تحریک انصاف: جیل کے تالے اور امیدوں کا بحران
پاکستان تحریک انصاف، جو اس وقت ملک کی مقبول ترین جماعت سمجھی جاتی ہے، شدید بحران اور پیچیدہ مسائل سے دوچار ہے۔ یہ حقیقت ہر قسم کے تعصب سے بالاتر ہو کر تسلیم کرنی چاہیے۔ چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد سے پارٹی کی قیادت نہایت مشکل حالات سے گزر رہی ہے۔ ان حالات میں قیادت کے درمیان اختلافات اور اراکین کی سنگین غلطیوں نے کارکنان اور پارٹی کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ یہ بحران نہ صرف اندرونی سطح پر محسوس کیا جا رہا ہے بلکہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر بھی اس کے اثرات دیکھے جا رہے ہیں۔
پارٹی کی قیادت نے بارہا موجودہ حکومت سے مذاکرات کی کوشش کی تاکہ سیاسی استحکام پیدا کیا جا سکے، لیکن حکومت نے اپنے سیاسی انتقام کی روش کو ترک کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ جمہوری اصولوں سے انحراف کرتے ہوئے حکومت نے مذاکرات کے تمام دروازے بند رکھے۔ تحریک انصاف کی قیادت کو یہ یقین ہو گیا کہ موجودہ حکومت کسی بھی قسم کی مفاہمت کے لیے تیار نہیں، جس کے بعد 24 نومبر کو ”آخری کال“ کے نام سے ایک بڑے احتجاج کا اعلان کیا گیا۔
احتجاج کے اعلان نے تحریک انصاف کے کارکنان کو ایک نئے جوش اور جذبے سے بھر دیا۔ ملک کے مختلف شہروں اور دیہات سے لوگ مضبوط ارادے اور بے مثال ولولے کے ساتھ اپنے گھروں سے نکلے۔ خلوص اور محبت سے سرشار کارکنان نے تمام رکاوٹوں کو پسِ پشت ڈال دیا۔ دورانِ سفر قیادت کی جانب سے کچھ ہچکچاہٹ کا مظاہرہ دیکھنے کو ملا، مگر کارکنان کے غیر متزلزل عزم نے انہیں آگے بڑھنے پر مجبور کر دیا۔ یہ منظر یقیناً یادگار تھا، کیونکہ یہ ظاہر کر رہا تھا کہ عوام کی حمایت تحریک انصاف کے ساتھ ہے، خواہ قیادت کسی بھی قسم کی الجھن کا شکار ہو۔
کارکنان نے آنسو گیس، شیلنگ، لاٹھی چارج، اور ربڑ کی گولیوں جیسے سخت حالات کا سامنا صبر و استقامت کے ساتھ کیا اور بالآخر ڈی چوک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ تاہم، رات کے وقت ریاست کی جانب سے ایک غیر متوقع اور بے مثال ردعمل سامنے آیا۔ انتہائی بے رحمی کے ساتھ کیے گئے آپریشن نے نہ صرف کثیر جانی و مالی نقصان پہنچایا بلکہ مظاہرین کی ہمت بھی توڑ دی۔ ذرائع کے مطابق، زخمیوں اور مرنے والوں کی تعداد سینکڑوں میں بتائی جا رہی ہے، تاہم درست اعداد و شمار تاحال منظرِ عام پر نہیں آ سکے۔
یہ واقعہ ہماری قومی تاریخ میں ایک اور افسوسناک باب کا اضافہ کرتا ہے۔ ریاستی جبر کے علاوہ، پارٹی کی اپنی قیادت کی بے وفائی اور غیر منظم حکمت عملی نے کارکنان کو مایوس کیا۔ یہ بات قابلِ غور ہے کہ عوام ریاستی طاقت کا مقابلہ نہیں کر سکتی، مگر یہ بھی دانشمندانہ حکمت عملی نہیں کہ قیادت میدان چھوڑ کر احتجاج کو ختم کرنے کا اعلان کرے۔ قیادت کی غیر یقینی اور نا اہلی نے کارکنان کے جوش کو پست کر دیا اور عوام میں تحریک انصاف کے حوالے سے بے چینی پیدا کی۔
اس احتجاج کے اختتام پر نہ صرف پاکستان تحریک انصاف کو جانی اور مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا بلکہ اسے ایک بڑا سیاسی دھچکا بھی لگا۔ پارٹی کی ساکھ متاثر ہوئی، اور کارکنان کا اعتماد بھی متزلزل ہو گیا۔ آئندہ کے لیے اتنی بڑی تعداد میں کارکنان کو دوبارہ جمع کرنا ایک بڑا چیلنج ہو گا۔ اس کے ساتھ ساتھ، عمران خان کی رہائی میں مزید تاخیر اور مشکلات پیدا ہونے کا امکان بڑھ گیا ہے۔
پارٹی کے اندرونی مسائل بھی نمایاں طور پر ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ بشریٰ بی بی کی سیاست میں ناتجربہ کاری اور پارٹی کے بعض رہنماؤں کی غیر ذمہ داری نے اس بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ پارٹی کو چاہیے کہ وہ اپنی اندرونی صفوں کو منظم کرے اور ایک ایسی حکمت عملی ترتیب دے جو کارکنان کے اعتماد کو بحال کر سکے۔
تحریک انصاف اس وقت تاریخ کے سب سے بڑے سیاسی بحران سے گزر رہی ہے۔ قیادت کو چاہیے کہ وہ اپنی خامیوں کو تسلیم کرتے ہوئے مستقبل کے لیے واضح اور مضبوط حکمت عملی وضع کرے۔ کارکنان کی قربانیوں کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ پارٹی اندرونی اتحاد کو فروغ دے اور عوام کی حمایت دوبارہ حاصل کرے۔ اگرچہ حالات پیچیدہ ہیں، لیکن یہ حقیقت بھی واضح ہے کہ تحریک انصاف کے کارکنان کا عزم اور ولولہ اس جماعت کی اصل طاقت ہے۔
یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے، ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ سیاسی جدوجہد کبھی آسان نہیں ہوتی۔ یہ بات کرتے ہوئے مجھے غالب کا یہ شعر یاد آتا ہے کہ
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے میرے ارماں، مگر پھر بھی کم نکلے
تحریک انصاف کے لیے بھی یہ سفر ایسا ہی ہے، جہاں خواہشیں اور ارادے تو مضبوط ہیں، مگر ان کی تکمیل کے لیے قربانیوں کا ایک طویل سلسلہ درکار ہے۔ جیل کے تالے کھولنے کا خواب اب مزید پیچیدہ ہو چکا ہے، لیکن امید کا دامن ہاتھ سے چھوڑنا اس جدوجہد کے مقصد سے انحراف ہو گا۔


