باتیں شہری اور دیہاتی دوستوں کی
عموماً کلاس کے بہترین سٹوڈنٹس کتابی کیڑے ہوا کرتے تھے۔ ان کا کھیل کود، یاری دوستی، بیٹھک، ڈیرے سے کوئی خاص تعلق نہیں ہوا کرتا تھا۔ تھیوری یہ تھی کہ اس سے وقت ضائع ہوتا ہے اور خدشات بڑھ جاتے ہیں کہ بچہ کسی ایسی سرگرمی میں ملوث نہ ہو جائے جو اخلاقیات کے معیار پر پورا نہ اترتی ہو۔ مثلاً گاؤں کے پرائمری سکول کی حدود میں چھٹی کے بعد کرکٹ کھیلنا منع تھا۔ انتظامیہ نے اس کی شکایت بھی کی تھی۔ مگر یار لوگ کھیلتے ہی وہاں تھے۔ دیواریں پھلانگ کر پلیئنگ الیون داخل ہوتی۔ یہاں تک کہ ہمارے کچھ دوست سکول میں آئی بجلی کی تار کو پینگ بنا کر جھولتے رہے اور وہ کھمبے سے ہی نکل گئی۔ بجلی ابھی تک سکول میں آئی نہیں تھی۔ صرف تار ہی آئی تھی وہ بھی ٹوٹ گئی۔ اگلے روز صبح سویرے ناشتے کے چند نوالے ہی حلق سے نیچے ہوئے ہوں گے کہ مسجد کے لاؤڈ سپیکر سے ”رمیض راجہ“ نے تار پر جھولنے والے کھلاڑیوں کے نام لینے شروع کر دیے۔ جن کو جہاں جہاں پر تھے کی بنیاد پر چھتر پڑے۔ بعد ازاں اس پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ لڑکے تو وہاں دس سے زائد تھے، بہترین پر فارمرز کے نام انتظامیہ کو کس نے دیے۔
طاہر جس کا نک نیم ”تارو“ ہے۔ اس کی لاہور میں رشتے داری تھی۔ ایک بار وہ گرمیوں کی چھٹیوں میں لاہور گیا اور وہاں سے ایک پھٹا پرانا بیٹنگ پیڈ لے آیا۔ ہم نے زندگی میں پہلی بار کرکٹ پیڈ دیکھا اور پھر باری باری سب نے ایک ہی ٹانگ پر باندھ کر کھیلا۔ بائیں ٹانگ پر باندھتے اور جان بوجھ کر اس کو آگے کرتے تاکہ گیند پیڈ ہو۔ پیڈ پر لگ کر کب وکٹ میں جا لگتی کچھ سمجھ نہ آتی اور پھر اس کے ساتھ رنز لینا تو بہت ہی مشکل تھا۔ پھر بھی ہم نے اس فیز کو بہت انجوائے کیا۔ کاک بال سے کھیلنا ایک منفرد تجربہ تھا۔ کئی بار لڑکے زخمی بھی ہو جاتے۔ کاک بال ٹوٹ جاتی تو بجٹ شاٹ ہونے کے باعث مومی کاغذ سے گیند بنانے کی کوشش کرتے۔ کرکٹ سے عشق ہمارا مشترک تھا۔ یہ وہ گوند تھا جو ہمیں جوڑے رکھتا تھا۔
سکول میں بہترین ریکارڈ رکھنے کے باوجود اپنی یاری دوستی ہر قسم کے لڑکوں سے تھی۔ پڑھاکو، شرارتی، آوارہ، سب اچھے لگتے تھے۔ کتابوں سے شغف رکھنے کے باوجود دن رات کرکٹ کھیلی، کچھ ہلکے پھلکے قوانین توڑے۔ گنے، امرود توڑنے کی وارداتوں کی لائیو رپورٹنگ کی۔ گاؤں کے دوستوں کے ساتھ گزرا وقت زندگی کا سب سے یادگار اور حسین دور ہے۔ ہم وقت گزاری کے لئے کرکٹ کھیلا کرتے تھے۔ فٹ بال کا دور بھی چلتا، لڈو، تاش، کڑکی، بارہ ٹہنی اور ہم فیمنسٹ لڑکیوں کے ساتھ شٹاپو بھی کھیل لیا کرتے تھے اور انہیں پانچوں خانے چت بھی کر دیتے تھے۔ عزت نفس پر عمر بھر کمپرومائز نہیں کیا۔ لہذا نہیں کھیلا تو ”باندر کلا“ نہیں کھیلا۔ ایک بار تجربے کے طور پر شامل ہوئے اور نوبت جوتے پڑنے تک آ گئی۔ ایک دوست نے کہا کہ آدھا کھیل ہو گیا اب جوتے پڑنے کا وقت آن پہنچا ہے۔ اس کے حصے کے میں کھاؤں گا۔ دوستوں کا یہ رویہ بچپن سے لے کر آج تک میری زندگی کا سب سے انمول سرمایہ ہے۔ کوئی مشکل ٹاسک آیا۔ انہوں نے کہا ہم کریں گے۔ آپ پیچھے ہو جاؤ۔
گاؤں میں کوئی شادی ہوتی۔ ہمارا یونٹ منجی بسترے اکٹھے کرنے، مہمانوں کو سنبھالنے، دیگیں بنوانے میں پیش پیش۔ کوئی نیا گھر بناتا۔ چھت پر مٹی ڈالنے کی باری آتی۔ یونٹ کی خدمات حاضر۔ خوشی اور غم کے تہواروں میں کسی صلے، ستائش یا پروٹوکول کی تمنا سے بے نیاز، بڑھ چڑھ کر کام کرتے تھے۔ بے لوث دوسروں کے کام آنے کی تربیت ہم دیہاتی دوستوں کی اکٹھے ہی ہوا کرتی تھی۔ جیسے سی ایس ایس میں کامن ٹریننگ پروگرام ہوا کرتا ہے۔ ہم دوستوں کا تعلق گاؤں کے 1995 ءکامن سے ہے۔ جس کلچر کو ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا وہ آنکھوں کے راستے ہمارے دلوں میں جا بسا، جسے آج تک شہروں کی چکا چوند بھی نکال نہیں سکی۔
دوست وہ نہیں ہوتا جس کو مشکل وقت میں آواز دینی پڑے۔ یا جس کی آمد پر خدشہ ہو کہ کمرے کی حالت درست کرنی چاہیے۔ پروٹوکول اور یاری ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ ممی ڈیڈی اور شہری دوستوں کو پروٹوکول دینا پڑتا ہے۔ وہ نا مانگیں پھر بھی دینا پڑ جاتا ہے۔ اس کی کوئی منطق نہیں مگر حقیقت یہی ہے۔ میں نے زندگی کے سولہ سال گاؤں میں اور اس کے بعد اٹھارہ سال لاہور میں گزار دیے ہیں۔ یاریاں تقسیم بھی ہوئیں، وقت گزرنے کی اوسط خراب ہوئی۔ اب شہر میں زیادہ گزرتا ہے۔ مگر اپنے تجربے کی روشنی میں یہ لکھنے پر مجبور ہوں کہ شہر میں کسی اعلیٰ عہدے پر فائز دوست سے گاؤں میں کسی دکان کے باہر پھٹے پر بیٹھا ہوا دوست زیادہ وفادار ہوتا ہے۔ شہر والے کو مشکل وقت میں بھی صوفے پر بٹھانا پڑتا ہے۔ گاؤں والا ”کئی“ پکڑتا ہے اور قبرستان پہنچ جاتا ہے۔ وہ ہسپتال کے بنچ پر بھی آپ کے ساتھ گھنٹوں بیٹھ سکتا ہے۔ شہر والوں کے پاس وقت کی ہمیشہ قلت ہوتی ہے۔
ایسا نہیں کہ وہ برے لوگ ہیں بس وہ ایک ایسے جال میں جکڑے ہوئے ہیں کہ جس سے باہر نکلنا ان کے اپنے بس میں نہیں۔ ان کی گرومنگ نیچر سے دور ہوتی ہے۔ نیچر سے دور پلنے بڑھنے والے کے اندر وفا کم ہوتی ہے۔ اینٹ پتھر کے جنگلوں میں پلنے والوں کے دل بھی پتھر ہو جاتے ہیں۔ بچپن سے وہ ایک خوف اور مقابلے کی فضا دیکھتے ہیں۔ کہیں پیچھے نہ رہ جائیں کو مرکز مان کر زندگی گزارنے والے تعلقات کو سیڑھی بنانے سے گریز نہیں کرتے۔ دیہاتی کم از کم تعلقات کی تجارت نہیں کرتا۔ وہ پی آر نہیں کرتا، یاری لگاتا ہے اور نبھا کر دکھاتا ہے۔ تیزی سے گزرتے شب و روز میں ایک پل رک کر میں اپنے تمام دوستوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جن کے دم سے کتاب زیست کے صفحات رنگین ہیں۔ وجود زن سے ہو نہ ہو مگر ”وجود یار سے ہے تصویر کائنات میں رنگ“ ۔


