اڈیالہ سے براستہ ڈی گراؤنڈ وزیر اعظم ہاؤس پہنچنے کا خواب
تحریک انصاف کا دھرنا شروع ہونے کے دوسرے روز بھی رات گئے تک اسلام آباد کے ڈی گراؤنڈ نہیں پہنچ سکا تھا۔ اس دوران میں تحریک انصاف کی قیادت حکومتی نمائندوں کے ساتھ دھرنے کے متبادل مقام پر بات چیت کر رہی تھی۔ مذاکرات کی تصدیق تو دونوں طرف سے ہو رہی ہے لیکن اس حوالے سے تفصیل بتانے سے گریز کیا جا رہا ہے۔
امکان ہے تحریک انصاف اگر اسلام آباد کے نواح میں کسی متبادل جگہ پر دھرنا دینے پر راضی ہو گئی تو شاید مظاہرین اور امن و امان قائم کرنے والے اداروں میں براہ راست تصادم سے بچا جاسکتا ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ ہجوم کو منتشر کرنا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ پانچ منٹ فائرنگ ہوگی اور کوئی دکھائی نہیں دے گا لیکن یہ لوگ لاشیں چاہتے ہیں تاکہ اپنی منفی سیاست کو آگے بڑھائیں۔ تحریک انصاف کو ابھی تک کوئی ’لاش‘ نہیں ملی لیکن اگر اسلام آباد کے ڈی گراؤنڈ کی طرف جانے پر اصرار کیا گیا تو مسلح تصادم کے امکان کو مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ ایسی صورت میں یہ قیاس کرنا مشکل ہو گا کہ کسے کتنا نقصان پہنچے گا۔ فی الوقت حکومت کو پولیس کانسٹیبل کی ہلاکت کی صورت میں ایک ’لاش‘ ملی ہے۔ پولیس اور پنجاب حکومت نے اس کی ذمہ داری تحریک انصاف کے مظاہرین پر عائد کی ہے۔ کانسٹیبل محمد مبشر بلال راولپنڈی کے قریب ڈیوٹی دیتے ہوئے مظاہرین کے تشدد کا نشانہ بنے اور بعد میں زخموں کی تاب نہ لا کر انتقال کر گئے۔ دو مزید زخمی پولیس اہلکاروں کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔
وزیر اعظم، وزیر داخلہ اور دیگر وزرا نے پولیس کانسٹیبل کی شہادت پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور شدید مذمت کی ہے۔ محسن نقوی نے ان کے قتل میں ملوث تمام لوگوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ حکومتی نمائندے اس ایک سانحہ کی بنیاد پر الزام عائد کر رہے ہیں کہ تحریک انصاف پرتشدد مظاہروں کا اہتمام کرتی ہے اور امن و امان کے لیے شدید خطرہ بنی ہوئی ہے۔ گو کہ ڈیوٹی دینے والے کسی پولیس اہلکار کی موت نہایت افسوسناک سانحہ ہے لیکن اس وقوعہ کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ البتہ تحریک انصاف کی قیادت کو بھی یقینی بنانا چاہیے کہ وہ جس مظاہرے یا احتجاج کو ’پرامن‘ کہتے ہیں، وہ واقعی پر امن اور منظم ہو۔ لیکن جب کوئی بھی اقدام کرتے ہوئے قانونی تقاضوں کو مسترد کیا جائے گا تو کسی بھی قیادت کے لیے اس میں شامل ہونے والے عناصر کو صرف ایک قانون توڑنے اور باقی کا احترام کرنے کی ترغیب دینا آسان نہیں رہتا۔ اس مقصد کے لیے کسی بھی قسم کی قانون شکنی سے گریز ہی بہترین پالیسی ہو سکتی ہے۔ خاص طور سے تشدد کے حوالے سے حکومتوں اور مظاہرین کو یکساں طور سے واضح اور دو ٹوک پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔ اس بات کا تہیہ کرنا ضروری ہے کہ کسی بھی حالت میں تشدد کا راستہ اختیار نہیں کیا جائے گا اور اگر تصادم کی صورت پیدا ہوتی ہے تو موقع پر موجود لیڈر اشتعال دلانے اور صورت حال خراب کرنے کی بجائے تحمل سے کام لیں اور مظاہرین کو براہ راست پولیس یا قانون نافذ کرنے والے دیگر اہلکاروں سے الجھنے سے منع کریں۔
بدقسمتی سے پاکستان میں تشدد مسترد کرنے کے لیے واضح اور ذمہ دارانہ طرز عمل دیکھنے میں نہیں آتا۔ مظاہرین کی طرف سے ’آخری سانس تک مقابلہ کرنے‘ جیسے دعوے درحقیقت جذبات ابھارنے اور تشدد کے لیے اکسانے ہی کے لیے کیے جاتے ہیں۔ اس کا مظاہرہ اب عمران خان کی جگہ ’قیادت‘ کی ذمہ داری سنبھالنے والی بشریٰ بی بی نے بھی کیا ہے۔ احتجاجی ریلی کے قیام کے دوران خطاب میں انہوں نے اعلان کیا کہ ڈی گراؤنڈ پہنچ کر ’میں آخری سانس تک وہاں موجود رہوں گی۔ میرے بھائیو! آپ نے بھی میرا ساتھ دینا ہے۔ یہ لڑائی صرف عمران خان کی رہائی کے لیے نہیں ہے بلکہ یہ ملک اور اس کے لیڈر کے بارے میں ہے‘۔ بشریٰ بی بی کے ایسے ہی اشتعال انگیز بیانات کی وجہ سے وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا ہے کہ ’پی ٹی آئی رہنما چاہتے تھے کہ مذاکرات سے کوئی حل نکلے لیکن بشریٰ بی بی موجودہ صورت حال کا فائدہ اٹھانا چاہتی ہیں‘۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو کہ تحریک انصاف کی قیادت میں عمران خان کے فیصلوں کے حوالے سے اختلافات نمایاں ہیں۔ عمران خان سے بار بار ملاقات کے ذریعے انہیں نرمی اختیار کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے لیکن جیل کے اندر عمران خان اور باہر ان کی اہلیہ حقیقی معنوں میں ’تخت یا تختہ‘ کا راستہ اختیار کرنے پر مصر ہیں۔
دوسری طرف حکومت کا مفاد بنیادی طور پر تصادم اور تشدد سے بچنے ہی میں ہے۔ سب جانتے ہیں کہ اگر سکیورٹی فورسز فائرنگ کریں تو نہتے مظاہرین کے پاس جان بچا کر بھاگنے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہو گا۔ لیکن جب وزیر داخلہ اس کا سخت الفاظ میں اعلان کرنا ضروری سمجھتے ہوں کہ ’مظاہرہ ختم کرانے کے لیے رینجرز کو صرف پانچ منٹ فائر کھولنا پڑے گا‘ تو اس سے تشدد کے رجحان کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ گو کہ حکومت تشدد سے بچنا چاہتی ہو لیکن جب مختلف راستوں اور رکاوٹوں پر ڈیوٹی دینے والے اہلکاروں کو یہ پیغام ملے گا کہ ان مظاہرین کو حکومت پوری طاقت سے کچلنے کا ارادہ رکھتی ہے تو غیر ارادی طور پر ہی وہ کسی ایسی حرکت میں ملوث ہوسکتے ہیں جس سے کوئی سانحہ رونما ہو اور حالات قابو سے باہر ہوجائیں۔ وزیر داخلہ اور دیگر سرکاری نمائندوں کو موجودہ صورت حال پر گفتگو کرتے ہوئے معتدل و متوازن لب و لہجہ اختیار کرنا چاہیے۔ یہ بھی مناسب ہو گا کہ حکومت کی طرف سے کسی ایک مجاز شخص کو واقعات و حالات پر تبصرہ کرنے اور میڈیا کو بریف کرنے کا کام سونپا جائے تاکہ جتنے منہ اتنی باتیں والی صورت حال پیدا نہ ہو۔
رات گئے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان اسلام آباد کے نواح میں سنگجانی کے مقام پر دھرنا دینے یا احتجاج جاری رکھنے پر اتفاق رائے کا امکان پیدا ہوا تھا۔ اگر اس بارے میں معاملات حتمی شکل اختیار کرلیتے ہیں تو اس سے فریقین کی یکساں طور سے فیس سیونگ ہو جائے گی اور تحریک انصاف اور حکومت دونوں اپنی اپنی کامیابی کا اعلان کرتے ہوئے نامکمل ایجنڈے کے ساتھ گزارا کرسکیں گے۔ البتہ اس مفاہمت کے بعد تحریک انصاف اور حکومت دونوں کو اپنی حکمت عملی پر غور کرنا چاہیے تاکہ مستقبل میں ایک بار پھر ہیجان خیز صورت حال پیدا کرنے سے گریز کیا جا سکے۔
تحریک انصاف خیبر پختون خوا کے سوا کسی دوسرے صوبے میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ پارٹی اڈیالہ سے براستہ ڈی گراؤنڈ وزیر اعظم پہنچنے کا مقصد حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ سنگجانی پر دھرنے کی پیش کش قبول کر کے درحقیقت اس سچائی کو تسلیم کیا جائے گا کہ تحریک انصاف موجودہ قیادت اور پارٹی ڈھانچے کے ساتھ کوئی ایسا ہجوم جمع کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتی جو بنگلہ دیش کی طرح کسی بڑے انقلاب یا حکومت کی تبدیلی کا پیش خیمہ بن جائے۔ تحریک انصاف کے لوگ بنگلہ دیش کے طرز پر حکومتی عہدیداروں کو بھگانے کا خواب ضرور دیکھ سکتے ہیں لیکن نہ تو پاکستان کے سیاسی حالات بنگلہ دیش سے مطابقت رکھتے ہیں اور نہ ہی ایسا انقلاب برپا کرنے کے لیے کوئی وسیع تر سیاسی اتفاق رائے موجود ہے۔ تحریک انصاف تن تنہا انقلاب برپا کرنا چاہتی ہے لیکن اس انقلاب کے اہداف اور قیادت کے بارے میں پی ٹی آئی کے اندر شدید اختلافات ہیں۔ خیبر پختون خوا سے بھی جلوس لانے کا مقصد اسی لیے پورا ہوجاتا ہے کہ وہاں پر تحریک انصاف کی حکومت ہے اور سرکاری حیثیت و وسائل کو استعمال کر کے گاڑیوں و ٹرکوں کا قافلہ تیار کر لیا جاتا ہے۔ پارٹی لیڈر عوام کا ایسا سیلاب سامنے لانے میں ناکام رہے ہیں جو اقتدار پر قابض کسی گروہ کے لیے خطرہ بن سکے۔ پی ٹی آئی اور عمران خان کو یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ سال بھر پہلے گرفتاری سے قبل عمران خان بنفس نفیس اسلام آباد کی طرف چڑھائی کی دو تین کوششیں کرچکے تھے لیکن وہ ہر بار ناکام رہے۔ ان کی غیر موجودگی میں احتجاج منظم کرنے والے لیڈروں کو نہ تو لوگ جانتے ہیں اور نہ یہ یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ کون عمران خان کا حقیقی وفادار ہے۔
تحریک انصاف کو سیاسی مقاصد کے لیے ملکی مفاد کو داؤ پر لگانے کی حکمت عملی سے گریز کرنے پر بھی غور کرنا چاہیے۔ موجودہ حکومت کے ساتھ اختلافات سے قطع نظر جب تحریک انصاف بار بار احتجاج کی کال دے کر ملکی نظام معطل کرنے کا سبب بنتی ہے تو اسے حکومت کی ناکامی کے ساتھ پی ٹی آئی کی مفاد پرستی کہا جاتا ہے۔ تحریک انصاف کو اپنی موجودہ مقبولیت اور حجم کے حساب سے مستقبل میں کسی وقت اقتدار مل سکتا ہے۔ لیکن اگر اس نے احتجاج، اشتعال اور توڑ پھوڑ کی موجودہ حکمت عملی تبدیل نہ کی تو مستقبل میں وہ خود بھی سکون سے حکومت نہیں کرسکے گی۔ ملک میں ضرور رائے کے اظہار اور اجتماع کی آزادی ہونی چاہیے۔ ہر پارٹی کو اپنے سیاسی مطالبات کے لیے جلوس نکالنے اور جلسہ کرنے کا حق بھی حاصل ہونا چاہیے لیکن اس کے ساتھ ہی ہر سیاسی پارٹی کو ملک میں باہمی احترام اور اختلاف رائے قبول کرنے کا مزاج مستحکم کرنے کے لیے بھی کام کرنا چاہیے۔ بصورت دیگر فروغ پانے والے سیاسی کلچر میں تصادم ہی واحد آپشن کے طور پر باقی رہے گا۔ یہ طریقہ نہ تو جمہوری نظام کے لیے خوش آئند ہو گا اور نہ ہی کوئی ایک لیڈر اس طریقے سے موثر نظام حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔
دوسری طرف حکومت کو بھی اپنی حکمت عملی اور بدحواسی کا جائزہ لے کر سیاسی احتجاج و مظاہروں کے بارے میں معتدل اور متوازن پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔ ایک تو کسی سیاسی احتجاج کے لیے دفعہ 144 جیسے قانون کا ناجائز استعمال ترک کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کی بجائے سیاسی جماعتوں کو ایسے سمجھوتے پر متفق کرانے کے لیے کام کیا جائے کہ احتجاج کرتے ہوئے نہ تو قانون شکنی ہو اور نہ ہی سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا جائے۔ حکومت کو خبر تھی کہ تحریک انصاف خیبر پختون خوا کے علاوہ کہیں سے کوئی قابل ذکر جلوس لے کر اسلام آباد پہنچنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ اس کے باوجود ملک بھر میں مواصلاتی نظام درہم برہم کر کے گزشتہ چند روز کے دوران ہمہ قسم تجارتی و سماجی سرگرمیوں کو معطل کیا گیا۔ اس طریقے سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ عمران خان موجودہ حکومت کے اعصاب پر سوار ہے۔ حکومت کو اپنے ایجنڈے کے مطابق امور مملکت چلانے پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے اور مواصلاتی نظام بند، انٹرنیٹ اور موبائل سروس معطل اور اسلام آباد کو محصور کرنے جیسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے۔
ہفتہ عشرہ کی سیاسی بیان بازی، دھمکیوں و الزامات کے سنگین ماحول کے بعد اگر اب جلوس کا رخ سنگجانی کی طرف موڑنے پر اتفاق رائے ہو سکتا ہے تو حکومت اور تحریک انصاف کو تمام متاثرہ لوگوں کو اس بات کا جواب ضرور دینا چاہیے کہ پھر ان کی زندگی اجیرن بنانے کا کیا مقصد تھا۔ سنگجانی تو پہلے بھی موجود تھا۔ معاہدہ کرنے کے لیے ایک دوسرے کو یوں تولنے کی کیا ضرورت تھی جس میں عام شہری کی زندگی شدید متاثر ہوئی اور انہیں بے شمار مشکلات سے گزرنا پڑا۔


