پانی زندگی ہے اور اس کا زیاں موت

جون، جولائی کے رمضان المبارک میں طویل روزے کے بعد افطاری میں انواع اقسام کی نعمتیں میسر ہوتی ہیں، اِدھر کھجور تو اؔدھر دہی بھلے۔ یہاں پکوڑے تو وہ سامنے فروٹ چاٹ۔ لیکن مجال ہے جو کسی کم بخت کو پانی اور شربت کے سوائے کچھ دکھائی دے جائے۔ اِدھر موذن نے اللہ اکبر کی صدا بلند کی نہیں ادھر پانی پہ حملہ ہوا نہیں۔ دھڑادھڑ پانی کے کٹورے اور گلاس گلے کو تر کرتے کرتے پیٹ کے خالی دوزخ کو بھی بھرتے جاتے ہیں۔ اؔس وقت کچھ دیر ٹھہر کے پچھلے پندرہ، سولہ گھنٹے کی پیاس کے مارے سوکھے و خشک گلے سے اٹھنے والی العطش العطش کی صداؤں پہ غور کیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ صاف اور میٹھا پانی ہے کیا۔

جی ہاں پینے کا صاف اور میٹھا پانی۔ جس کی کمی اس وقت دنیا بھر کو درپیش ہے۔ ہر گزرتے سال کے ساتھ ساتھ فی آدم قابلِ استعمال پانی کی مقدار کم ہوتی جارہی ہے۔ دیکھا جائے تو پانی کی کمی ایک چھپے دشمن کی طرح خاموشی سے اپنے پاؤں پھیلاتی جارہی ہے، جس دن اچانک یہ کمی ناپیدگی میں بدل جائے گی تب ہمارے ہاتھ کچھ نہیں ہوگا۔ لیکن اس لمحہِ موجود میں ہمیں ہوش نہیں یا ہم ہوش میں آنا چاہتے نہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومتی اداروں سے لے کر افراد تک کوئی بھی پانی کے مسئلے کو لے کر سنجیدہ نہیں۔

ہم شاید دنیا میں انوکھی اور اکیلی قوم ہیں جو ڈیم جیسے منصوبوں کی مخالفت کرتے ہیں۔ نوے کی دہائی میں مکمل ہوجانے والا کالا باغ ڈیم ہماری مضحکہ خیز منطق کے ہاتھوں قوم کا اربوں روپیہ بنا پانی کے ہی بہا لے گیا۔ کسی کو کوئی فکر ہی نہیں۔ اکیسویں صدی پہ دستک ہمیں بھاشا، دیا میر ڈیم کے افتتاح کی صورت میں دینی چاہیے تھی۔ لیکن نئے دور پہ دستک مردہ جسم کہاں دیتے ہیں۔

کہتے ہیں کہ حکمران اپنی رعایا کا پرتو ہوتے ہیں۔ جیسی رعایا ویسے حکمران۔ پانی کے معاملے میں تو ہمیں یہ ایک دوسرے پر بازی لے جانے کی کوشش میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ اگر حکومتیں اپنی نااہلی کی وجہ سے ڈیم بناکر پانی کو محفوظ بنانے میں ناکام رہی ہیں تو عوام بھی میسر پانی کو ضائع کرنے میں کچھ پیچھے نہیں۔ بطورِ مسلمان ہمیں وضو کے بچے ہوئے پانی کو بھی ضائع کرنے کی اجازت نہیں لیکن ہم صرف ٹوتھ پیسٹ کرتے کرتے کتنا پانی ضائع کردیتے ہیں۔ محلوں، بازاروں کے نلکوں سے بے وجہ بہنے والے پانی کو آگے بڑھ کر نہ روکنا بھی کیا ظلم نہیں؟ صاف اور میٹھے پانی سے روزانہ گاڑیوں کو دھو دھو کر چمکانے والے نہیں جانتے کہ اِس ضائع کی گئی ایک ایک بوند کا حساب دینا پڑے گا۔

اور حساب دینا پڑے گا کیا، حساب تو بس شروع ہوچکا شاید۔ غور کیجیے ذرا موسمیاتی تبدیلیوں پر۔ گرمی کے بڑھتے دورانئے پر اور ہر سال گھٹتی ہوئی سردی پر۔ سن دوہزار سولہ کے ماہِ ستمبر سے دسمبر کے اختتام تک بارش کی اک اک بوند کو لوگ ترس گئے۔ کھیت کھلیان سوکھنے لگے۔ گنے کی فصلوں سے گندم کے کھیتوں تک ویرانی سی چھارہی تھی۔ ہریالی کہیں کھو رہی تھی اور سوکھی زرد چڑیل منہ کھولے کھڑی تھی۔ نمازِ استسقا جگہ جگہ منعقد کی گئی۔ بارشوں کے لیے دعائیں مانگی گئیں۔ اور پھر آخر کار جنوری میں قحط سالی کا زور ٹوٹا۔

لوگ حیران کہ بارش کیوں نہیں ہورہی تھی۔ سادہ سی بات کسی کی سمجھ میں کیوں نہیں آتی کہ جیسے لوہا لوہے کو کاٹتا ہے ویسے ہی پانی پانی کوکھینچتا ہے۔ نیچے پانی ہوگا تو اوپر سے پانی برسے گا۔ جسے میسر پانی کی قدر نہیں اسے مزید پانی کی امید بھی نہیں رکھنی چاہیے۔

میٹھے اور تازہ پانی کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لئے دنیا بھر میں اقوام متحدہ کے تحت سن 1993 سے ہر سال 22 مارچ کو بین الاقوامی یومِ آب منایا جاتا ہے۔ تازہ اور میٹھے پانی کی کمی کی وجہ سے آنے والے دور میں ہم کس قسم کی نازک صورتحال سے گذر سکتے ہیں اس سے آگاہی دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس سلسلے میں سٹیج پروگرامز، میوزک شوز وغیرہ کے ذریعے چندہ جمع کیا جاتا ہے تاکہ دنیا بھر میں صاف پانی کی رسائی ممکن بنائی جاسکے۔

ہر سال تازہ پانی سے متعلقہ مسائل کو پیش کرنے کے لیے کوئی نا کوئی تھیم چنا جاتا ہے۔ سن 2017 کے لیے چنا گیا تھیم ہے
“Why Waste Water”
اس تھیم کے ذریعے کثیف پانی کو کم کرنے اور دوبارہ قابلِ استعمال بنانے پر بات کی جارہی ہے۔ ری سائیکل شدہ پانی صنعتوں اور زرعی مقاصد کے لئے مفید ثابت ہوسکتا ہے۔ اور اس کو استعمال میں لاکر میٹھے پانی کو بچایا جاسکتا ہے۔

موسمیاتی اثرات کے تحت رونما ہونے والی تبدیلیوں کے شکار ممالک میں ہمارا ملک بھی شامل ہے۔ سالوں میں پگھلنے والے گلیشئرز مہینوں میں پگھل رہے ہیں۔ جھیلوں اور ندیوں سے دریاؤں میں بہنے والا پانی ذخیرہ نہ کیے جاسکنے کے باعث سمندر کے کھارے پانیوں میں گھل مل جاتا ہے اور ہم لوگ ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں۔ صرف زبان سے پانی جیسی نعمت کے لئے اللہ کا شکر ادا کرنا کافی نہیں ہوگا، بلکہ اس نعمت کی قدر اسے ضائع ہونے سے محفوظ رکھ کر ہی کی جاسکتی ہے۔

محمد عادِل

Comments - User is solely responsible for his/her words