوص رکھیں جو آپ کے کیریئر اور ترقی میں مخلص ہوں۔

واہ ذیشان! واہ عثمان! کی طرح کی غیر ضروری تعریفیں نہ تو آپ کو آگے بڑھا سکتی ہیں اور نہ ہی آپ کے کام کا صحیح معاوضہ دلا سکتی ہیں۔ اس لیے، محنت کریں، ایمانداری سے کام کریں اور ان افراد سے ہوشیار رہیں جو آپ کی محنت کا فائدہ اٹھانے کے لیے صرف خوشامد کا سہارا لیتے ہیں۔

Facebook Comments HS