مدارس کی تعلیم پر ایک واقف حال کا تبصرہ
ایک سو سات ملین بچے پاکستان میں روز بستہ اٹھائے، شاندار مستقبل کے سپنے آنکھوں میں سجائے، مکتب کو نکلتے ہیں، یہی وہ نسل ہے جو اپنی ریاست کا مستقبل طے کرتی ہے، اور ترقی و تنزلی کے معیار ترتیب دیتی ہے۔
ایک سے دو ملین بچے وہ ہیں، جو قرآن و حدیث کی کتابیں اٹھائے مدرسے کا رخ کرتے ہیں، یہ وہ نسل ہے، جسے رسم پیمبری نبھانے کا شوق ہے، جنہیں قوم کے قبلہ کے درستگی کا فریضہ سر انجام دینا ہے، میں انہی میں سے ایک ہوں۔
میں نے مدرسے کا انتخاب اس لیے نہیں کیا کہ دادا جان کی میراث میں آئی مسند ارشاد سنبھالنی ہے، منبر پر تشریف رکھے پیش امام کی روایت سن کر نہیں آیا کہ ان ایک سو سات ملین بچوں میں سے صرف تم ہی خدا کا انتخاب ٹھہرے ہو، بلکہ میں اس نظام کا حصہ بننے سے پہلے، نفع و نقصان کی تمام تر جمع تفریق کر کے آیا تھا، فضائل و مناقب کی روایات کے بجائے، مجھے معاشرے کے جہالت آمیز رسم و رواج نے طویل سوچ و بچار پر مجبور کیا اور پھر اس نتیجے پر پہنچا کہ بالیقین رشد و ہدایت سے پرے قوموں کی پیاس کا علاج سرزمین حجاز سے آتے آب حیات میں پوشیدہ ہے۔
مدارس کا آٹھ سالہ نصاب اٹھارہویں صدی عیسوی میں مرتب ہوا، جو تھوڑی بہت تبدیلی کے ساتھ اس جدید زمانے میں بھی من و عن بطور سانچہ، مدارس کی ڈیفالٹ سیٹنگ ہے، جس سے روز کم و بیش دو ملین طلباء گزارے جاتے ہیں، یہ ڈیڑھ صدی کا قصہ ہے، یہ عرصہ انسانی زندگی کی انقلابی سال ہیں، دنیا سست ترین ذرائع ابلاغ و مواصلات سے نکل کر، اس سنگم میں داخل ہوئی، جب انسان زمان و مکان کی قید سے فرار کے منصوبے ترتیب دے رہا ہے، اس ڈیڑھ سو سال میں دنیا میں کئی نظام وجود میں آئے، کئی نظریات کا جنم اور کئی نظریات کو شکست ہوئی، پھر ٹیکنالوجی آئی تو گویا دنیا ہی بدل گئی، تیز رفتار انٹرنیٹ کے بدولت گلوبل ولیج کے باسیوں کے رابطے میں انقلاب آیا، تقابل ادیان کے سرکل بنے، ابراہیمی مذاہب کے انضمام کی آوازیں اٹھیں، مغربیت کا طوفان اٹھا تو مذہب کی گرفت کمزور پڑی، اور لوگ عقائد کی زنجیر سے رفتہ رفتہ نکلنے لگے۔
اہل مدارس اکثر شکوہ کناں ہوتے ہیں کہ ہم سے زیادتی ہوتی ہے، سرکاری سطح پر مطلوبہ توجہ نہیں ملتی، ارباب اقتدار کی نظر کرم نہیں ہوتی۔ کسی حد تک ان کے مطالبات بہرحال برحق ہے ہیں لیکن کیا مدارس اپنا فریضہ صحیح سر انجام دے رہے ہیں؟ کیا سرکاری و نجی سطح پر مدارس پر اٹھتا ہر سوال کوئی سازش ہوتا ہے کہ جس پر بجائے غور کرنے کے، رونا شروع ہو جایا جائے!
مجھے اس بات کے کہنے میں کوئی عار نہیں کہ مدارس کے موجودہ نظام و نصاب کے سبب دو چیزیں، جو سراسر ریاست پاکستان، اور مذہب کے تشخص کو نقصان پہنچا رہی ہیں، وہ وجود پا رہی ہیں۔ ایک وہ نسل جو صرف مذہبی تعلیم سے آراستہ ہو کر بازار میں آتی ہے، جن کو قال اللہ و قال الرسول کی مقدس روایات تو رٹی ہوتی ہیں، لیکن ان میں موجود شاندار تعلیمات کو موجود معاشرے کی فلاح و بہبود کی خاطر اپنانے کے جدید طریقے کا کوئی علم نہیں ہوتا، ہدایت کی لکیروں پر، تکبیر کے ڈھول پیٹنے کے بجائے، انہیں وحدانیت و رسالت کے معطر جام پلانا نہیں آتے، نوجوانوں کے سوالات کے جواب نہیں آتے۔ ان کے سبب بس ایک مسند ارشاد وجود میں آ جاتی ہے، جہاں سے قبر و آخرت کے احوال سننے کو تو مل سکتے ہیں، البتہ اس کے حجرے کے دروازے پر ”دور جدید کے مسائل کے حل کے لیے کہیں اور رجوع کیجیے پلیززز“ کا بورڈ لگا ہوتا ہے۔
ایک اور کھیپ جو دینی مدارس سے نکل رہی ہے، وہ اول الذکر سے زیادہ خطرناک ہے، مذہب کی غلط تشریحات و تفاسیر کی حافظ یہ کھیپ، ہمیشہ فرقہ واریت، مسلکی منافرت، مذہبی تنگ نظری کے سبب، خانہ جنگی کا ایندھن تیار کر رہی ہوتی ہے، جمہوریت کا مخالف، سسٹم کا باغی یہ طبقہ، نوجوانوں میں نظام سے مایوسی کا سبب بنتا ہے، جس سے وہ شدت پسند تنظیموں اور عسکری جتھوں میں بھرتی ہو کر، اپنی افواج کے خلاف لڑتے ہیں، مظلوم عوام کا قتل عام کرتے ہیں، غلط تشریح سن کر، جنت کی بشارت پا کر، ریاست کے خلاف استعمال ہوتے ہیں۔
میں چونکہ اس نظام کا حصہ ہوں، اسی نصاب تعلیم کا شاگرد ہوں، سو میرے خیال سے، مذکورہ مسائل کا سبب یہی آؤٹ ڈیٹڈ نصاب تعلیم ہے! اسے از سرِ نو سے مرتب کرنے کی ضرورت ہے، قرآن و حدیث کی تفاسیر و تشریح، فقہ و اصول فقہ کے جدید ورژن کی ضرورت ہے، جس سے قرآن و حدیث جو رشد و ہدایت کے چشمے ہیں، ان کی غلط تشریح کے سبب گمراہی پھیلنے لگے، اللہ نہ کرے مولوی کے حجرے سے الحاد ٹپکے، ایسا نہ ہو کہ گستاخی کا فتویٰ، خود فتویٰ بیان کرتے مولوی کے اوپر آن ٹھہرے، ایسا نہ ہو کہ کل کوئی عالم فاضل کسی بڑے شیخ الحدیث کو جنت کی لالچ میں گولیاں برساتا ہوا نہ نکل جائے، خدا کرے ایسا نہ ہو، مدارس اپنے ہی ہیں، ان کی تعمیر و تخریب کی ذمہ داری بھی ہم پر ہے، ان کی دکھ سکھ کے شریک ہم لوگ ہی ہیں، ان سے سوال سازش نہیں بطور شکوہ ہوتا ہے، ان کی برائی غیبت نہیں بطور گلہ ہوتی ہے۔
بقول شاعر:
گلہ بھی تجھ سے بہت ہے مگر محبت بھی
وہ بات اپنی جگہ ہے یہ بات اپنی جگہ۔


