عدت کا حصار


اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ہر حکم میں کوئی نہ کوئی ایسی حکمت پوشیدہ ہے، جس تک انسان کی نظر نہیں جا سکتی۔ وہ اصول، جو قرآن و سنت کی رو سے طے شدہ ہیں، انہیں سنجیدگی سے جاننے کی ضرورت ہے۔ روزمرہ زندگیوں میں ہم نے بہت سے معاملات یہ کہہ کر چھوڑ رکھے ہیں کہ جب ضرورت پڑے تو کسی سے پوچھ لیں گے۔ یا پھر دیکھا دیکھی اپنا لیتے ہیں اور معاشرے میں فضول رسوم کو بڑھاوا دے دیتے ہیں۔ زندگی تو خیر گزر ہی جاتی ہے لیکن جس حد پہ اس کا اختتام ہوتا ہے، وہاں اکثر انسانی رویے، بدحواسی پر مبنی ہوتے ہیں۔ ہم میں سے اکثر کی سوچ یہی ہوتی ہے کہ ہم کسی سے فتویٰ لے لیں گے۔

ایسا ہی ایک معاملہ عدت کا ہے۔ قرآن و سنت کی رو سے ہر پیارے کی وفات پر تین دن کے سوگ کا حکم ہے۔ اس میں حکمت یہ ہے کہ اس کے بعد لواحقین اپنی روزمرہ زندگیوں میں مصروف ہو جائیں۔ کیونکہ اگر وہ سب کچھ چھوڑ کر بیٹھ جائیں تو کبھی اس کیفیت سے نہیں نکل سکیں گے۔ لیکن شوہر کی وفات کے بعد ، چار ماہ، دس دن کا عرصہ سوگ، بالخصوص عدت کے نام سے مقرر کیا گیا ہے۔ بعض فرقے ایسے بھی ہیں، جو ان حدود کو نہیں مانتے۔ لیکن زیادہ تر کے نزدیک عدت کی مدت یہی ہے۔ یہ واحد رشتہ ہے، جس کے لیے ایسا حکم دیا گیا ہے۔ لہٰذا اسلامی نقطہ نظر سے یہ مدتِ سوگ بہت اہم ہے، جسے معاشرے نے عجیب گھمن گھیری سی بنا دیا ہے۔ یہ ایسی صورتِ حال ہے، جو بعض اوقات اچانک بھی سامنے آ جاتی ہے۔ ہمارے معاشرے کا ہر فرد اس موقع پر اپنی رائے دینا ضروری سمجھتا ہے۔ ویسے تو یہ ہر خاتون اور اس کے گھر کا ذاتی مسئلہ ہے، لیکن سنی سنائی باتوں پر عمل کر کے مختلف رویوں سے ہم سب اپنی رائے دینا ضروری سمجھتے ہیں۔ بغیر یہ احساس کیے، کہ جس تن لاگے، سو تن جانے۔

اس تازہ غم میں کہیں تو بیوہ کو جنازے کے ساتھ گھر سے باہر نکالا جاتا ہے، کہ یہ ضروری ہے۔ کہیں ایسا دیکھنے میں آتا ہے کہ وفات کے بعد تدفین، کسی اور شہر میں کر نے کے بعد واپسی پہ عدت کا آغاز کیا جاتا ہے۔ کہیں یہ اہتمام کیا جاتا ہے کہ بیوہ کو مکمل ایک کمرے کا پابند کیا جائے کہ وہ عدت کی مدت وہیں گزارے گی۔ کہیں رشتے دار اپنے گھر لے جانے کا تقاضا کرتے ہیں کہ وہ بھائی بہن کے ساتھ وقت گزار سکے۔ ایسے ہی کبھی بیوہ کو عید، تہوار، یا کسی رسم کے لیے بلایا جاتا ہے اور اس کے نہ جانے پر برا منایا جاتا ہے۔ کہیں رشتے دار ملنے آتے ہیں اور خاتون شرعی پردے کا عذر کرے تو برا منایا جاتا ہے۔ استثنائی مثالیں بھی ہیں کہ کچھ خواتین اس سے آزادی چاہتی اور کسی پابندی پہ عمل نہیں کرنا چاہتیں۔ اکثر کہا جاتا ہے کہ اب کون ان پابندیوں کی پرواہ کرتا ہے۔ یہ تو پرانے زمانے کی باتیں تھیں۔ غرض، جتنے منہ، اتنی باتیں۔

اس موقع پر یہ سمجھنے اور سمجھانے کی ضرورت ہے کہ عدت محض ایک لفظ نہیں، یہ پوری مدت خاص احکامات کے تحت مقرر کی گئی ہے۔ نوجوان بیواؤں کے مسائل الگ ہوتے ہیں، ادھیڑ عمر یا عمر رسیدہ خواتین کے الگ۔ لیکن ان تمام احکامات پر عمل کرتے ہوئے ایک چیز مشترک ہوتی ہے اور وہ ہے مستقل حزنیہ کیفیت۔ چار ماہ، اور دس دن کا یہ عرصہ اس غم کو برداشت کرنے، ایصالِ ثواب اور اگلی زندگی کی منصوبہ بندی کرنے کے لیے، اللہ تعالیٰ نے عورت کو سہولت کے طور پر دیا ہے، نہ کہ مسائل کو بڑھانے کے لیے۔ ہمارے ہاں انسانی رویے مختلف ہیں۔ وہ سب لوگ جو میت کی تدفین کے بعد رخصت ہو جاتے ہیں، وہ اس عرصہ سوگ میں مختلف تجاویز دینے کے لیے حاضر رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ نوجوان بیواؤں کی دوسری شادی کے پروگرام، اس کی اجازت کے بغیر بنتے نظر آتے ہیں۔ عمر رسیدہ خواتین کی آئندہ زندگی اور رہائش کے مسائل بھی ان کے علم کے بغیر عمل میں لائے جاتے ہیں۔ بہت خود مختار خواتین کی زندگیاں بھی اس عرصے میں دوسروں کے ہاتھوں میں ہوتی ہیں۔ حالانکہ متعلقہ خاتون تو ایک مستقل غم میں مبتلا اور دن رات کی سوچوں کے خلفشار کا سامنا کرتی رہتی ہے۔ بہت کم لوگ اس عرصے میں اس کی کیفیت کو محسوس کرتے، جانتے یا اصل میں غم بانٹتے نظر آتے ہیں۔ قرآنِ مجید میں، سورہ بقرہ میں واضح احکام ہیں کہ بیوہ کی عدت کے دوران، اس کا خیال کس، کس طرح سے رکھا جانا چاہیے۔ خاص طور پر سسرال والوں کے فرائض کو وضاحت سے بیان کیا گیا ہے۔ جب کہ صورتِ حال اس کے بر عکس ہوتی ہے۔ بے چاری بیوہ اسی انتظار میں یہ مدت گزار دیتی ہے کہ؛

کوئی تو آ کے ہم سے پوچھ لیتا
بھلا کیسے وہ دن ہم نے گزارے

ایسا نہیں کہ اس خاتون پر کوئی زبردستی کی جا رہی ہو۔ یہ تمام احساسات اختیاری ہوتے ہیں اور اس مدتِ سوگ میں بیوہ ہر دن اور ہر رات ایک مستقل تکلیف میں گزارتی ہے۔ شوہر کے بچھڑ جانے کے بعد وہ نفسیاتی طور پر کمزور ہو چکی ہوتی ہے۔ اس دوران یہ بہت ضروری ہے بیوہ خاتون کی نفسیاتی، جسمانی، مالی، معاشرتی، ضروریات کا خیال رکھا جائے۔ اس کیفیت میں اس کے سونے، جاگنے، عبادت، خوراک، مالی مسائل اور ضروریات کا خیال رکھنا نیکی ہے۔ وقتاً فوقتاً، اس کا حال دریافت کرنا، اس کے لیے آسودگی کا باعث بنے گا۔ اگر عزیز، رشتے دار اس مدت کے دوران اسے یہ حوصلہ دیں کہ وہ اس کے ساتھ ہیں تو عین ممکن ہے کہ اس عرصے میں وہ خود ان سے کئی مشورے طلب کریں۔

اس کے برعکس ہم نے کئی بدعتیں پال رکھی ہیں۔ ہم بیوہ کی عدت کے بعد اسے عدت سے اٹھانے کا خاص اہتمام کرنے لگے ہیں۔ اس موقع پر دعوتوں، تحائف اور تقاریب کا انعقاد اکثر دیکھنے میں آتا ہے۔ حالانکہ احکامِ الٰہی میں اسے بہت آسانی دی گئی ہے۔ اگر ان احکام سے رہ نمائی لی جائے تو نہ صرف بیوہ بلکہ تمام گھر والے اس عرصہ کو خوش سلیقگی سے گزار سکتے ہیں۔ جس گھر میں اس خاتون کے شوہر کا انتقال ہوا، اسی گھر میں اور اسی وقت سے عدتِ وفات کا آغاز ہو جاتا ہے۔ اور اسی گھر سے چار ماہ، دس دن بعد ، زندگی کے معمولات میں شریک ہونے کی اجازت بھی اسے مل جاتی ہے۔ اللہ نے تو اس حد تک آسانی کی ہے کہ اگر کسی خاتون کا کوئی نہ ہو تو اسے شرعی پردے کے ساتھ باہر جانے اور اپنے بچوں کے لیے کمانے تک کی اجازت دی ہے۔ البتہ غیر ضروری طور پر کہیں بھی جانے کی ممانعت ہے۔ بعض خواتین جب خود کسی بھی کام کو ضروری خیال کرتی ہیں تو انہیں یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ جب عدت کے دوران، عورت کو شوہر کی قبر پہ جانے کی اجازت نہیں تو اور کس چیز کی مجبوری ہو گی؟ اسی طرح میک اپ یا دیگر حاجات اور عدت کی مدت کو کم کرنے کے لیے فتوے لینے کے بجائے، ہمیں اس دوران اللہ کے احکامات کو مکمل طور پہ پورا کرنے پر زور دینا چاہیے۔ عدت کی مکمل شرعی پابندی ایک شوہر کے لیے باقاعدہ تحفے کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس تحفے کو ایمان داری سے حق دار تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔

عدت کے سلسلے میں ایک اور بات بہت اہم ہے، وہ ہے، اس مدت کا اختتام۔ جو خواتین یہ عرصہ گزار چکی ہیں، ِ انہیں بہ خوبی علم ہے کہ عدت صرف ایک لفظ نہیں، جب آپ اس لفظ کو برتتی ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا بہت وزن ہے۔ عدت کا ایک خاص حصار ہے، جس میں رہتے رہتے، آپ اس کے عادی ہو جاتے ہیں۔ جس طرح آغاز میں اس کو اپنانا مشکل ہے، اسی طرح اس سے نکلنا مشکل تر ہو جاتا ہے۔

اس عرصے میں آپ پوری دنیا سے چھپ کر اپنے غم کو دل میں چھپائے، دن رات بھی روتے رہیں تو کوئی دیکھنے والا نہیں ہوتا۔ جیسے ہی یہ احساس ہو کہ اب اس گھر سے باہر جانا، اور زندگی کی دوڑ میں شریک ہونا ہے، تبھی دل جکڑا جاتا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہو گا۔ کیسے آپ لوگوں کی نظروں کا سامنا کریں گے، کیسے اپنی بے چارگی چھپائیں گے۔ اس عرصے میں آپ ایک کمزور شخص کا روپ دھار چکے ہوتے ہیں۔ اب یہ حصار آپ کو سکون دینے لگتا ہے۔ اس کو عبور کرنے کے لیے بھی وقت کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب کہ ہم بہ حیثیت معاشرہ یہ سمجھتے ہیں کہ چار ماہ، دس دن کے بعد سب کچھ معمول کے مطابق ہو جائے گا۔ سب پہلے کی طرح ہو گا۔ بہت سے لوگ تسلی بھی دیتے ہیں۔ کچھ استثنائی مثالیں ان خواتین کی بھی ہیں، جو اس مدت کے جلد گزر جانے کی دعائیں بھی کرتی ہیں۔ لیکن عام طور پر یہ سمجھنا ضروری ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے عدت میں بیٹھی ہوئی خاتون کے لیے آسانیاں فراہم کی ہیں، اسی طرح یہ مدتِ سوگ مکمل ہونے کے بعد بھی ہم اس کا خیال رکھیں۔ اسے وہ وقت ضرور دیں کہ وہ تنہا رہنے کا حوصلہ پیدا کرے اور اگلی زندگی کے لیے تیار ہو سکے۔ اب تک وہ جس حصار میں تھی، اس سے نکل کر باہر کی زندگی کے معمولات تک فوری طور پر پہنچنا اس کے بس میں نہیں۔ مسلسل لڑکھڑانے کے بعد ایک دم سے کھڑے ہو جانا بہت مشکل ہوتا ہے۔ ایک خاتون نے اپنی کیفیت جن الفاظ میں بیان کی، وہ اچھے خاصے انسان کو رلا دینے کے لیے کافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے لگتا ہے، چلتے ہوئے ہر قدم کسی گڑھے میں جا دھنستا ہے اور اس سے نکلنا، ہر قدم پر مشکل ہوتا ہے۔

عام زندگی میں بھی اور خاص طور پر ملازمت پیشہ خواتین کے لیے بھی یہ بہت ضروری ہے۔ عدت ختم ہوتے ہی وہ خاتون پہلے کی طرح معمول کے فیصلے نہیں کر سکتی۔ اسے بیوی سے بیوہ بننے کے عمل کو اختیار کرنے دیجیے۔ اسے وہ وقت دیجیے، جس کی اسے ضرورت ہے۔ بعض اوقات تو یہ بھی دیکھے میں آتا ہے کہ عدت مکمل ہوتے ہی دوسری جگہ تبدیلی اس خاتون کی منتظر ہوتی ہے، جو بہ جائے خود ایک ظلم ہے۔ بہ حیثیت اسلامی معاشرے کے فرد، ہم میں سے ہر شخص کو ایسی خواتین کو اس حصار سے باہر قدم رکھنے میں اپنی سی کوشش ضرور کرنی چاہیے۔ عدت کے حصار کا آغاز، تمام مدت اور اختتام، سب خوش سلیقگی کے متقاضی ہیں۔

Facebook Comments HS

One thought on “عدت کا حصار

  • 30/11/2024 at 2:59 شام
    Permalink

    کیسی بہترین اور صبروتحمل سے لبریز تحریر ہے جس کا نچوڑ یہی ہے کہ جب آپ کی دنیا کا نقشہ ہی بدل چکا ہے تو اس سے مانوس ہونے اور دنیا کے معمولات پھر سے نارمل کرنے کے لیے یہ عرصہ بہت ضروری ہے۔

Comments are closed.