پاکستان کے معاشی بحران اور آئی ایم ایف کے کردار پر تبادلہ خیال


پاکستان اس وقت ایک سنگین معاشی بحران کا سامنا کر رہا ہے جو کہ کئی دہائیوں پر محیط غلط معاشی پالیسیوں، بدعنوانی، سیاسی عدم استحکام، اور عالمی مالیاتی نظام کی پیچیدگیوں کا نتیجہ ہے۔ اس بحران نے ہر طبقہ زندگی کو متاثر کیا ہے، اور موجودہ صورتحال کا سب سے اہم پہلو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ کیے گئے معاہدے ہیں۔ اگرچہ یہ معاہدے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے کیے گئے، لیکن ان کی سخت شرائط اور ان کے اثرات نے عوام کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔

پاکستان کی معیشت 2024 تک ایک ایسے مقام پر پہنچ چکی ہے جہاں قومی قرضہ جی ڈی پی کے 75 فیصد سے تجاوز کر چکا ہے، جبکہ غیر ملکی ذخائر 4 ارب ڈالر سے بھی کم ہو چکے ہیں، جو صرف ایک ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی افراطِ زر 30 فیصد سے اوپر ہے، جو کہ 1970 کی دہائی کے بعد سب سے بلند سطح پر ہے۔ ان اعداد و شمار نے ایک واضح تصویر پیش کی ہے کہ پاکستان کو فوری معاشی استحکام کے لیے انتہائی اقدامات کی ضرورت ہے۔

آئی ایم ایف کے ساتھ حالیہ معاہدے کی شرائط میں روپے کی قدر کو مارکیٹ کی طلب و رسد کے مطابق چھوڑ دینا، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ، سبسڈیز کا خاتمہ، اور ٹیکسوں میں اضافے جیسے سخت اقدامات شامل ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد معیشت میں نظم و ضبط پیدا کرنا اور حکومتی آمدن بڑھانا ہے، لیکن ان کے نتیجے میں عوام کو بے تحاشا مالی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مثال کے طور پر، بجلی کے بلوں میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے، جس نے نہ صرف گھریلو صارفین بلکہ صنعتوں کو بھی متاثر کیا ہے، اور صنعتی پیداوار میں کمی دیکھی گئی ہے۔

روپے کی قدر میں شدید کمی نے درآمدی اشیاء کی قیمتوں کو غیر معمولی حد تک بڑھا دیا ہے، جس میں ایندھن اور اشیائے خورد و نوش شامل ہیں۔ پاکستان اپنی ضروریات کا 80 فیصد ایندھن درآمد کرتا ہے، اور عالمی منڈی میں قیمتوں میں اضافے کے ساتھ روپے کی قدر میں کمی نے مہنگائی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ عام آدمی کی قوتِ خرید کم ہو چکی ہے، اور خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد بڑھ کر 40 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

معاشی بحران کا ایک اور پہلو تجارتی خسارہ ہے، جو پاکستان کی معیشت کے لیے مسلسل بوجھ رہا ہے۔ ملک کی برآمدات، جو بنیادی طور پر ٹیکسٹائل اور زراعت پر مبنی ہیں، عالمی منڈی میں مسابقت کی کمی اور توانائی کے بحران کے باعث جمود کا شکار ہیں۔ دوسری طرف، درآمدات کے بل کو کم کرنے کی کوششوں کے باوجود ضروری اشیاء کی درآمدات جاری ہیں، جو کہ زرِ مبادلہ کے ذخائر پر دباؤ ڈال رہی ہیں۔

آئی ایم ایف کے معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد نے حکومت کو محصولات بڑھانے پر مجبور کیا ہے، لیکن پاکستان کا ٹیکس نظام تاریخی طور پر کمزور اور غیر منصفانہ رہا ہے۔ ملک میں ٹیکس ادا کرنے والوں کی تعداد 3 ملین سے بھی کم ہے، اور اس کا زیادہ تر بوجھ درمیانے اور نچلے طبقے پر آتا ہے۔ اس کے برعکس، اشرافیہ، زمیندار، اور بڑی کارپوریٹ کمپنیاں ٹیکس کی ادائیگی سے بچ نکلتی ہیں۔ ٹیکس اصلاحات کے بغیر، آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل درآمد نہ صرف مشکل بلکہ عوام کے لیے ناقابل برداشت ہو گا۔

معاشی بحران کے ساتھ سیاسی عدم استحکام نے بھی حالات کو مزید خراب کیا ہے۔ ملک میں جاری سیاسی محاذ آرائی اور عدالتی مداخلت نے معاشی پالیسیوں کے تسلسل کو متاثر کیا ہے۔ سرمایہ کار، چاہے وہ مقامی ہوں یا غیر ملکی، اس غیر یقینی صورتحال کے باعث محتاط ہیں، جس کی وجہ سے سرمایہ کاری میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔ پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری گزشتہ سال کے مقابلے میں 50 فیصد کم ہو چکی ہے، جو کہ صنعتی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

عالمی سطح پر بھی پاکستان کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔ کورونا وبا اور روس۔ یوکرین جنگ کے اثرات نے عالمی سطح پر اشیاء کی قیمتوں کو بڑھا دیا ہے، جس کا اثر پاکستان جیسے درآمدی انحصار والے ملکوں پر زیادہ ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، دوست ممالک جیسے چین، سعودی عرب، اور متحدہ عرب امارات سے ملنے والی مالی امداد بھی محدود اور شرائط سے مشروط رہی ہے۔

پاکستان کے لیے موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد راستہ ایک جامع اور پائیدار حکمتِ عملی ہے۔ اس میں برآمدات کو بڑھانے کے لیے صنعتوں کو جدید بنانا، زرعی پیداوار میں اضافہ، توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری، اور متبادل ذرائع کو فروغ دینا شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، حکومت کو فوری طور پر ٹیکس نظام میں اصلاحات کرنی ہوں گی تاکہ محصولات میں اضافہ ہو اور مالیاتی خسارہ کم کیا جا سکے۔

یہ بھی ضروری ہے کہ حکومت سماجی بہبود کے منصوبوں پر توجہ دے، تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ صحت، تعلیم، اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے والے منصوبے عوامی اعتماد کی بحالی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، شفافیت اور احتساب کے عمل کو مضبوط بنانا بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ بدعنوانی پر قابو پایا جا سکے اور عوامی وسائل کا درست استعمال یقینی بنایا جا سکے۔

پاکستان کے موجودہ معاشی بحران کو ایک چیلنج کے ساتھ ساتھ ایک موقع کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ اگر حکومت اور عوام مل کر درست فیصلے کریں اور اصلاحات کو ترجیح دیں، تو یہ بحران نہ صرف ختم ہو سکتا ہے بلکہ ایک مضبوط اور مستحکم معیشت کی بنیاد بھی رکھی جا سکتی ہے۔ لیکن اس کے لیے سیاسی عزم، دیانتداری، اور طویل مدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے، جو بدقسمتی سے پاکستان کی ماضی کی حکومتوں میں نظر نہیں آئی۔

Facebook Comments HS