پاستہ دی ناتہ: مونکس کی سوغات


پاستہ دی ناتہ کا شمار پرتگال کی مشہور سوغات میں ہوتا ہے، جسے عموماً ناتہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ ایک کریمی کسٹڈ ٹارٹ ہے، جس کے اجزا میں فلکی پیسٹری، انڈے کی زردی، چینی، دودھ، دار چینی، اور لیموں کی چھال شامل ہیں۔ یہ مٹھائی باہر سے کرسپی اور اندر سے نرم و کریمی ہوتی ہے۔ اسے عموماً گرم کھایا جاتا ہے اور پیش کرنے سے پہلے اس پر دار چینی یا چینی پاؤڈر چھڑکا جاتا ہے۔

پاستہ دی ناتہ عام طور پر ناشتے یا دوپہر کی چائے کے ساتھ کھائی جاتی ہے اور پرتگال میں یہ روزمرہ زندگی کا حصہ سمجھی جاتی ہے۔ خاص مواقع، تہوار، یا چھٹیوں میں اسے خاص پیش کیا جاتا ہے۔ کچھ لوگ اسے کافی کے ساتھ پسند کرتے ہیں، اور پرتگال میں کافی اور ناتا کی جوڑی بہت مشہور ہے۔

ہم پہلی بار جولائی 2024 میں برکت بھائی کی بدولت پاستہ دی ناتہ سے متعارف ہوئے تھے۔ ہم نمکین چائے کو ام المشروبات سمجھتے ہیں۔ کافی ہمیں بالکل پسند نہیں ہے لیکن ناتہ اور کافی کی جوڑی کے سامنے انکار کی گنجائش نہیں رہتی۔ بعد میں معلوم ہوا کہ اس سوغات کو ایجاد کرنے کا سہرا جیرونیموس مونیسٹری کے مونکس کو جاتا ہے۔

پاستہ دی ناتہ کی ایجاد اٹھارہویں صدی کے اوائل میں ان مونکس کے ہاتھوں ہوئی، جو لزبن کے علاقے بیلیم میں واقع جیرونیموس مونیسٹری میں رہتے تھے۔ اس دور میں مونیسٹریز میں انڈے کی زردی کا استعمال کپڑوں کو نشاستہ دینے اور دیگر مختلف مقاصد کے لیے کیا جاتا تھا، جس کے بعد انڈے کی سفیدی بچ جاتی تھی۔ مونکس نے اس سفیدی کو ضائع کرنے کے بجائے مختلف مٹھائیاں بنانے میں استعمال کیا۔ انہی تجربات کے دوران پاستہ دی ناتہ ایجاد ہوئی۔ مونکس ان مٹھائیوں کو قریبی دکانوں میں فروخت کرتے تھے۔ پرتگال میں مونکس 12 ویں صدی میں آئے تھے۔ پرتگال کے پہلے بادشاہ افونسو ہنریکس نے چرچ اور مونیسٹریز کو فروغ دیا تھا، لیکن 19 ویں صدی میں 1820 کے لبرل انقلاب کے بعد مونیسٹریز بند کردی گئیں اور مذہبی جماعتوں کا اثر و رسوخ کم ہو گیا۔

بعد ازاں، پاستہ دی ناتہ بنانے کا اصل فارمولا جیرونیموس مونیسٹری کے قریب واقع پیسٹری دی بیلیم نامی بیکری کے ہاتھ لگ گیا۔ کہتے ہیں کہ اصل پاستہ دی ناتہ بنانے کا نسخہ پیسٹری دی بیلم کے صرف تین باورچیوں کے پاس ہوتا ہے۔ 1837 میں قائم ہونے والی یہ بیکری آج بھی پاستہ دی ناتہ کے عاشقوں کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ پرتگال میں ناتہ تقریباً ہر بیکری میں مل جاتے ہیں، لیکن پیسٹری دی بیلم کا ذائقہ منفرد ہوتا ہے۔ یہاں خاص خفیہ نسخے کے تحت پاستہ دی ناتہ تیار ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ لوگ خاص طور پر بیلم کا سفر کرتے ہیں تاکہ اصل ناتہ کا مزہ لے سکیں۔ یہ بیکری روانہ بیس سے پچیس ہزار ناتہ فروخت کرتی ہے۔ تعطیل اور سیاحتی موسم میں تعداد میں دوگنا اضافہ ہوتا ہے۔

مونکس کون ہیں۔

مونکس مختلف مذاہب کی روحانی روایات کا ایک اہم حصہ ہیں۔ ان کا مقصد دنیاوی زندگی سے الگ ہو کر روحانیت، عبادت اور خدمت میں وقت گزارنا ہوتا ہے۔ بدھ مت، عیسائیت، ہندو مت، جین مت، اور اسلامی تصوف جیسے بڑے مذاہب میں مونکس کی موجودگی اور ان کا کردار مختلف شکلوں میں موجود ہے۔

بدھ مت مونکس مراقبہ، تعلیم اور خدمت کے ذریعے ذریعے نروان حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ اپنے آپ کو دنیاوی معاملات سے دور رکھ کر اپنی زندگی دھارمک اصولوں کے مطابق گزارتے ہیں۔

عیسائی مونکس اپنی زندگی خدا کی خدمت، عبادت اور خدمتِ خلق کے لیے وقف کر دیتے ہیں۔ یہ افراد اکثر خانقاہوں میں رہتے ہیں اور دنیاوی لذتوں کو ترک کر کے خدا کی قربت تلاش کرتے ہیں۔

ہندو مت دھرمی مونکس ”سنیاسی“ یا ”سادھو“ کہلاتے ہیں۔ جو اپنی زندگی یوگ، مراقبہ، اور گیان کی تلاش میں گزارتے ہیں یہ لوگ دنیاوی لذتوں کو ترک کر کے ایک روحانی زندگی گزارنے کی کوشش کرتے ہیں۔

جین مت میں مونکس بہت سخت ضوابط کے تحت زندگی گزارتے ہیں۔ وہ دنیاوی چیزوں کو ترک کر کے اہنسا (عدم تشدد) اور سچائی کی پابندی کرتے ہیں۔

تاؤ مت کے مونکس فطرت کے ساتھ ہم آہنگی میں زندگی گزارنے کی کوشش کرتے ہیں اور مراقبے اور توانائی (chi) کی تربیت پر زور دیتے ہیں۔

اسلامی روایت میں تصوف کا تصور مونکس جیسا ہی ہے، جہاں صوفی لوگ دنیاوی معاملات سے دوری اختیار کر کے اللہ کی قربت اور روحانی پاکیزگی حاصل کرنے میں مگن رہتے ہیں۔

Facebook Comments HS