غزلیہ اشعار کا بیانیاتی نیراٹالوجیکل مطالعہ


ہماری اردو ادب کی دنیا میں بیانیات کی مُباحِث شعری تنقید کی طرح معروف نہیں۔ لہٰذا غزلیہ اشعار کے بیانیاتی نقطۂ نظر سے جائز لینے سے قبل یہ جاننا مناسب رہے گا کہ بیانیات کیا ہے؟ ”افسانوی ادب کی تنقید کے لیے پہلے فکشن کی تنقید کی ترکیب مستعمل تھی؛ پھر کرِکشن کی اِصطلاح وضع ہوئی جسے کرِٹیسزم اور فکشن سے بنایا گیا تھا مگر اُس کا چلن نہ ہو سکا۔ فی زمانہ ’بیانیات‘ کی اِصطِلاح رائج ہے اور اِسی کو سکہ رائج الوقت سمجھنا چاہیے۔ بیانیات بیانیے کی سائنس ہے۔ یہ بیانیے کی ساخت/ شعریات کو دریافت اور مُرَتَّب کرنے کی کوشش کرتی ہے۔“ ( 1 )

اِسی طرح پروفیسر شافع قدوائی لکھتے ہیں : ”بیانیات اصلاً نیریٹیو کے ساختیاتی مطالعہ کی اِصطلاح ہے۔ فن پارہ میں تواتر کے ساتھ رونما ہونے والے عناصر، موضوعات اور پیٹرن اور پھر اُن کے حوالے سے صورت پذیر ہونے والے آفاقی اُصولوں کو مرکز توجہ بنانا علم بیانیات کا بنیادی نقطہ ہے۔“ ( 2 )

بیانیہ کیا ہے؟ ’‘ واقعہ ’کا بیان اِصطلاحاً‘ بیانیہ ’کہلاتا ہے۔“ ( 3 )

اِسی طرح ”بیانیہ بمعنی نیریٹیو کا اِطلاق اب بالعُموم فکشن کی نثری اصناف پر ہوتا ہے لیکن بیانیہ میں شعری بیانیہ بھی شامل ہے، مَثَلاً منظوم ڈرامہ، یونانی یا مغربی ادب میں ٹریجڈی کامیڈی کی روایت یا فارسی میں مثنوی کی مُہتمم بالشّان روایت جیسے خمسۂ نظامی یا شاہنامہ فردوسی یا مثنوی معنوی رومی۔ یہ سب بیانیہ ہی ہے، مزید برآں وہ تمام سنسکرت ادب جو ’کاویہ‘ کہلاتا ہے، اصلاً بیانیہ ہے۔“ ( 4 )

یہاں غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اِس زُمرہ بندی میں غزل کے اشعار یا واحد شعر (فرد) میں موجود بیانیے (بمعنی کہانی) کا اِمکان کو زیرِ غور نہیں لایا گیا۔

اب کہانی بارے یہ جاننا ضروری ہے کہ کہانی کیسے بنتی ہے؟

کہانی کی عام تعریف یہ ہے : ”کہانی واقعات کا ایک ایسا مجموعہ ہے جس کا آغاز، وسط اور انجام ہو جب کہ بیانیہ کہانی کے واقعات کی نمائندگی سے عبارت ہے۔“ ( 5 )

مزید گہرائی میں جانا ہو تو ”واقعہ“ (ایونٹ) پہچان اور نوعیت دیکھنی ہوگی:

”بنیادی سوال یہی ہے کہ“ واقعہ ”کیا ہے؟ تو اس مشکل سوال کا آسان سا جواب یہ ہے کہ جِس عمل (حرکت) میں صورتِ حال تبدیل ہوتی ہو، اُسے ’واقعہ‘ کہتے ہیں اور صورتِ حال سے مُراد وہ زمانی تَسَلسُل ہے جس میں مظہر/ تنظیم/ اشیا ایک ہی شکل میں قائم رہتی ہیں۔ اِس تَسَلسُل یا ٹھہراؤ یا تنظیم میں کسی عمل کے سبب تبدیلی رونما ہوتی ہے تو اسے ’واقعہ‘ کہتے ہیں۔ جَیسے افسانہ نگار شب و روز کے کسی خاص حصّے کی کیفیت/ منظر بیان کرتا ہے یا کسی مکان/ کمرے / باغ کی تصویر کَشی کرتا ہے تو یہ صورتِ حال ہوگی اور جب کسی عمل کے نتیجے میں اِس صورتِ حال میں کوئی تبدیلی نمایاں ہو تو وہ ’واقعہ‘ ہو گا۔

مَثَلاً“ رات اندھیری تھی، مُوسلادھار بارش ہو رہی تھی، سڑک ویران تھی اور لوگ اپنے گھروں میں سو رہے تھے۔ ”یہ ایک صورتِ حال ہے کہ“ اچانک کہیں دور سے چیخ کے ساتھ رونے کی آواز اُبھری ”یہ واقعہ ہے۔ اِس میں صورتِ حال بیان کرنے والے لِسانی تنظیم کو وَصْف حال (ڈسکرپشن ) اور واقعہ کے بیان کو بیانیہ (نیریٹیو ) کہتے ہیں۔ یہ بالکل واضح ہے کہ صورتِ حال اِسم و صفت سے اور واقعہ فعل (ورب) سے عبارت ہے۔ یعنی تفصیل اسم و صفت کی ہوگی تو اُسے وَصْفِ حال (ڈسکرپشن ) اور جب بیان کسی فعل کا ہو گا تو اُسے واقعہ کا بیان/بیانیہ کہیں گے۔

فعل (ورب) کا بیان ہونے کے سبب واقعہ کی دوسری صفت یہ ہے کہ صورتِ حال کی تبدیلی میں ایک خَفی یا جَلی پراسیس ہو گا۔ اِس پراسیس میں عمل کا ایک مُحَرِّک اور عمل کے نتیجے میں تبدیلی کی ایک صورت ہوگی اور ان دونوں میں لازِماً سبب اور نتیجے کا تعلق ہو گا۔ یہ تعلق بیانیہ میں ظاہر بھی ہو سکتا ہے، جسے راوی بیان کرے جیسا کہ تقریباً تمام حقیقت پسند ناولوں میں ہوتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ صرف نتیجہ روشن ہو اور قاری کسی طرح کے اِستِدلال یا عقلی ڈیوائس کے ذریعے سبب کو دریافت کرے اور اگر یہ دونوں صورت نہ ہُوں اور کسی بیان میں صرف نتیجہ ظاہر ہو اور اُس کا سبب خَفی یا جَلی سِرے سے موجود ہی نہ ہو تو اِسے ’واقعہ‘ کے بجائے ’ماجرا‘ کہتے ہیں۔

واقعہ کی تیسری صفت یہ ہے کہ اس تبدیلی میں وقت یا زمانہ لازماً شامِل/ شریک (انوالو) ہوتا ہے یعنی ایک صورتِ حال جب کسی سبب دوسری صورتِ حال میں تبدیل ہوتی ہے تو یہ تبدیلی ایک زمانے (ٹائم) میں ہی۔ خواہ وہ کتنا ہی مختصر کیوں نہ ہو۔ ممکن ہے۔ واقعہ کی چوتھی صفت یہ ہے کہ واقعہ کا تَصَوُّر کردار کے بغیر قائم نہیں ہوتا، یعنی واقعہ کسی نہ کسی کو پیش آتا یا کسی پر گزرتا ہے، یہ کوئی ذی حیات ہو سکتا ہے جس میں انسان سے لے کر چَرِند، پرِند اور نباتات تک شامل ہیں یا غَیر ذی حیات ہو سکتا ہے، جس میں تمام مَظاہِرِ فطرت شامل ہیں لیکن جس پر بھی واقعہ گزرے گا وہ اِصطلاحاً کردار ہی کہلائے گا۔“ ( 6 )

اب واقعے کی نوعیت دیکھتے ہیں : ”واقعہ خارج کی مادّی دنیا میں ہو سکتا ہے اور خیال و خواب یا جذبے کی غَیر مادّی دنیا میں بھی ممکن ہے۔ اِن دونوں صورتوں میں واقعہ کی تعریف ایک ہی رہتی ہے لیکن اُس کے بیان کی صِفات و اِمتِیازات بدلتے جاتے ہیں۔ مَثَلاً واقعہ اگر خارج میں ہو، جس کی صِفَت یہ ہے کہ حواس کے ذریعے سے اُس کا اِدراک ہو، اِس لیے نتیجتاً اُس کی تصدیق ہو سکے تو اُس کا بیان خبر، تاریخ، سوانح، سفرنامہ یا روزنامچہ وغیرہ کہلائے گا۔ اور اگر واقعہ نہ تو خارج میں ہو اور نہ ہی اُس کی تصدیق ممکن ہو اور نہ تصدیق ضروری ہو تو اُس کا بیان داستان، افسانہ یا فکشن کی دوسری شکل کہلائے گا۔“ ( 7 )

بیانیات، کہانی اور واقعہ کو سمجھنے کے بعد کہانی کے کم از کم عناصر کی تلاش کریں تو جیرالڈ پرنس کے مطابق، کہانی کی سب سے بنیادی اور مختصر صورت ”مختصر ترین کہانی“ ہے۔ جس میں تین واقعات (ایونٹس) لازماً شامل ہوں گے، جو کہانی کی روایتی تعریف؛ واقعات کا سلسلہ جو آغاز، وسط اور انجام پر مشتمَل ہو، کو پورا کرتی ہے۔ اِن تینوں واقعات میں ایک منطقی اور سببی رَبْط (کیژوَل لِنک) بھی موجود ہوتا ہے جب کہ اِن تین واقعات کے باہمی تعلق میں غَیر ضروری تفصیلات یا عناصر شامل نہیں ہوتے۔ پرنس اپنی کتاب The grammar of stories میں لکھتے ہیں :

”A minimal story consists of three conjoined events. The first and third events are stative, the second is active. Furthermore, the third event is the inverse of the first. Finally, the three events are conjoined by three conjunctive features in such a way. that (a) the first event precedes the second in time and the second precedes the third, and (b) the second event causes the third.“ (8)

مختصراً جب واقعات کو زمان و مکان (سپیشیو۔ ٹیمپورل) کے حساب سے، سببی (کیژوَل) ترتیب میں رکھا جائے تو ہی وہ کہانی کی تشکیل کر سکتے ہیں۔

بیانیہ، کہانی اور بیانیات کے اِجمالی تعارف کے بعد ، یہاں اُن غزلیہ ہیئت کے اشعار اور اکیلے اشعار (افراد) کا جائزہ لینے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو کہانی پن (اسٹوری نیس) کے کم سے کم مِعیار کو پورا کر کے ”یک شعری منظوم کہانی“ کے خانے میں داخل ہوتے ہیں۔ اِس مقصد کے حُصول کے لیے ہم جیرالڈ پرنس ہی کا ماڈل استعمال کریں گے۔

سو اب اوپر کے بیانات کیروشنی میں چند اشعار کا جائزہ لینا سُودمند رہے گا:
شعر# 1
اِک سرپِھرے نے بَخْش دی بیوی کو جب طلاق
اِک بے گھرے کا جھونپڑا آباد ہو گیا (نامعلوم)
کہانی پن کا جواز:

1۔ پہلا واقعہ: ”ایک سرپِھرا آدمی غُصّے میں اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے۔“ جس سے اُس کا گھر ٹوٹ جاتا ہے۔

2۔ دوسرا واقعہ: سِرپھرے کے طلاق سے اُس کا گھر ٹوٹ جاتا ہے مگر گھر کا ٹوٹنا کسی تخریب سے کسی تعمیر کی طرف کا عُبوری دَور قرار پاتا ہے، جس دوران میں طلاق یافتہ عورت اور ایک بے گھرے کی ملاقات ہو جاتی ہے۔

3۔ تیسرا واقعہ: ”ایک بے گھرے کا جھونپڑا آباد ہو جاتا ہے۔“

یہ آخری واقعہ پہلے واقعہ کے اُلٹ کو ظاہر کرتا ہے کیوں کہ پہلے ایک انسان کا گھر ٹوٹتا ہے لیکن اس ٹوٹ کے عمل ہی کے نتیجے میں کسی دوسرے کا گھر آباد ہو جاتا ہے۔ یہاں سببی تعلق بھی واضح ہے کہ پہلے واقعے کے بغیر تیسرا واقعہ ممکن نہ ہو پاتا۔

چوں کہ ہم باآسانی دیکھ سکتے ہیں کہ اس شعر میں تین واضح اور مربوط واقعات زمانی ترتیب کے ساتھ موجود ہیں اور جِن میں سببی تعلق کے ساتھ ساتھ پہلے اور تیسرے واقعے کے درمیان تضاد بھی نُمایاں ہے۔ لہٰذا یوں یہ منظوم مَتن صِنْف کے لحاظ سے ایک ”یک شِعری کہانی“ قرار پاتی ہے۔

شعر# 2
سب ٹھیک چل رہا تھا اچانک پھر ایک دن
کِھڑکی کُھلی تو قَیدی کو دنیا دِکھائی دی
(ذکی عاطِف)
کہانی پن کا جواز:
1۔ پہلا واقعہ: سب کچھ معمول کے مطابق ”ٹھیک چل رہا تھا“ ، جو ایک مُتوازن حالت کو پیش کرتا ہے۔

2۔ دوسرا واقعہ: پھر ”اچانک کھڑکی کُھلنے“ کا واقعہ وُقوع پذیر ہو جاتا ہے۔ یہ ایک فَعّال عمل (ایکٹیو ایونٹ) ہے جو کہانی کو تبدیل کرنے کا باعث بن رہا ہے۔

3۔ تیسرا واقعہ: پھر قیدی کو ”دنیا دکھائی دی“ ۔ دنیا دکھائی دینے کا واقعہ، پہلے واقعے (معمول کی حالت) کے برعکس ہے کیوں کہ اب دنیا کا شُعور قیدی کی پرانی حالت کو یکسر تبدیل کر دیتا ہے اور اُس میں آزادی کے لیے اِضطراب یا تَحَرُّک پیدا کر رہا ہے۔

شعر# 3
شیر آ کے چِیر پھاڑ گیا مجھ کو خواب میں
دَم بھر کو میری آنکھ لگی تھی مَچان پر
(ظفر اقبال)
کہانی پن کا جواز:
1۔ پہلا واقعہ: شعر میں ”دَم بھر کو آنکھ لگنا“ سُکون یا جُمود کی حالت کو پیش کرتا ہے۔

2۔ دوسرا واقعہ: بعدہٗ ”شیر آ کے چِیر پھاڑ گیا“ ۔ یہ فَعّال واقعہ (ایکٹیو ایونٹ) حالتِ سُکون میں خلل ڈالنے کا باعث بن رہا ہے۔

3۔ تیسرا واقعہ: اِس کے بعد ”خواب میں شیر کا حملہ کرنا“ افراتفری کا ماحول پیدا کر کے پہلے والی حالتِ سُکون کا اُلٹ بن جاتا ہے۔

شعر # 4
دروازے کَھٹکھٹا کے ستارے چلے گئے
خوابوں کی شال اوڑھ کے مَیں اونگھتا رہے
(عادِل منصوری)
کہانی پن کا جواز:
1۔ پہلا واقعہ: ”خوابوں کی شال اوڑھ کے اونگھنا“ ایک پُرسُکون یا اِنجمادی حالت کی نمائندگی کرتا ہے۔

2۔ دوسرا واقعہ: ”ستاروں کا دروازہ کَھٹکھٹانا“ ایک تَحَرُّک خیز عمل ہے جو پہلے واقعے کے پیدا کردہ جُمود کو توڑتا ہے۔

3۔ تیسرا واقعہ: آخِر میں ”ستاروں کے واپس چلے جانا“ کا واقعہ پہلے واقعے (اونگھنے ) کا اُلٹ ہے، کیوں کہ اب مرکزی جگہ ”سُکون کی غَیرموجودگی“ یا مواقع کے ضِیاع کے احساس سے پیدا شدہ اِضطِراب لے لیتا ہے۔

شعر# 5 :
اُس نے ہمارے ساتھ مُرَوَّت سے بات کی
اور دل میں خوش گمانی کے شَہتوت پک گئے
(ضیاء اَفروز)
کہانی پن کا جواز:

1۔ پہلا واقعہ: ”خوش گمانی کے شَہتوت پکنے سے پہلے کی اَفسُردگی یا اُداسی یا مایوسی“ ایک جامِد حالت کی عکّاسی کرتی ہے۔

2۔ دوسرا واقعہ: ”اُس کا مُرَوَّت سے بات کرنا“ ایک فَعّال عمل ہے جو مایوسی یا اُداسی کو ختم کرنے کی قَوی صلاحیت رکھتا ہے۔

3۔ تیسرا واقعہ: مایوسی یا اُداسی کی جگہ ”خوش گمانی کے پَکتے شَہتوتوں نے لے لی“ ۔ اور یہ حالت پہلی حالت کے الٹ کو ظاہر کرتا ہے۔ یعنی اب مایوسی یا اُداسی کی جگہ اُمّید یا خوش گمانی لے رہی ہے۔

شعر# 6
ہم پرندے تھے اور عُجلَت میں
اپنے پر آسماں میں بُھول گئے
(سارہ تعبیر)
کہانی پن کا جواز:

1۔ پہلا واقعہ: ”ہم پرندے تھے“ ۔ یہ ایک استحکامی حالت ہے جو پرواز کے امکانات و کھوج کی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے۔

2۔ دوسرا واقعہ: ”عُجلَت میں“ یہ ایک فَعّال عمل کو ظاہر کرتا ہے جو کہانی میں تبدیلی کا سبب بن رہا ہے۔ یہ وُجود کے جبر پر طنز بھی ہے۔

3۔ تیسرا واقعہ: ”اپنے پر آسماں میں بُھول گئے“ یہ پہلی حالت کے الٹ کو ظاہر کرتا ہے، کیوں کہ پرواز کی صلاحیت کے لیے درکار لازمے : پَروں کو عُجلَت کے نتیجے میں بُھلا کر کہانی میں اچانک موڑ، حیرت اور افراتفری کا ماحول پیدا کیا گیا ہے۔

شعر# 7
وہ اپنے قبیلے میں سب سے نِڈَر تھا
جسے خواب میں بھیڑیا لے گیا
(عمّار اقبال)
کہانی پن کا جواز:
1۔ پہلا واقعہ: ”اپنے قبیلے میں سب سے نڈر“ ہونے کی کیفیت ایک اِستِحکامی حالت ہے۔
2۔ دوسرا واقعہ: ”خواب میں بھیڑیا لے گیا“ ۔ یہ ایک فَعّال اور ڈرامائی عمل ہے۔

3۔ تیسرا واقعہ: ”نِڈَر ہونے کی کیفیت خوف اور بے بسی“ میں بدل گئی۔ یہ پہلے واقعہ کے الٹ کو ظاہر کرتا ہے۔

شعر# 8
اُس کا دستک کے لیے ہاتھ اُٹھا
دل دَھڑکنے لگا دروازے کا
(اشرف یُوسُفی)
کہانی پن کا جواز:
1۔ پہلا واقعہ: ”دستک سے پہلے دروازہ پُرسُکون تھا“ جو ایک توازن کی حالت ہے۔

2۔ دوسرا واقعہ: کسی کا ”دستک کے لیے ہاتھ اٹھنا“ ایک تَحَرُّک خیز عمل کی صورت میں دروازے کے حالتِ سُکون کو ختم کرتا ہے۔

3۔ تیسرا واقعہ: ”دروازے کا دل دھڑکنے لگ جانا“ یہ پہلی حالت کے الٹ کو ظاہر کرتا ہے، کیوں کہ اب سُکون کی جگہ گھبراہٹ نے لے لی۔

شعر# 9
گھر کے قریب ہاتھ سے تَھیلا پِھسل گیا
ساری گلی میں چاند ستارے بِکھر گئے
(سَجّاد بلوچ)
کہانی پن کا جواز:
1۔ پہلا واقعہ: شاعر کے ”ہاتھ سے تَھیلا پھسلنے“ سے پہلی کی حالت، ایک مُستحکم حالت کا بیان ہے۔

2۔ دوسرا واقعہ: ”ہاتھ سے تَھیلے کا پھسلنا“ ایک فَیصلہ کُن واقعہ ہے جو پہلے کی مُستحکم حالت کو بدلنے کی قُوَّت رکھتا ہے۔

3۔ تیسرا واقعہ: تھیلے سے ”ساری گلی میں چاند ستاروں کا بکھر جانا“ پہلے کی حالت کا اُلٹ ہے۔ اِن تینوں واقعات میں زمانی تسلسل اور سببی تعلقات ایک مختصر کہانی پر مُنتَج ہوتے ہیں۔

مختصراً بیانیات کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو اردو غزل کے اشعار (اور اکیلے اشعار یا فَرد) میں باآسانی کہانی پَن کے عناصر تلاش کیے جا سکتے ہیں اور جن کی مدد سے غزل کے اشعار (اور کسی بھی اکیلے شعر یا فَرد) کا مطالعہ ”یک شعری کہانی“ کے نام سے ایک نئی فکری جُستُجو کا میدان سجا سکتا ہے۔

1۔ ناصر عباس نیّر، بیانیات کی اصطلاحات: وضاحتی فرہنگ، مشمولہ بیانیات، لاہور: عکس پبلی کیشنز، 2019ء، 288۔ 89

2۔ گوپی چند نارنگ، فکشن کی شعریات: تشکیل و تنقید، لاہور : سنگ میل پبلی کیشنز، 2009ء، 11
3۔ ( 227 ) ق ا ح
4۔ گوپی چند نارنگ، فکشن کی شعریات: تشکیل و تنقید، لاہور : سنگ میل پبلی کیشنز، 2009ء، 40

5۔ ناصر عباس نیّر، بیانیات کی اصطلاحات: وضاحتی فرہنگ، مشمولہ بیانیات، لاہور: عکس پبلی کیشنز، 2019ء، 265

6۔ ناصر عباس نیّر، بیانیات کی اصطلاحات: وضاحتی فرہنگ، مشمولہ بیانیات، لاہور: عکس پبلی کیشنز، 2019ء، 229۔ 227

7۔ ناصر عباس نیّر، بیانیات کی اصطلاحات: وضاحتی فرہنگ، مشمولہ بیانیات، لاہور: عکس پبلی کیشنز، 2019ء، 230۔ 229
8۔ The grammar of stories (pdf) ، p# 31

Facebook Comments HS