فرہنگ مزاح آفتاب اقبال کا سابقہ خاتون اوّل کو حکیمانہ مشورہ
گزشتہ دنوں سابقہ خاتون اوّل سوشل میڈیا پر نمودار ہوئیں اور مذہبی کارڈ کا بے دریغ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ ”میرے شوہر کو ارض مقدس میں ننگے پاؤں چلنے کی سزا دی جا رہی ہے، شریعہ کا داعی ہونے کی وجہ سے سعودی عرب نے ہماری حکومت کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا“
ہم نے تو شوہر محترم سے یہ سن رکھا ہے کہ امریکہ بہادر نے حکومت کا بستر گول کیا تھا۔ کیونکہ مہاتما ان کی آنکھوں میں بری طرح سے کھٹکتا تھا، دراصل مہاتما جی کشکول توڑنے کا عزم رکھتے تھے، بھلا صاحب بہادر کی امریکہ کو یہ خود مختاری کیسے بھلی لگ سکتی تھی؟
اور اب سابقہ خاتون اوّل فرما رہی ہیں کہ امریکہ کا تو اس میں کوئی چکر ہی نہیں تھا، یہ سارا کیا دھرا تو سعودی حکام کا تھا۔ عجب روحانی ٹبر ہے کہ جن کے بیانیے ہی آ پس میں نہیں ملتے۔
دونوں ہی سیانے ہیں، بس عوام بھولے ہیں جو ان کے مصلحتی بیانیوں کا شکار ہو جاتے ہیں، اسکرپٹ رائٹر اور اداکاروں کے بیچ مثالی تعلقات کی بدولت ہی تو کسی بھی پراجیکٹ کی بیل منڈھے چڑھتی ہے نا بھائی۔ بے سبب تو کچھ بھی نہیں ہوتا، ہر کہانی کے پیچھے کچھ تانے بانے اور اعشاریے ہوتے ہیں جو کہانی کو آ گے لے کر چلتے ہیں۔
حادثہ یک دم نہیں ہوتا، عوام سے کھلواڑ کرنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ عوام کو کس قسم کے جذباتی نعروں سے بہلانا ہے اور کس طرح کے جھنجنوں اور کھلونوں میں مصروف رکھ کر انہیں حقیقی مسائل سے لاتعلق یا اندھیرے میں رکھنا ہے؟
حقیقی آزادی اور امریکہ والا بیانیہ اس وقت کے لیے موزوں ترین تھا اور ننگے پاؤں والا بیانیہ آج کے پس منظر میں موزوں ہے، بیانیہ تشکیل دینے والے اور فلمانے والے دونوں ہی بہت چالاک ہوتے ہیں۔
مزے کی بات یہ ہے ان کا بال بھی بیکا نہیں ہوتا جبکہ عوام غربت کی وجہ سے خودکشی پر مجبور ہو جاتے ہیں اور المیہ یہ ہے کہ وہ ان ساری نا انصافیوں اور ظلم کو بھی اپنے گناہوں کا عذاب سمجھتے ہیں۔
سابقہ خاتون اوّل کے موجودہ موقف پر فرہنگ آصفیہ کے حقیقی ترجمان آفتاب اقبال نے لب کشائی کرتے ہوئے کہا ہے کہ سچ بولنے کا ایک وقت ہوتا ہے اور تمام سچ بولنے ضروری بھی نہیں ہوتے ہیں۔
بشریٰ بی بی کا کردار موجودہ پس منظر میں صرف اس حد تک ہونا چاہیے کہ وہ پبلک میں صرف اپنے شوہر کا پیغام منتقل کریں نا کہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کریں۔
اس سلسلے میں انہیں مہاتما کے سابقہ گرو جن میں احمد رفیق اختر بھی شامل ہیں، انہی کے دست راست ہارون الرشید سے رہنمائی لینی چاہیے جو انہیں گائیڈ کر سکتے ہیں کہ پبلک میں کیا کہنا ہے اور کتنا کہنا ہے۔
خود کے متعلق آفتاب جی کا خیال ہے کہ بشریٰ بی بی کے سوشل میڈیائی پیغام کو نشر کرتے وقت اگر میں موقع پر موجود ہوتا تو ان کو پورا سچ بولنے سے احتراز برتنے پر قائل کر لیتا۔
تاریخ کا المیہ دیکھیے کہ اب شکم بھرے دانشور ہمیں آدھ ادھورے اور پورے سچ کا فرق بیان کرنے لگے ہیں، رنگ برنگے اور لش پش محلات میں رہنے والے استحقاق یافتہ گیانی ہمیں یہ بتائیں گے کہ کون تاریخ کی صحیح سمت پر کھڑا ہے اور کون غلط سائیڈ پر؟
برانڈڈ لائف اسٹائل کی نمائش کرنے والے نمائشی دانشور اپنی سنوبری کا مظاہرہ کرتے وقت یہ تک بتانے میں بھی کوئی عار محسوس نہیں کرتے کہ مہاتما کو دوران جیل مطالعہ کرنے کے لیے کتابوں کی فہرست انہی نے بھجوائی تھی۔
سچ کیا ہوتا ہے؟
عوام سے زیادہ کوئی نہیں جانتا لیکن المیہ یہ ہے کہ یہاں سچ پر پردہ ڈالنے والے وچولے خاصے ہیں جو مصلحتوں کی چھتر چھایا میں لپیٹ لپاٹ کر ڈسٹارٹڈ قسم کے حقائق پیش کرتے ہیں۔ یہی برائے نام دانشور ہی تو ہوتے ہیں نا جو ہنسنے ہنسانے والوں میں بیٹھ کر گیان بانٹتے ہیں۔
روحانیت اور مذہب کی آڑ میں یہاں جو کچھ ہوتا رہا ہے اور ہو رہا ہے وہ سب کے سامنے ہے، اب آفتاب اقبال کس سچ کی بات کر رہے ہیں کون جانے؟
عمر کے آخری حصہ میں تو مشہور بیوروکریٹ روئیداد خان بھی بڑے سچ بولتا رہا ہے لیکن وہ ان حقائق سے قطعی مختلف تھے جو وہ طاقت کے نشے میں بولا کرتے تھے۔
کیا وہ قدرت اللہ شہاب کے سچ کی بات کر رہے ہیں جنہیں پبلک پراپرٹی بننے میں شہاب جی کی ریٹائرمنٹ تک کا انتظار کرنا پڑا، جو انہوں نے عمر کے آخری پڑاؤ میں ”صوفی لبادہ“ میں پیش کیے؟
سچ تو یہاں ممتاز مفتی، اشفاق احمد، بانو قدسیہ بھی لکھتے رہے ہیں اور لمحہ موجود میں بابا یحییٰ اور کچھ کلین شیو روحانی پیشوا بھی لکھنے کا دعویٰ رکھتے ہیں لیکن ان حقائق کے زیر سایہ جو نسل پروان چڑھی ہے وہ سوچ بچار سے بالکل عاری ہے اور وہ بڑی سہولت سے جذباتیت کا شکار ہو جاتی ہے۔



یاد رکھیں اگر آپ مسلمان ہیں تو۔۔۔”جھوٹے پر خدا کی لعنت ہوتی ہے”۔ اور اس کی نشانی یہ بھی ہے کہ وہ سنی سنائی بات کو بغیر تحقیق آگے بڑھادیتا ہے۔