باتیں شہری اور دیہاتی دوستوں کی

عموماً کلاس کے بہترین سٹوڈنٹس کتابی کیڑے ہوا کرتے تھے۔ ان کا کھیل کود، یاری دوستی، بیٹھک، ڈیرے سے کوئی خاص تعلق نہیں ہوا کرتا تھا۔ تھیوری یہ تھی کہ اس سے وقت ضائع ہوتا ہے اور خدشات بڑھ جاتے ہیں کہ بچہ کسی ایسی سرگرمی میں ملوث نہ ہو جائے جو اخلاقیات کے معیار پر پورا نہ اترتی ہو۔ مثلاً گاؤں کے پرائمری سکول کی حدود میں چھٹی کے بعد کرکٹ کھیلنا منع تھا۔ انتظامیہ نے اس کی شکایت

Read more

گولڈ ڈگرز

بچپن میں ہم سمجھتے تھے کہ ”فنون لطیفہ“ لطیفوں والی کتاب کا ہی پورا نام ہے۔ لطیفوں کے اندر ہماری ثقافت کی جھلک ہوتی ہے۔ یہ ہر دور میں بنتے ہیں اور اس زمانے کے لوگوں کی نفسیات سمجھنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ زمانہ تیزی سے بدلا تو لطیفوں نے بھی اپنے آپ کو اپ گریڈ کیا ہے۔ اب وہ سادہ لطیفے نہیں رہے بلکہ ”میمز“ بن چکے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ”گولڈ ڈگر“ خواتین کے حوالے سے میمز

Read more

کہ جس کو چھو لیا جائے اسے پوجا نہیں کرتے

تخیل کی پرواز لا محدود نہیں ہوتی، انسان اپنے ماحول، مہیا وسائل اور علم کے دائرے میں جی رہا ہے۔ تخیل کی پرواز ان سب کے بڑھنے سے بڑھتی ہے۔ ہم گاؤں میں زندگی گزار رہے تھے۔ لائبریری جیسی عیاشی تو کجا ہمارے سکول کی عمارت ہی کوئی نہیں تھی۔ کمرہ نہیں، کلاس روم نہیں تو باقی دنیا سے مقابلے کی سوچ کہاں سے پیدا ہوتی! اپنے ماحول سے بیزاری کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے۔ بیزاری موازنے سے پیدا ہوتی

Read more

”ابا کیا کرتے ہیں“ فیکٹر اور ذہن سازی

ماس کمیونیکیشن میں ایک تھیوری ہے Confirmation Bias، اس کے مطابق ٹی وی پر بیٹھ کر کوئی جو مرضی بولتا رہے، دیکھنے والے پر اثر اس لئے بھی نہیں ہوتا کہ اس نے اس مسئلے پر پہلے سے ہی ذہن بنا رکھا ہے۔ اگر آپ اس کے مطلب کی بات کر رہے ہیں تو وہ سن لے گا، اگر آپ کی باتیں سننے والے کے موقف کے برعکس ہیں تو وہ نظر انداز کر دے گا۔ یہ ذہن سازی زندگی

Read more

لاہور کی آلودگی میں شاعروں کا کردار

لاہور شہر کی آبادی اتنی بڑھ گئی ہے کہ یہ آپے سے باہر ہے۔ اس میں مقامی آبادی کم اور مہاجرین کی تعداد زیادہ ہے۔ وہ والے مہاجر جو جبراً، مجبوراً اور شوقیہ بھی یہاں تشریف لائے اور پھر دوبارہ واپسی کی راہ بھول گئے۔ اس بڑھتی ہوئی ”اربنائزیشن“ پر بہت باتیں ہوتی رہی ہیں اور اب سموگ کے تناظر میں بھی ہو رہی ہیں کہ جی بے ہنگم ٹریفک ہے، لوڈ زیادہ ہے، وغیرہ وغیرہ۔ لیکن ابھی تک کسی

Read more

”بوریت“ ایک عالمی مسئلہ

دنیا گلوبل ویلیج بن چکی ہے۔ ایک ملک اب دوسرے ملک میں ہونے والے حالات و واقعات سے لاتعلق نہیں رہ سکتا۔ انٹرنیٹ نے دنیا کو تقریباً بارڈر لیس ”بنا دیا ہے۔ دنیا میں بیشتر ایسے مسائل ہیں کہ جن کا حل اب کسی اکیلے ملک کے پاس نہیں۔ ساری دنیا چاہے تو ہی وہ حل ہو سکتے ہیں۔ ان مسائل پر جب بھی بات ہوتی ہے تو ماحولیاتی آلودگی، اسمگلنگ، دہشت گردی اور پانی کے مسائل وغیرہ کا تذکرہ ہوتا ہے۔ مگر“ بوریت ”بھی ایک عالمی مسئلہ ہے جسے اب تک باقاعدہ تسلیم نہیں کیا گیا۔

Read more

ایک کارڈ۔ آدمی کو صحافی بنا دیتا ہے!

دیہات میں آپ کو کھیتوں کے درمیان میں بنی ہوئی پگڈنڈیاں عام نظر آئیں گی۔ لوگ اصل راستہ چھوڑ کر ان کا استعمال کرتے ہیں۔ کئی بار تو فصلوں کو اس عوامی شارٹ کٹ کے باعث نقصان بھی پہنچتا ہے۔ شہروں میں لوگ فٹ پاتھ پر موٹر سائیکل چلاتے اور پیدل افراد جنگلے پھلانگتے نظر آئیں گے۔ اردو بازار کے فٹ پاتھ پر ایسی کتابیں بھی ملیں گی جن کا دعوی ہے کہ ”چالیس دن میں ڈاکٹر بنیے“ سٹوڈنٹ طبقہ

Read more

ماں جی

پتھر کے زمانے سے لے کر مہذب معاشرے کی بنت اور تہذیبوں کے ارتقاء سے لے کر ٹیکنالوجی کے سیلاب تک دنیا کی ہیت کیا سے کیا ہو گئی۔ نہیں بدلی تو ماں نہیں بدلی۔ ماں اللہ تعالی کی جانب سے محبت کی ”پریزنٹیشن“ ہے۔ جس کی ایک ایک کاپی ہم سب میں تقسیم کی گئی ہے تاکہ ہم دنیا میں لافانی محبت کے اس سلیبس سے تربیت حاصل کر سکیں۔ خود غرضی اور صلے جیسی ملاوٹ سے پاک، یک

Read more

شاعری سے تعلق کیسے بنتا ہے

سکول کے زمانے میں میرا خیال تھا کہ کورس کی کتابوں کے علاوہ دنیا میں جو واحد کتاب ہے وہ قرآن ہے۔ باقی ڈائجسٹ ہوتے ہیں اس کے علاوہ شعر و شاعری اور لطیفوں کے پاکٹ سائز کتابچے جو ہر سال رمضان سے پہلے ایک پر اسرار سا شخص تھیلا اٹھائے سکول میں آتا اور پانچ روپے میں شاعری، لطیفوں کے پاکٹ سائز کتابچے کے علاوہ ایک عدد جنتری ہوتی تھی۔ اس جنتری میں پورے سال کا کیلینڈر، ستاروں کے

Read more

"اوپینین لیڈرز” کا معاشرے میں کردار (Opinion Leaders)

دنیا کے حقیقی علوم اور معاشرے کی سمجھ بوجھ کے لئے عمر کے ہر حصے میں آپ جن کو اپنا بڑا مانتے ہیں۔ خود تحقیق نہیں کرتے یا نہیں کر سکتے تو ان کی بتائی ہوئی باتوں پر ایمان لے آتے ہیں۔ ان لوگوں کو ”اوپینین لیڈرز“ کہا جاتا ہے۔ بچپن میں جب محلے کی مسجد میں جاتا تھا تو سکول کی کتاب بھی ساتھ لے جاتا۔ فجر کی جماعت کے بعد ایک طرف بیٹھ کر پڑھائی بھی ہو جاتی۔

Read more

دیہات میں ”فیوچر پلاننگ“ کا ارتقا

گاؤں والوں کی روزمرہ گفتگو کے مطابق ان کے تین آئیڈیل پیشے ہوا کرتے تھے۔ مائیں، دادی، نانیاں بچوں کو دعائیں دیتی تھیں۔ ”اللہ تینوں تھانیدار لائے“ ۔ بچوں کو پیار کرنا ہوتا تو بلائیں لیتیں ”ہائے میرا پٹواری“ اور تیسرا اہم عہدہ ان کے نزدیک ”باو“ تھا۔ باو سے ان کی مراد کیا تھی یہ تو واضح نہیں مگر اتنی سمجھ آتی تھی کہ وہ پینٹ شرٹ پہنتا ہے اور شہر میں کام کرتا ہے۔ ہم نے اپنے بچپن

Read more

بد اخلاق معاشرے کی تشکیل میں آپ کیسے کردار ادا کر سکتے ہیں ؟

بداخلاق معاشرے کی تشکیل میں آپ کیسے کردار ادا کر سکتے ہیں؟ اس کا طریقہ انتہائی آسان ہے، آپ عمر کے کسی بھی حصے میں ہوں، آپ اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔ والدین کے لئے طریقہ کار : بچے کو پیدا کریں اور بھول جائیں، جس نے دنیا میں بھیجا ہے وہ پال بھی دے گا، آپ اگلے کی تیاری پکڑیں۔ اگر آپ کے بچے ایک سے زیادہ ہیں تو انہیں بڑے چھوٹے کی تمیز بالکل مت سکھائیں، ہاں خاندان

Read more

طارق عزیز: ہمزاد دا دکھ

زندگی میں آپ جن لوگوں سے محبت رکھتے ہیں وہ مرتے دم اس زمانے کو بھی ساتھ لے جاتے ہیں جو آپ کے ہمراہ گزرا تھا۔ انسان کی زندگی قطرہ قطرہ ختم ہوتی ہے۔ اپنی قبر میں جانے تک وہ اپنے پیاروں کی قبروں میں ٹکڑے ٹکڑے دفن ہوتا ہے۔ طارق عزیز اکیلا نہیں گیا، کروڑوں مداحوں کا زمانہ اس کے ساتھ دفن ہوا ہے۔ وہ صدا کار ایسی صدا دیتا تھا جو دل میں گھر کرتی تھی۔ گلی گلی،

Read more

صحافت کے قیدی

فیلڈ میں نئے آنے والوں کے لئے اخبار کا ایڈیٹر تقریباً فرعون ہوتا ہے۔ اگر ان کی زبان عام آدمی سن لے تو یہ سیالکوٹ والا واقعہ تو عشر عشیر بھی نہیں۔ میں بڑے انہماک سے کرئیر کے ابتدائی دنوں میں اپنے ایک سینئر دوست کی کہانی سن رہا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ

” میں اجازت لے کر کمرے میں داخل ہوا تو ایڈیٹر صاحب نے شکل دیکھی، کرسی کی جانب اشارہ کر کے بیٹھنے اور آمد کا مقصد بیان کرنے کو کہا۔ میں نے بتایا کہ سر میں پچھلے دو مہینے سے نیوز روم میں سب ایڈیٹر کے طور پر کام کر رہا ہوں۔ ایڈیٹر نے کہا۔ تو۔ تو سر تنخواہ نہیں ملی۔ ایڈیٹر نے میری طرف دیکھا، چہرے کے تاثرات بدلے اور پنجابی میں کہا ’چل دوڑ‘ ۔“

یہ دوست وہاں سے ایسا دوڑا کہ اس نے صحافت کی نوکری پر تین حرف بھیج دیے۔ سولہ سال کی تعلیم حاصل کرنے اور پھر دو مہینے نوکری کے بعد ایسی تذلیل وہ عمر بھر نہیں بھولا۔

Read more