کچی آبادی میں سچی کہانیاں

مجھے یاد ہے کہ میں نے کبھی خواب میں بھی یہ نہیں سوچا تھا کہ میں صحافی بنوں گا۔ بچپن سے لے کر تعلیمی دور تک، نہ تو اس شعبے سے کوئی خاص لگاؤ تھا اور نہ ہی اس کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی تھی۔ تاہم، کالج تک پہنچنے پر اخبار پڑھنے اور کالم لکھنے کا شوق ضرور پیدا ہو گیا تھا۔ کیونکہ میں سائنس کی تعلیم حاصل کر رہا تھا، اس لیے آرٹس کے کسی مضمون کا تصور بھی نہیں تھا۔ لیکن تعلیمی ناکامیوں کے بعد جب کوئی اور راستہ نہ بچا، تو میں نے بی اے آرٹس میں کیا اور بعد ازاں ماس کمیونیکیشن میں داخلہ لینے کی کوشش کی۔ اس میں ناکامی کے بعد پولیٹیکل سائنس میں ماسٹرز مکمل کیا۔ اس دوران، صحافت اور صحافیوں کے ساتھ ایک انوکھی محبت جاگ اٹھی۔ نہ چاہتے ہوئے بھی، میں آہستہ آہستہ اس شعبے کی طرف بڑھنے لگا۔ اب، پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو اندازہ ہوتا ہے کہ صحافت میں دوستی، صحافیوں سے تعلقات، کام کے تجربات، تربیتی ورکشاپس میں شرکت اور اخبارات میں لکھنے کا سفر کس قدر آگے بڑھ چکا ہے۔ گزشتہ ماہ، معروف صحافی اور میڈیا ٹرینرز، جناب عون ساہی اور سبوخ سید کی میڈیا ٹریننگ کے دوران، صحافت کے بنیادی اصولوں کو نئے زاویوں سے سمجھنے کا موقع ملا۔ ان تجربات سے اخذ کردہ چند اہم نکات پیشِ خدمت ہیں۔
1: صحافت کی بنیاد ایک مشن: مشن جرنلزم
جرنلزم کبھی محض کام نہیں تھا، یہ ایک مشن تھا، جسے خاص نقطہ نظر اور لینز سے دیکھا جاتا تھا۔ اس لئے صحافی کو مسائل اور وسائل بہانہ بنانا اچھا نہیں لگتا ہے، کیونکہ صحافی اپنا راستہ بناتا ہے۔
2: تصویری کہانی کا فن: لفظوں سے تصویر کشی
صحافی کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایسا لکھے کہ پڑھتے ہوئے قاری کے ذہن میں تصویر بن سکے۔ آج کے دور میں صحافی کہانی کار بنیں، کہانی کا نشانہ بنیں۔ اپنی حفاظت سب سے اہم ہے۔
3: مطالعے کی عادت:
مطالعہ ایک صحافی کے لیے لازم ہے۔ بین السطور پڑھنے اور گہرے تجزیے کی عادت اپنانا ضروری ہے۔
4: انسانی جذبات کی نفسیات:
صحافی کسی بھی خطے یا معاشرے میں کام کرے، اُسے یہ سمجھنا چاہیے کہ انسانی جذبات ایک جیسے ہوتے ہیں۔ ایک اچھا صحافی انہیں سمجھ کر اپنی کہانیوں میں پیش کرتا ہے اور علاقائی روایات اور انسانی وقار کو ترجیح دیتا ہے۔
5: میڈیا کی مثبت طاقت کا ادراک:
صحافی کو یہ جاننا ضروری ہے کہ میڈیا کس طرح معاشرے کی ذہن سازی کرتا ہے اور عوام کے سوچنے کے انداز کو متاثر کرتا ہے۔ اس لئے عوامی مفاد کے لئے صحافی کو دستیاب وسائل کو مثبت انداز میں استعمال کرنا چاہیے۔
6: رپورٹر کی اہمیت:
رپورٹر صحافت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ اس لئے اسے صحافت کا نایاب جانور کہا جاتا ہے۔ سیاست، مذہب، اور صحافت کے درمیان تعلق کو سمجھنا ہر صحافی کے لیے ضروری ہے۔
7: جدید دور کے تقاضے :منفرد انداز اپنانا:
ڈیجیٹل میڈیا، اے آئی، اور چیٹ جی پی ٹی کی آمد نے صحافت کی رفتار بدل دی ہے، لیکن صحافت کی اخلاقیات اور اصول وہی ہیں۔ ہم لکھتے الفاظ میں ہیں لیکن سوچتے تصویر میں ہے۔ جدید دور میں رپورٹر سے صحافی بننے تک کا سفر ایک اہم سنگ میل ہے۔
یاد رہے کہ صحافی کی طاقت عوام کا تحفظ ہے جس کی بدولت وہ بڑے بڑے لوگوں سے سوال کرتا ہے۔ وہ اجتماعی معاشرے کی بہتری کے لئے آواز اُٹھتا ہے۔ جرنلسٹ سے میڈیا ٹرینر کا سفر ایک طویل سفر ہے جس کی طرح صحافیوں کو ہونا چاہیے۔ اس کے علاوہ سیاق و سباق کو سمجھنے کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہے۔ عام طور پر میڈیا ہاؤسز میں خبر بنانے اور چلانے میں وہی پرانے اور روایتی طریقہ کار رائج ہیں۔ ضروری نہیں کہ آپ بھی انہی روایات پر عمل پیرا ہوں بلکہ جہاں سے آپ نئی شروعات کریں گے وہیں سے لائن شروع ہوگی۔ آپ کو کچھ منفرد کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ڈیجیٹل میڈیا کی آمد اے آئی اور چیٹ جی پی ٹی کی بدولت صحافت کی رفتار تبدیل ہوئی ہے جبکہ صحافتی اقدار ہمیشہ سے وہی ہیں اور رہیں گی۔
عون ساہی نے کہا کہ صحافی پر کوئی چیز نازل نہیں ہوتی۔ جو معلومات صحافی کو ملتی ہیں، ان کی تصدیق اور دوبارہ تصدیق کرنا بہت ضروری ہوتا ہے۔ صحافی کو کہیں سے جو معلومات ملتی ہیں، اسے عوام تک پہنچانے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ یہ ایک عام غلط فہمی ہے کہ صحافی ہر چیز کے بارے میں جانتے ہیں۔ ایسا ضروری نہیں کہ انہیں ہر چیز کا علم ہو، لیکن یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے کام کو سمجھیں اور جانیں کہ دستیاب معلومات کو کس طرح موثر انداز میں عوام تک پہنچانا ہے۔
جب کبھی کسی صحافی کو کوئی بہترین سٹوری نہ ملے تو اُسے کچی آبادیوں کا رخ کرنا چاہیے وہاں بے شمار سچی کہانیاں موجود ہوتی ہیں، بس نئی نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

