بشریٰ بی بی اپنے اصل ٹارگٹ تک


وہ انقلاب جو چوبیس نومبر کو آنا تھا۔ وہ پچیس کو پھوٹا ہے۔ اصل میں نہ تو یہ انقلاب ہے، نہ ہی شعور، نہ اخلاص وطن! یہ لا شعور کی شرارتیں ہیں۔ لاشعور جس کی خبر انقلاب ایران کی طرح پچاس سال بعد ہونی ہے جب کوئی لڑکی یونیورسٹی میں برہنہ ہو کر بیٹھ جائے گی۔ ایسا کیوں ہوا؟ یہ آپ نے خود سوچنا ہے۔
یہ سب لکھنے کا خیال کیونکر آیا اس لئے کہ جو نعرے ”انقلابی“ لگا رہے ہیں۔ وہ بات وہ خود نہیں سمجھ رہے کہ ان کو غیرت، آزادی اور شعور کے نام پہ راستہ کیسے بھٹکا دیا گیا ہے۔

اے رہبر کامل چلنے کو تیار تو ہوں پر یاد رہے
اس وقت مجھے بھٹکا دینا جب سامنے منزل آ جائے

آپ سب کے ساتھ بالکل ایسا ہی کیا گیا ہے جس کی طرف شاعر نے اشارہ کیا ہے۔
صوبائیت کی بات ہو گئی ہے، ذات اور جغرافیہ میں تقیسم کیا جا رہا ہے مگر اس کا فائدہ بھی اسی کو ہے جسے آپ انقلابی خود للکار رہے ہیں۔

بات کچھ یوں ہے کہ بشریٰ بی بی ایک ایسی خاتون ہیں جن کا تعلق بنیادی طور پہ پنجاب سے ہے اور پنجاب کے اس گھرانے سے جہاں موصوفہ نے قریب سے سیاست دیکھی ہوئی ہے۔ اس نے کبھی خواب پال لیا ہو گا کہ وہ بھی کسی پارٹی کی لیڈر ہو گی اور کبھی کسی ٹرک یا کنٹینر پہ کھڑی ہاتھ ہلا رہی ہو گی۔ وہ ”مبارک ہاتھ“ جو عالم ارواح کی مخلوقات کے سوا کسی اور نے نہیں دیکھا ہوا۔ بقول بہت سے دعوے داروں کے۔ خیر ان کو یہ بھی علم تھا کہ جس پارٹی سیاست کو وہ بہت قریب سے دیکھ رہی ہیں وہاں سے تو یہ خواب پورا ہو نہیں سکتا لہذا بے چاری خاتون نے رب جانے کتنے سال اس چال کو مال کرنے میں لگائے ہوں گے۔ کتنے جنات، چڑیلوں و موکلات سے ان کی ملاقاتیں و مباحث ہوئے ہوں گے اور وہ جو کہتے ہیں شکر خورے کو شکر مل ہی جاتی ہے۔ اسی دوران ریحام خان عمران خان کی دلہن بن گئیں۔

یہ وہ پہلا موقع تھا جب بشریٰ بی بی کو علم ہوا ہو گا کہ دولہا بننے کی ازلی، ابدی، لافانی خواہش تو پارٹی لیڈر میں ہے اور اس سے زیادہ بیوقوف و ناکام شوہر کسی مقدر والی کو مل سکتا ہے۔ آدھا کام تو ہو گیا تھا جو دوسری شادی کر سکتا ہے وہ تیسری چوتھی بھی آسانی سے کر سکتا ہے۔ شادی بس ایک جھجک ہے جو ایک بار اتر گئی تو اتر گئی۔

ریحام خان کی شادی کے آغاز سے ہی لگ رہا تھا یہ ایک ایسی شادی ہے جس نے ناکام ہو نا ہی ہے کیونکہ شوہر جوتے کپڑے جیسی گھریلو باتوں کو سکرین پہ ڈسکس کر رہا ہے اور دلہن بھی شادی کو بہت گلیمرائز سا کر کے پیش کر رہی ہے جس مرد و عورت کی ایک شادی ناکام ہو چکی ہو، اسے ڈر ہوتا ہے کہ یہ فطری و لافانی رشتہ نہیں مگر یہ کپل بہت بے خوف تھا۔ بے خوف رنگ لاتی ہے۔

ویسے بھی جس تعداد سے دوسری شادی اور طلاق کو گلیمرائز کیا جا رہا ہے جلد معاشرے میں چند شادی شدہ جوڑے رہ جائیں گے اور ان سے اس بنیاد پہ انٹرویو کیے جائیں گے کہ
” وہ ابھی تک شادی شدہ کیسے ہیں؟“
دوسرا سوال ہو گا
”ایک بار شادی شدہ کیسے ہیں؟“

اے آر رحمان، ایشوریا رائے، فردوس جمال اور دیگر چند مثالیں تازہ تازہ ہیں۔ یہ سیاق و سباق ضروری تھا اس لئے کہ ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ بشریٰ بی بی کس قدر قربانیاں دے کر اس مقام تک پہنچی ہیں

تو ہوا یوں کہ ریحام خان کی شادی کو جلد نظر لگ گئی اور دونوں ایک کتابی اولاد کے ساتھ الگ ہو گئے۔ کتاب آئی، چھا گئی۔ اولاد کو ہی والدین کے کیے کا بھگتنا پڑتا ہے۔ اب میدان صاف اور شفاف تھا جو کافی عرصہ سے میچ کے لئے تیار کیا جا رہا تھا۔ جلد ہی گندی گندی خبریں گردش کرنے لگیں۔ جلد ہی لوگ ریحام خان کو بھول گئے۔ جلد ہی کتاب پرانی ہو گئی کہ وقت کی رفتار تیز ہی بہت ہے۔

جلد ہی پتا چلا کوئی عدت والا نکاح ہوا ہے۔ جلد ہی مدت والی بات ہونے لگی۔ جلد ہی کسی نے کوئی خواب دیکھا۔ جلد ہی شوہر مانیکا سابقہ شوہر میں بدل گئے۔ جلد ہی سابقہ شوہر نے خواب شراب کی بات بتا دی۔ جلد ہی بیٹا گواہی لیے آ گیا، جلد ہی بیٹی کی طلاق ہو گئی۔ جلد ہی اس کی بھی دوسری شادی ہو گئی۔ بس ایک قیامت تھی جو آئی ہوئی تھی۔ کوئی اسے روک نہیں پا رہا تھا۔ جلد ہی اعلان عام ہو گیا کہ پارٹی لیڈر نے رب کی رضا کو رضا مانتے ہوئے تیسرا نکاح سادگی سے کر لیا ہے۔ یہ ہمارے سماج کا ایسا نکاح تھا جو مثال بن گیا۔

کم از کم پاکستان کے سب شوہر اندر سے ڈر گئے بلکہ کہنا چاہیے۔ وہ اپنے ڈر و غم کا اظہار نہیں کر سکتے تھے۔ ایسے میں وہی ہوا جو غم میں ہوتا ہے۔ جلد ہی پاکستانی شوہر خوف سے بوڑھے ہو گئے اور بوڑھا شوہر جوان ہو گیا کہ اس نکاح میں ایک ہی نوید تھا۔ جو وزیر اعظم ہاؤس میں رہتا تھا۔

جلد ہی الیکشن ہوئے اور سلیکشن ہو گئی۔ سائیکل پہ جانے کے وعدے کرنے والا ہیلی کاپٹر میں جھولے لینے لگا۔ ایک لاشعور نما کابینہ سامنے آئی جس میں وزیروں کو اپنے مشیروں کے نام اور پتے کا علم بھی نہیں تھا کیونکہ یہ کابینہ خلا میں جنات نے تشکیل دی تھی اور زمین پہ چڑیلوں اور ان کی سہیلیوں نے اسے مضبوطی سے سنبھال رکھا تھا۔ جلد ہی ہر قربانی دینے والے کو اس کی قربانی کا صلہ ملنے لگا۔
جلدی ہی قرضے کے نام پہ، حکومتی سکیموں کے نام پہ سب نے اگلے ذاتی الیکشن کی رقم اکٹھی کر لی۔ گھڑیاں، زیور چوری ہوئے یا کوئی ہوائی مخلوق لے گئی۔ زمین ہاتھ سے گئی، وہی تین سال میں تین طلاق جیسی بات بگڑتی چلی گئی۔ تحریک عدم اعتماد رات کی تاریکی میں ہوئی اور سب ختم ہو گیا۔

اے دل کی لگی چل یوں ہی سہی چلتا تو ہوں ان کی محفل میں
اس وقت مجھے چونکا دینا جب رنگ پہ محفل آ جائے

رنگ پہ محفل آ گئی لیکن اسے کیا فرق پڑتا تھا یہ سب ہوتا تو آج یہ دن آنا تھا۔ الیکشن ہوئے۔ جو نہیں ہو سکتا تھا وہ ہو گیا۔ چھوٹے میاں صاحب کرسی پہ آ گئے اور مریم نواز کو پنجاب مل گیا۔ باقی صوبے بھی ہمیشہ کی طرح اپنے پرانے نمائندے اسمبلی میں لانے میں کامیاب رہے۔ پنجاب مریم نواز کا خواب تھا، جس کے ہوتے ہوئے پارٹی کی ہر عورت کو پتا تھا الیکشن لڑنا بے کار ہے۔ یہ بات بشریٰ بی بی کو بھی پتا تھی اس لئے اس نے ”لاڈلی بیٹی“ کے مقابلے میں ”لاڈلی بیوی“ تک بات پہنچائی۔

قیدی نمبر آٹھ سو چار کے نام پہ سیاست کا نیا دور شروع ہوا ہے۔ پہلے انقلاب آنے تھے۔ مہنگائی اور چڑھائی کی باتیں ہوتی تھیں۔ اب ایجنڈے کا نام ”رہائی“ رکھا گیا ہے۔ ایک عورت جس نے کبھی کنٹینر پہ نہیں آنے کا عزم کیا تھا۔ اسے خیال آیا کہ اوہ اچھا یہ قیدی میرا شوہر ہے۔ وفا کرنی ہے۔ اس نے ایسی وفا کی کہ ایک پریس کانفرنس ہی کر ڈالی۔ ایسے بیان جاری کر دیے کہ خارجہ پالیسی کو ہتھوڑا مارا، ساتھ ہی ساتھ انقلاب کی کال دے دی۔

کیسا انقلاب؟ سن لو پنجاب ہم آ رہے ہیں۔ ہماری غیرت، تمہاری غیرت۔ مگر پنجاب کیوں سن لے؟ پارٹی لیڈر تو پنجاب کی ہے۔ یہ دھوکا کس کو دیا جا رہا ہے؟ یہ بیوقوف کس کو بنایا جا رہا ہے؟ وہ خواب جو بشری بی بی نے دیکھا تھا آج شرمندہ تعبیر ہو گیا ہے۔ وہ پارٹی کو قیدی کے نام پہ لیڈ کر رہی ہے۔ قیدی، قیدی ہی رہے۔ اسے اچھی بات اس کی لیڈر شپ کے لئے کیا ہو سکتی ہے۔ ایک نعرہ بھی مل گیا ہے کہ ”جانی تم کو رہا کروانا ہے“ اپنا کام بھی چل نکلا ہے۔ جلسہ بھی سجوانا ہے۔

یونہی وفا کرتے کرتے وہ اس پارٹی کی لیڈر بن جائے گی لیکن سب ترقیاتی کام اگر ہوئے پھر بھی پنجاب میں ہوں گے پھر آپ نے پنجاب کو گالی نکالنی ہے۔ معصوم لوگ باتوں سے بہل جائیں گے۔ چلتر چال چل جائیں گے ہوش تمہیں کب آئیں گے۔ قصہ مختصر بشریٰ بی بی نے سیاست میں باقاعدہ قدم رکھ لیا ہے۔ نہ نہ کہتے لڑکی نے ایجاب و قبول کر لیا ہے۔ اس نے اپنا خواب تعبیر کر لیا ہے۔

اے جذبہ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آ جائے
منزل کے لیے دو گام چلوں اور سامنے منزل آ جائے

Facebook Comments HS

One thought on “بشریٰ بی بی اپنے اصل ٹارگٹ تک

  • 28/11/2024 at 2:30 شام
    Permalink

    ایک شاعر تھے جراؑت۔ جرأت قلندر بخش۔
    ان سے منسوب ایک شعرلافانی ہے

    اس زلف پہ پھبتی شب دیجور کی سوجھی
    اندھے کو اندھیرے میں بڑی دور کی سوجھی

    جرات نابینا تھے ۔ایک روز فکر سخن کر رہے تھے انشا اللہ خان انشا آ گئے انھیں محو پایا تو پوچھا ۔ حضرت کس سوچ میں گم ہیں ۔ جرات نے کہا کچھ نہیں بس ایک مصرع ہوا ہے شعر مکمل کرنے کی فکر میں ہوں انشا نے کہا کچھ ہمیں بھی پتا چلے ۔ جرات نے کہا ! نہیں تم گرہ لگا کر مصرع چھین لو گے آخر بڑے اصرار کے بعد جرات نے بتایا ۔ مصرع تھا ۔۔اُس زلف پہ بھپتی شب دیجور کی سوجھی۔۔۔ انشا نے فوراً گرہ لگائی ۔۔ اندھے کو اندھیرے میں بڑی دور کی سوجھی”

    قصہ مختصر : یہاں بھی لکھنے والے کی سوچ کا حال اسی شعر پہ منطبق ہوتا ہے۔
    عمران خان کی حماقتیں اور مزید حماقتیں ہوں یا ان کی بیگم سے منسوب روحانی، سفلی یا موکلین کی کہانیاں
    یہ تو آپ نے اس خاتون کی خوب مارکیٹنگ کردی کہ ایک شخص جس کے دسمبر 2017 میں دور دور تک وزیراعظم بننے کئ امکانات نہیں تھے یہ خاتون اتنی دور اندیش تھیں یا مستقبل میں جھانک لیتی تھیں کہ انہوں نے جان لیا کہ یہ شخص مستقبل میں لازما وزیراعظم بنے گا اور میں خاتون اول اور پھر اگر یہ نہیں رہتا تو ملک کی وزیراعظم۔
    دیکھا جائے تو جو سوچا وہ ہوگیا۔ یادرہے خان صاحب کے پاس کبھی بھی اکثریت نہیں تھی پھر بھی وہ اتنا عرصہ کھینچ گئے۔ بقول آپ کے موکلین کی قوت سے۔
    باقی آپ کے الزامات جیسے عدت یا طلاق کب ہوئی تھی۔ اپ خود ایک خاتون ہیں۔ اللہ سے ڈریں آپ کے پاس کیا ثبوت یا گارنٹی ہے کہ کیا معاملات تھے۔ طلاق کب دی گئی تھی اور عدت جو تین ماہواری ہوتی ہے وہ پوری ہوئی تھی یا نہیں۔ شوق سے دوسروں پر انگلیاں اٹھائیں لیکن کیا پتہ وقت ایسے حالات آپ، یا آپ کی بہن بیٹی کسی کے ساتھ پورا کرکے "چکر” پورا کردے۔ اور یہ نہ بھی ہوا تو روز محشر اپ ہا کوئی اور کیا ثابت کرسکے گا کہ جو کچھ سنی سنائی باتیں آپ نے آگے بڑھائیں وہ سچ تھیں۔
    اگر بیگم رعنا لیاقت، نصرت بھٹو، عاصمہ جیلانی، بیگم کلثوم، بیگم کیپٹن صفدر، بیگم زرداری یعنی بے نظیر، غنوی بھٹو اپنے والد یا شوہر کا نام لیکر سیاست میں کود سکتی ہیں تو یہ خاتون کیوں نہیں اور وہ بھی اس وقت جب شوہر پابند سلاسل ہے۔

    آپ جیسوں کی حسرتوں پر جراؑت نے ہی ایک شعر کہا تھا

    بھری جو حسرت و یاس اپنی گفتگو میں ہے
    خدا ہی جانے کہ بندہ کس آرزو میں ہے

Comments are closed.